معاملات جمہوری انداز میں حل ہونے چاہئیں
اپوزیشن کا آئینی کردار حکومت کے بلاامتیاز قانونی اور شائستہ طریقے سے احتساب پر مبنی ہے
شفاف احتسابی نظام کے قیام کی کوشش میں سیاستدان قومی امنگوں کو پیش نظر رکھیں، فوٹو : فائل
KARACHI:
مشترکہ اپوزیشن نے منگل کو متفقہ ٹی او آرز کا اعلان کردیاجس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن وزیراعظم سے 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرے جب کہ پانامہ لیکس میں شامل دیگر افراد کی انکوائری ایک سال میں مکمل کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
اجلاس میں نواز شریف کے استعفے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ پانامہ لیکس کے تناظر میں حکومت کے خلاف اپوزیشن کے بعض امور پر کہیں اختلاف اور کہیں اتفاق کے حوالے سے صورتحال خاصی گمبھیر سی ہوگئی ہے تاہم مبصرین اسے جمہوری اور آئینی دائرہ کار میں احتساب کے ایک ناگزیر نظام کی داغ بیل ڈالنے سے تعبیر کر رہے ہیں جو جمہوریت کا بنیادی ستون کہا جا سکتا ہے۔ پانامہ پیپرز میں وزیراعظم محمد نوازشریف کے خاندان کے افراد کی آف شورکمپنیوں کے انکشاف کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ اپوزیشن نے ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق کر لیا ہے ۔
ٹرمز آف ریفرنس میں کہا گیا کہ خصوصی قانون کے تحت کمیشن بنایا جائے، وزیراعظم اور ان کے خاندان کے اثاثوں، ذرایع آمدنی، ٹیکس کی تفصیلات کی تحقیقات ہوں، فارنسک آڈٹ کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کی جائے، تمام سرکاری ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے ۔
ادھر وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اپوزیشن کے ٹی او آرز پر مشاورت کی گئی، وزیر اعظم کی قانونی ٹیم نے ٹی او آرز پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ سیاست میں حزب اقتدار و حزب اختلاف دونوں جمہوری گاڑی کے دو پہیے ہیں، اپوزیشن کا آئینی کردار حکومت کے بلاامتیاز قانونی اور شائستہ طریقے سے احتساب پر مبنی ہے جب کہ قوم اس بحران سے نکلنے کے لیے سیاست دانوں کے حکمت و تدبر پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہے۔ شفاف احتسابی نظام کے قیام کی کوشش میں سیاستدان قومی امنگوں کو پیش نظر رکھیں جب کہ حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جائیں۔تمام معاملات جمہوری انداز میں حل ہونے چاہئیں۔
مشترکہ اپوزیشن نے منگل کو متفقہ ٹی او آرز کا اعلان کردیاجس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن وزیراعظم سے 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرے جب کہ پانامہ لیکس میں شامل دیگر افراد کی انکوائری ایک سال میں مکمل کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
اجلاس میں نواز شریف کے استعفے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ پانامہ لیکس کے تناظر میں حکومت کے خلاف اپوزیشن کے بعض امور پر کہیں اختلاف اور کہیں اتفاق کے حوالے سے صورتحال خاصی گمبھیر سی ہوگئی ہے تاہم مبصرین اسے جمہوری اور آئینی دائرہ کار میں احتساب کے ایک ناگزیر نظام کی داغ بیل ڈالنے سے تعبیر کر رہے ہیں جو جمہوریت کا بنیادی ستون کہا جا سکتا ہے۔ پانامہ پیپرز میں وزیراعظم محمد نوازشریف کے خاندان کے افراد کی آف شورکمپنیوں کے انکشاف کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ اپوزیشن نے ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق کر لیا ہے ۔
ٹرمز آف ریفرنس میں کہا گیا کہ خصوصی قانون کے تحت کمیشن بنایا جائے، وزیراعظم اور ان کے خاندان کے اثاثوں، ذرایع آمدنی، ٹیکس کی تفصیلات کی تحقیقات ہوں، فارنسک آڈٹ کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کی جائے، تمام سرکاری ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے ۔
ادھر وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اپوزیشن کے ٹی او آرز پر مشاورت کی گئی، وزیر اعظم کی قانونی ٹیم نے ٹی او آرز پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ سیاست میں حزب اقتدار و حزب اختلاف دونوں جمہوری گاڑی کے دو پہیے ہیں، اپوزیشن کا آئینی کردار حکومت کے بلاامتیاز قانونی اور شائستہ طریقے سے احتساب پر مبنی ہے جب کہ قوم اس بحران سے نکلنے کے لیے سیاست دانوں کے حکمت و تدبر پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہے۔ شفاف احتسابی نظام کے قیام کی کوشش میں سیاستدان قومی امنگوں کو پیش نظر رکھیں جب کہ حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جائیں۔تمام معاملات جمہوری انداز میں حل ہونے چاہئیں۔