پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی طاقت ہے
امریکا سمیت عالمی برادری کو بھارتی عزائم اور اس کی ڈھکی چھپی سفارتکاری کے پس پردہ پاکستان فوبیا کا ادراک کرنا چاہیے
اللہ کے فضل سے ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہر قسم کے چیلنجزکا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے. فوٹو: فائل
پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہم ایک ذمے دار ایٹمی طاقت ہیں، دنیا بھر میں ایٹمی تحفظ سے متعلق موثرکردار ادا کر رہے ہیں، انھوں نے امریکا بھارت سول جوہری معاہدے پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر بھارت نے ایٹمی صلاحیت بڑھائی تو پاکستان کو بھی نظر ثانی کرنا پڑے گی ، امریکا سے ایف سولہ طیارے انسداد دہشتگردی مہم کے لیے ضروری ہے امریکا نے ایف سولہ طیاروں کی پاکستان کو فروخت کی منظوری دے رکھی ہے، ڈاکٹرشکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی دباؤ قبول نہیں ۔
منگل کو اسلام آباد میں ایٹمی عدم پھیلاؤ سے متعلق سیمینار سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے حقیقت میں عالمی برادری سمیت امریکی انتظامیہ پر خطے کو درپیش ہمہ جہتی مسائل اور خطرات سے آگاہ کیا اور ایف 16 طیاروں کی فروخت کو امریکی کانگریس کی طرف سے معرض التوا میں ڈالتے ہوئے پاکستان سے ''پیسے دو طیارے لو'' کا جو طرز عمل اختیار کیا ہے وہ صریحاً بھارتی لابی کی طرف افسوس ناک جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکی انکار کے بعد بھارتی میڈیا اسے اپنی فتح گردانتا ہے اور ''دی ہندو''نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت پاکستان کو ایف 16 کی فروخت کی شد و مد سے مخالفت کرتا رہا ہے،اور اب پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ وہ کسی اور سے فائٹر طیارے لے گا۔
اخبار نے اسے ''ڈپلومیٹک کو'' قرار دیتے ہوئے شیخی بگھاری کہ ڈیل میں پسپائی کے باعث اب وزیراعظم مودی کے آیندہ ماہ جون میں دورہ امریکا کا اسٹیج سجے گا۔ سرتاج عزیز نے ایف 16 ڈیل میں رخنہ اندازی کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں درست استدلال کیا ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی طاقت ہے جو دنیا میں ایٹمی عدم پھیلاؤکا حامی ہے ، اللہ کے فضل سے ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہر قسم کے چیلنجزکا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن خراب ہونے کا احتمال ہو، اس ضمن میں انھوں نے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات ، جو ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں،کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شکیل آفریدی امریکا کے لیے ہیرو ہے لیکن پاکستان کا مجرم ہے اس کا معاملہ ابھی عدالت میں ہے جو فیصلہ ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔ یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہرزہ سرائی کی تھی کہ وہ صدر بن گئے تو دو منٹ میں شکیل آفریدی کو رہا کرائیں گے ۔ جس کا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بروقت جواب دیا کہ ٹرمپ بات کرنا سیکھے ، پاکستان امریکی کالونی نہیں ہے لیکن ٹرمپ کے انداز گفتگو سے لگتا ہے کہ انکل سام کا مائنڈ سیٹ اپنے سوا دنیا کو امریکی توسیع ہی سمجھتا ہے۔
مشیر خارجہ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کی اصولی طور پر منظوری دے رکھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکا کے ساتھ ایف سولہ طیاروں کی فنڈنگ کا معاملہ حل نہیں ہوا تو پاکستان دیگرآپشنزپرغورکریگا۔ امریکا نے یکم مئی کو بیان جاری کیا تھا کہ ایف 16 طیارے پاکستان کے لیے مددگار ثابت ہونگے مگر کچھ کانگریسی ارکان تحفظات کا اظہار کررہے ہیں جب کہ پاکستان کا خدشہ درست ثابت ہوا کہ وہ تحفظات نہیں ایک لابی کی شرارت تھی۔
اصل میں ایف 16 کی ڈیل اس نکتہ پر تھی کہ اس جنگی ایئر کرافٹ سے پاک فضائیہ کی کاؤنٹرانسرجنسی اور کاؤنٹر ٹیررازم کے خلاف صلاحیت مزید بہتر ہوگی،اس ڈیل کی یو ایس ڈیفنس سیکیورٹی کوآرڈینیشن ایجنسی نے توثیق کی تھی جو غیر ملکی اسلحہ کی خرید وفروخت میں رابطہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔
ادھر 4 مئی کو اپنی روزمرہ بریفنگ میں امریکی ترجمان محکمہ خارجہ جان کربی نے ایک سوال پر جو چین سے جنگی طیارے خریدنے کے بارے میں تھا، کہا کہ قوموں کے درمیان ایسے خود مختارانہ فیصلے ہوتے ہیں جو وہ اپنی دفاعی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات ہمارے لیے بہت اہم ہیں ، پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کاوشوں کو امریکا نے ہمیشہ سراہا اور ایساکرتا رہے گا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات میں ہمیں کسی قسم کے بریک تھروکی توقع نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
حقیقت میں امریکا سمیت عالمی برادری کو بھارتی عزائم اور اس کی ڈھکی چھپی سفارتکاری کے پس پردہ پاکستان فوبیا کا ادراک کرنا چاہیے کیونکہ گزشتہ روز بھارتی اخبار ''ایشین ایج''نے مودی کو خبردار کیا کہ وہ ''پاک کارڈ'' احتیاط سے استعمال کرے، جب کہ بھارتی میڈیا کے خیال میں بھارتی ڈرامائی خارجہ پالیسی شفٹ کا بنیادی مسئلہ پاکستان ہے جو اس کے حصے بخرے کرنے کا خواہاں ہے اس لیے مسئلہ چیلنجنگ ہے تاکہ کسی بیرونی طاقت کے حکم پر بھارت امن کو خود پر مسلط نہ کرے۔ اب اس کا کیا علاج ؟ کسی عالمی چارہ گر کے پاس ہے تو سامنے آئے۔
منگل کو اسلام آباد میں ایٹمی عدم پھیلاؤ سے متعلق سیمینار سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے حقیقت میں عالمی برادری سمیت امریکی انتظامیہ پر خطے کو درپیش ہمہ جہتی مسائل اور خطرات سے آگاہ کیا اور ایف 16 طیاروں کی فروخت کو امریکی کانگریس کی طرف سے معرض التوا میں ڈالتے ہوئے پاکستان سے ''پیسے دو طیارے لو'' کا جو طرز عمل اختیار کیا ہے وہ صریحاً بھارتی لابی کی طرف افسوس ناک جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکی انکار کے بعد بھارتی میڈیا اسے اپنی فتح گردانتا ہے اور ''دی ہندو''نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت پاکستان کو ایف 16 کی فروخت کی شد و مد سے مخالفت کرتا رہا ہے،اور اب پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ وہ کسی اور سے فائٹر طیارے لے گا۔
اخبار نے اسے ''ڈپلومیٹک کو'' قرار دیتے ہوئے شیخی بگھاری کہ ڈیل میں پسپائی کے باعث اب وزیراعظم مودی کے آیندہ ماہ جون میں دورہ امریکا کا اسٹیج سجے گا۔ سرتاج عزیز نے ایف 16 ڈیل میں رخنہ اندازی کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں درست استدلال کیا ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی طاقت ہے جو دنیا میں ایٹمی عدم پھیلاؤکا حامی ہے ، اللہ کے فضل سے ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہر قسم کے چیلنجزکا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن خراب ہونے کا احتمال ہو، اس ضمن میں انھوں نے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات ، جو ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں،کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شکیل آفریدی امریکا کے لیے ہیرو ہے لیکن پاکستان کا مجرم ہے اس کا معاملہ ابھی عدالت میں ہے جو فیصلہ ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔ یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہرزہ سرائی کی تھی کہ وہ صدر بن گئے تو دو منٹ میں شکیل آفریدی کو رہا کرائیں گے ۔ جس کا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بروقت جواب دیا کہ ٹرمپ بات کرنا سیکھے ، پاکستان امریکی کالونی نہیں ہے لیکن ٹرمپ کے انداز گفتگو سے لگتا ہے کہ انکل سام کا مائنڈ سیٹ اپنے سوا دنیا کو امریکی توسیع ہی سمجھتا ہے۔
مشیر خارجہ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کی اصولی طور پر منظوری دے رکھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکا کے ساتھ ایف سولہ طیاروں کی فنڈنگ کا معاملہ حل نہیں ہوا تو پاکستان دیگرآپشنزپرغورکریگا۔ امریکا نے یکم مئی کو بیان جاری کیا تھا کہ ایف 16 طیارے پاکستان کے لیے مددگار ثابت ہونگے مگر کچھ کانگریسی ارکان تحفظات کا اظہار کررہے ہیں جب کہ پاکستان کا خدشہ درست ثابت ہوا کہ وہ تحفظات نہیں ایک لابی کی شرارت تھی۔
اصل میں ایف 16 کی ڈیل اس نکتہ پر تھی کہ اس جنگی ایئر کرافٹ سے پاک فضائیہ کی کاؤنٹرانسرجنسی اور کاؤنٹر ٹیررازم کے خلاف صلاحیت مزید بہتر ہوگی،اس ڈیل کی یو ایس ڈیفنس سیکیورٹی کوآرڈینیشن ایجنسی نے توثیق کی تھی جو غیر ملکی اسلحہ کی خرید وفروخت میں رابطہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔
ادھر 4 مئی کو اپنی روزمرہ بریفنگ میں امریکی ترجمان محکمہ خارجہ جان کربی نے ایک سوال پر جو چین سے جنگی طیارے خریدنے کے بارے میں تھا، کہا کہ قوموں کے درمیان ایسے خود مختارانہ فیصلے ہوتے ہیں جو وہ اپنی دفاعی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات ہمارے لیے بہت اہم ہیں ، پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کاوشوں کو امریکا نے ہمیشہ سراہا اور ایساکرتا رہے گا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات میں ہمیں کسی قسم کے بریک تھروکی توقع نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
حقیقت میں امریکا سمیت عالمی برادری کو بھارتی عزائم اور اس کی ڈھکی چھپی سفارتکاری کے پس پردہ پاکستان فوبیا کا ادراک کرنا چاہیے کیونکہ گزشتہ روز بھارتی اخبار ''ایشین ایج''نے مودی کو خبردار کیا کہ وہ ''پاک کارڈ'' احتیاط سے استعمال کرے، جب کہ بھارتی میڈیا کے خیال میں بھارتی ڈرامائی خارجہ پالیسی شفٹ کا بنیادی مسئلہ پاکستان ہے جو اس کے حصے بخرے کرنے کا خواہاں ہے اس لیے مسئلہ چیلنجنگ ہے تاکہ کسی بیرونی طاقت کے حکم پر بھارت امن کو خود پر مسلط نہ کرے۔ اب اس کا کیا علاج ؟ کسی عالمی چارہ گر کے پاس ہے تو سامنے آئے۔