تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی تعداد میں اضافہ خون کی قلت
ان کی زندگی کوبچانے کے لیے سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوںکی ضرورت ہوتی ہے.
ان کی زندگی کوبچانے کے لیے سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوںکی ضرورت ہوتی ہے ۔ فوٹو : فائل
ملک میں تھیلیسیمیاکے مرض میں مبتلا بچوںکی تعداد میں اضافے کے بعد محفوظ خون کی شدید قلت ہوگئی ہے۔
ملک بھر ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا میجرکے مرض میں مبتلا ہیں ان بچوں کی زندگی کوبچانے کیلیے سالانہ 18 لاکھ خون کی بوتلوںکی اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ8لاکھ خون کی بوتلیں دستیاب ہوتی ہیں جس سے 25 سے 40 فیصد بچوںکوصحت مندانہ خون فراہم کیاجارہا ہے، 60 فیصد بچے صحت مندانہ اور مطلوبہ مقدار خون سے محروم ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ان بچوںکی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایاکہ ملک میں ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا میجرکے مرض میں مبتلا ہیں جن کی زندگیاں بچانے کیلیے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ اور سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں8لاکھ خون جمع ہوتا ہے،دوسری جانب ملک میں سرکاری سطح پرسینٹرل الائزڈ بلڈ بینک نہ ہونے کی وجہ سے متاثر افراد کوخون کے حصول کیلیے نجی بلڈ بینکوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے ۔
ملک بھر ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا میجرکے مرض میں مبتلا ہیں ان بچوں کی زندگی کوبچانے کیلیے سالانہ 18 لاکھ خون کی بوتلوںکی اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ8لاکھ خون کی بوتلیں دستیاب ہوتی ہیں جس سے 25 سے 40 فیصد بچوںکوصحت مندانہ خون فراہم کیاجارہا ہے، 60 فیصد بچے صحت مندانہ اور مطلوبہ مقدار خون سے محروم ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ان بچوںکی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایاکہ ملک میں ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا میجرکے مرض میں مبتلا ہیں جن کی زندگیاں بچانے کیلیے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ اور سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں8لاکھ خون جمع ہوتا ہے،دوسری جانب ملک میں سرکاری سطح پرسینٹرل الائزڈ بلڈ بینک نہ ہونے کی وجہ سے متاثر افراد کوخون کے حصول کیلیے نجی بلڈ بینکوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے ۔