امن کی بحالی کے لیے عوام اٹھ کھڑے ہوں محمد حسین محنتی

سیاسی رہنمائوں،وکلا ،علما،تاجروںاور عوام سے رابطے کا آغاز کردیا ہے.

حکومت امن قائم نہیں کر سکتی تومستعفی ہو جائے، صوبائی امیر جماعت اسلامی فوٹو : فائل

امیر جماعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی نے ڈبل سواری پر پابندی کے بعد موٹر سائیکل چلانے پر پابندی 'موبائل فون پر پابندی اور سرشام کاروبار بند کرنے کے احکامات کو غیر آئینی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات حکومت کی جانب سے ازخود اپنی ناکامی کا اعتراف ہے اگر حکومت امن قائم نہیں کر سکتی تو ایسے اقدامات کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے۔


چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کلب میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پریس کانفرنس سے جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکریٹری نسیم صدیقی ،مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلیم ضیا اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اسلم غوری نے بھی خطاب کیا،محمد حسین محنتی نے کہاکہ کراچی جیسا شہر آج عملا ً مقتل گاہ بنا ہوا ہے'10سے 15افراد کی ہلاکتیں معمول بن گئی ہیں'روشنیوں کے شہر کو مسائل کی آماجگاہ بنادیاگیاہے ۔

ایسی صورتحال میں ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے ،جماعت اسلامی نے کراچی میں بحالی امن کیلیے تحریک چلانے کا جو اعلان کیا تھا اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں ،وکلا ، دانشوروںعلمائے کرام،تاجروں اور عوام سے بڑے پیمانے پر رابطے کا آغاز کردیاہے ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی میں امن کی بحالی کیلیے اب تمام طبقے کے افراد کو اٹھ کھڑا ہونا ہوگا،اسلم غوری نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اگر موٹر سائیکل پر پابندی کے خلاف فیصلہ نہ سناتے تو 15لاکھ افراد متاثر ہوتے،حکومت خود خوف و ہراس پیدا کر رہی ہے ،کراچی میں کسی اور قوت کو بلانے کی سازش ہے،سلیم ضیا نے کہا کہ کراچی کے دوکروڑ عوام کرب سے گذر رہے ہیں ، رحمن ملک کے فیصلوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتے ہیں ،انھوں نے کہا کہ حکومت نے طے کرلیا ہے کہ مسئلے کو جڑ سے ختم نہیں کرنا ہے، موٹر سائیکل پر پابندی اور کاروبار کے اوقات کار مقرر کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے، وسائل اور ایجنسیوں کے باوجود امن قائم نہیں ہو رہا،مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے کراچی کا امن تباہ ہوا ہے۔
Load Next Story