ایکسپریس نیوزکی ٹیم نے3غیرقانونی کلینک بند کرا دیے

ٹیمپل روڈپر’’ بات سے بات‘‘ کی اینکرپرسن ڈاکٹرماریہ ذوالفقاراورمجازحکام کے چھاپے۔

صفیہ کلینک،صوفیہ کلینک،مریم کلینک سستے علاج کے نام پرلوگوںکولوٹ رہے تھے. فوٹو: فائل

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''بات سے بات'' کی ٹیم نے ٹیمپل روڈ پر تین غیرقانونی کلینکس پر چھاپہ مارکرانھیں سیل کرادیا تینوںکلینکس اسقاط حمل اورسستے علاج کے نام پرعوام کولوٹنے کے دھندے میں ملوث تھے۔


پروگرام'' بات سے بات'' کی اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار نے پولیس اورمحکمہ ہیلتھ کے مجاز افسران کے ساتھ ٹیمپل روڈ پر صفیہ کلینک ،صوفیہ کلینک اور مریم کلینک پر چھاپہ مارا ۔پروگرام کی ٹیم کی طرف سے بھیجے گئے فرضی مریض سے گفتگو میں صفیہ کلینک پر موجود خاتون نے پہلے خود کو گائنا کالوجسٹ ظاہر کیا اور کہاکہ ہم پندرہ ہزار میں اسقاط حمل کردیںگے لیکن جب ایکسپریس کی ٹیم پہنچی تو خاتون نے خود کو ہیومیوپیتھک ڈاکٹر قرار دیا۔کلینک پرموجودجعلی ڈاکٹرنے کہا کہ ہم اسقاط نہیں کرتے لیکن اسقاط حمل سے منسلک اوزار وہاں موجودتھے۔

میںکلینک کی مالک نہیںہوں میرے خالوانورسعید ڈی ایس پی اس کے مالک ہیں۔ ایکسپریس کی ٹیم جب اگلے کلینک پرگئی توکلینک پرموجودجعلی ڈاکٹر کلینک بندکرکے بھاگ گئی ۔ٹیمپل روڈ پرواقع صوفیہ کلینک پرخاتون ڈاکٹر نے کہاکہ میں دوسال سے یہ کلینک چلا رہی ہوں ہم یہاں پر اسقاط حمل نہیں کرتے ہم صرف نارمل ڈلیوری کرتے ہیں۔رجسٹریشن لیٹر نہ دکھانے پرکلینک کوسیل کردیا گیا۔ ایکسپریس کی ٹیم جب تیسرے کلینک پہنچی تووہاں ایک باریش شخص اسٹیتھو اسکوپ گلے میں ڈالے مریض چیک کررہا تھا، اس نے کہامیرا بیٹا ایم بی بی ایس ڈاکٹرہے، وہ کھانا کھانے گیا ہے۔کلینک کے مالک ڈاکٹرمعظم نے کہاکہ میں نے فلپائن سے میڈیسن کی ہے۔تینوں کلینکس کو سیل کرکے جعلی ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
Load Next Story