آفتاب کی موت ایم کیوایم کا پرامن احتجاج
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نےآفتاب احمد کی موت کی تحقیقات کا حکم دےدیا ہےجب کہ رینجرز نے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کی ہے
سندھ اسمبلی میں منگل کودوسرے دن بھی ایم کیو ایم کے اراکین نے کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملے پرسخت احتجاج کیا ۔ فوٹو:فائل
KARACHI:
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹرآفتاب احمد رینجرز کی تحویل میں پراسرار طور پر انتقال کر گئے، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آفتاب احمد کی موت کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جب کہ رینجرز نے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کی ہے، ترجمان رینجرز کے مطابق واقعے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق آفتاب کو منگل کی صبح تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا، مجسٹریٹ کی نگرانی میں میڈیکل بورڈ نے پوسٹ مارٹم کیا اور رپورٹ محفوظ کرلی، جب کہ فاروق ستار نے تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے بدھ کو ملک بھر میں ایم کیوایم کی جانب سے پرامن یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ۔ ایم کیو ایم نے شہر قائد کے مختلف مقامات پر پر امن احتجاج کیا ۔
کراچی کی صورتحال بڑی ہوشمندی ، انسان دوستی ، رواداری ، امن و انصاف کے قیام اور ہر قسم کے جرائم کے خاتمے میں اشتراک عمل کی متقاضی ہے، مجرمانہ سرگرمیوں اور بدامنی کے باعث کراچی کا سیاسی وسماجی چہرہ مسخ ہوچکا ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جملہ مساعی سے کنٹرول کرنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس ضمن میں احتیاط اور قانون و آئینی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھنا اشد ضروری ہے ۔ متوفی کی پراسرا موت کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ متوفی کوآرڈینیٹرآفتاب کی نمازجنازہ نمائش چورنگی پرادا کر کے شہدا قبرستان میں تدفین کردی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ آفتاب کی وجہ موت کے تعین کے لیے ضلع ساؤتھ کے مجسٹریٹ کی نگرانی میں میڈیکل بورڈنے اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا، پوسٹ مارٹم میڈیکل بورڈ میں سندھ میڈیکل شعبہ فارنسک کے ڈاکٹرسونومل ، ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر کلیم اور میڈیکل لیگل آفسیر جناح اسپتال ڈاکٹر اعجاز کی نگرانی میں کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل پولیس سرجن کلیم شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ فوری طور پر وجہ موت کا تعین نہیں ہوسکا، پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے۔
ادھرایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے زیرحراست ڈپٹی کنوینئر شاہد پاشا کو منگل کی شام رینجرز نے رہا کردیا ، وہ90روز کے لیے رینجرز کی تحویل میں تھے، دریں اثنا سندھ اسمبلی میں منگل کودوسرے دن بھی ایم کیو ایم کے اراکین نے کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملے پرسخت احتجاج کیا ۔ اسپیکر نے ایجنڈے کے بقیہ آئٹمز اٹھائے بغیر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔
صائب مشورہ یہی دیا جاسکتا ہے کہ حکومت سندھ بھی واقعے کی تحقیقات کرائے تاکہ ایم کیو ایم اور متوفی کے اہل خانہ کو ان کی الم ناک موت کے بارے میں قیاس آرائیوں پر انحصار نہ کرنا پڑے ، رینجرز کا موقف بھی سامنے آئے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا فوری اجرا لازمی ہے تاکہ حقیقت سامنے آئے۔تاہم شہر قائد میں امن وامان کے قیام اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے پیش نظر ایم کیو ایم کا اس واقعے کے رد عمل میں سوگ اور پرامن احتجاج تبدیل شدہ شہری حالات اور سنجیدہ جمہوری انداز فکر کی بھرپور نمایندگی کرتا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹرآفتاب احمد رینجرز کی تحویل میں پراسرار طور پر انتقال کر گئے، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آفتاب احمد کی موت کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جب کہ رینجرز نے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کی ہے، ترجمان رینجرز کے مطابق واقعے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق آفتاب کو منگل کی صبح تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا، مجسٹریٹ کی نگرانی میں میڈیکل بورڈ نے پوسٹ مارٹم کیا اور رپورٹ محفوظ کرلی، جب کہ فاروق ستار نے تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے بدھ کو ملک بھر میں ایم کیوایم کی جانب سے پرامن یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ۔ ایم کیو ایم نے شہر قائد کے مختلف مقامات پر پر امن احتجاج کیا ۔
کراچی کی صورتحال بڑی ہوشمندی ، انسان دوستی ، رواداری ، امن و انصاف کے قیام اور ہر قسم کے جرائم کے خاتمے میں اشتراک عمل کی متقاضی ہے، مجرمانہ سرگرمیوں اور بدامنی کے باعث کراچی کا سیاسی وسماجی چہرہ مسخ ہوچکا ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جملہ مساعی سے کنٹرول کرنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس ضمن میں احتیاط اور قانون و آئینی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھنا اشد ضروری ہے ۔ متوفی کی پراسرا موت کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ متوفی کوآرڈینیٹرآفتاب کی نمازجنازہ نمائش چورنگی پرادا کر کے شہدا قبرستان میں تدفین کردی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ آفتاب کی وجہ موت کے تعین کے لیے ضلع ساؤتھ کے مجسٹریٹ کی نگرانی میں میڈیکل بورڈنے اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا، پوسٹ مارٹم میڈیکل بورڈ میں سندھ میڈیکل شعبہ فارنسک کے ڈاکٹرسونومل ، ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر کلیم اور میڈیکل لیگل آفسیر جناح اسپتال ڈاکٹر اعجاز کی نگرانی میں کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل پولیس سرجن کلیم شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ فوری طور پر وجہ موت کا تعین نہیں ہوسکا، پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے۔
ادھرایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے زیرحراست ڈپٹی کنوینئر شاہد پاشا کو منگل کی شام رینجرز نے رہا کردیا ، وہ90روز کے لیے رینجرز کی تحویل میں تھے، دریں اثنا سندھ اسمبلی میں منگل کودوسرے دن بھی ایم کیو ایم کے اراکین نے کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملے پرسخت احتجاج کیا ۔ اسپیکر نے ایجنڈے کے بقیہ آئٹمز اٹھائے بغیر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔
صائب مشورہ یہی دیا جاسکتا ہے کہ حکومت سندھ بھی واقعے کی تحقیقات کرائے تاکہ ایم کیو ایم اور متوفی کے اہل خانہ کو ان کی الم ناک موت کے بارے میں قیاس آرائیوں پر انحصار نہ کرنا پڑے ، رینجرز کا موقف بھی سامنے آئے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا فوری اجرا لازمی ہے تاکہ حقیقت سامنے آئے۔تاہم شہر قائد میں امن وامان کے قیام اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے پیش نظر ایم کیو ایم کا اس واقعے کے رد عمل میں سوگ اور پرامن احتجاج تبدیل شدہ شہری حالات اور سنجیدہ جمہوری انداز فکر کی بھرپور نمایندگی کرتا ہے۔