سپر ہائی وے پر ٹریفک جام ججوں سمیت اہم شخصیات کی زندگیوں کو خطرہ

زیروپوائنٹ سے سہراب گوٹھ تک بسوں کے دفاتراورپتھاروں سے ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے کے ایم سی اور کمشنرکراچی کو 6ہفتوں میں شہر میں قائم تجاوزات، غیر قانونی پتھاروں اور اسٹالوں کے خاتمے کا حکم دیدیا. فوٹو: فائل

تجاوزات کے باعث ٹریفک جام ہونے سے کراچی سے حیدرآباد کا سفر خطرناک ہوگیا۔

ججوں سمیت اہم شخصیات کوحیدرآباد کا سفر کرتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے جبکہ ٹریفک پولیس کا موقف ہے کہ اگر ٹریفک کی روانی کے لیے سخت کارروائی کی گئی تو امن وامان کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے، سندھ ہائیکورٹ نے کے ایم سی اور کمشنرکراچی کو 6ہفتوں میں شہر میں قائم تجاوزات، غیر قانونی پتھاروں اور اسٹالوں کے خاتمے کا حکم دیدیا ،عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک کو حکم دیا کہ تجاوزات کے خاتمے کیلیے تعاون کریں اور رکاوٹ بننے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،عدالت نے آبزرو کیا کہ ٹریفک پولیس ٹرانسپورٹرز سے ملی ہوئی ہے اور انتظامیہ کی غفلت کے باعث ٹریفک جام کے مسائل اور تجاوزات قائم ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں شہریوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ٹریفک کے مسائل کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی۔


اس موقع پرایس ایس پی ٹریفک عاشق بوزدار نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ سپر ہائی وے پر زیرو پوائنٹ سے سہراب گوٹھ تک انٹرسٹی بسوں کے بکنگ آفس، کائونٹرز،کیبن ،ٹھیلے اور پتھارے قائم ہیں جس کے باعث ٹریفک جام ہوجاتا ہے، الآصف اسکوائر پر انٹرسٹی بسیں آکر رکتی ہیں جس کے باعث معمول کا ٹریفک متاثر ہوتا ہے،اگر اس علاقے میں تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تو امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم اگر ضلعی انتظامیہ رینجرز اور پولیس کے ساتھ کارروائی کرے تو ٹریفک پولیس ان کی معاونت کریگی ۔

شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے 2007میں اہم اجلاس سٹی ناظم مصطفی کمال کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا جس میں انٹرسٹی بس اڈوں کی بیرون شہر منتقلی سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے تھے،فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں کوئٹہ جانے والی بسوں کا اڈہ پرانی سبزی منڈی سے یوسف گوٹھ حب ریور روڈ منتقل ہوگیا تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں دیگر شہروں میں جانے والی بسوں کو بھی بیرون شہر منتقل کیا جانا تھا مگر متبادل جگہ فراہم نہ کیے جانے کے سبب اس پر عمل نہیں ہوسکا،اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں بھی متعدد درخواستیںزیر التوا ہیں ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے غیر قانونی پتھاروں کو ختم کیا جائے اور 6ہفتوں میں تجاوزات کے خاتمے کی رپورٹ پیش کی جائے،واضح رہے کہ رجسٹرار آفس حیدرآباد نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سپرہائی وے پر تجاوزات کے باعث شدید ٹریفک جام ہو جاتا ہے، صورتحال ایسی ہوتی ہے کہ انکی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں ،چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے ٹریفک پولیس سے صورتحال کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی ۔
Load Next Story