جرمن حکومت کے اشتراک سے13مرکزی بلڈ بینکس قائم کئے جائیں گے

بلڈ بینکس کراچی، حیدرآباد، سکھر اور نوابشاہ میںکھولے جائیںگے،جدید ترین مشینیں اورکٹس بھی فراہم کی جائیں گی.

سندھ میں4مرکزی بلڈ بینکس میں ایک لاکھ10 ہزارمحفوظ خون کے بیگزبیک وقت دستیاب ہوںگے، ڈاکٹر زاہد انصاری۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستان میں پہلی بارجرمن حکومت کے اشتراک سے 13مرکزی بلڈ بینکس(سینٹرل الائزڈبلڈ بینکس) قائم کیے جارہے ہیں۔


ان میںکراچی سمیت سندھ میں 4مرکزی بلڈ بینکس قائم ہوںگے جہاں ایک لاکھ10 ہزارمحفوظ خون کے بیگزبیک وقت دستیاب ہوںگے، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے بتایاکہ جرمن حکومت کے تعاون سے13سینٹرلائزڈ بلڈ بینکس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے،سندھ میں قائم ہونے والے 4بلڈبینکس میں سے ایک کراچی کے سندھ گورنمنٹ قطراسپتال،ایک حیدرآباد، ایک سکھر اورایک بلڈ بینک نوابشاہ میں قائم کیاجائیگا،انھوں نے بتایا کہ کروڑوں روپے مالیت سے ملک میں 13سینٹرل الائزڈ بلڈ بینکس تعمیرکیے جائیں گے جس میں محفوظ خون کی فراہمی کویقینی بنانے کیلیے جدیدترین مشینیں اورکٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔

سندھ میں صوبائی سیکریٹری صحت آفتاب کھتری نے چاربلڈ بینکوںکی تعمیرات کیلیے ٹینڈرزکی بھی منظوری دیدی ہے، ان کی تعمیرات کاکام آئندہ ماہ سے شروع کردیاجائیگا،سیکریٹری صحت آفتاب کھتری نے بتایاکہ بلڈبینکوںکی تعمیرات کاکام 2سال میں مکمل کرلیاجائیگاجس کے بعدکراچی میں قائم کیے جانے والے بلڈ بینک میں بیک وقت50ہزار بلڈ بیگزکی سہولت دستیاب ہو گی، انھوں نے بتایا کہ حیدرآباد ،سکھراورنوابشاہ کے بلڈ بینک میں 20ہزاربلڈ بیگزکی سہولت میسر ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سندھ میں بیک وقت ایک لاکھ10ہزارخون کی بوتلیں میسر ہونگی۔
Load Next Story