سندھ کابینہ بغیر کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ والے اسلحہ لائسنس منسو خ کرنے کا فیصلہ
بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سازشیں کی جارہی ہیں،کرائم پنجاب میں زیادہ ہیں،میڈیا کراچی کوٹارگٹ کرتا ہے
9 اور10 محرم کو فوج کو طلب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،اصغر خان کیس کے بعد نوازشریف کو سیاست سے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، شرجیل میمن کی اجلاس کے بعد میڈیاکو بریفنگ فوٹو: اے پی پی/ فائل
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں امن وامان خصوصاً محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی الرٹ ہے۔
یکم محرم کو15 ملزمان گرفتار کیے جن سے تفتیش کی جارہی ہے ، اسلحہ لائسنس کوکمپیوٹرائزڈ نہ کرنے والوں کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے ، صدرکی ہمشیرہ اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جو درخواست دائر کی ہے وہ پورے پاکستان کی سیکیورٹی کے حوالے سے ہے اسے کسی اور تناظر میں نہ دیکھا جائے ، اغوا برائے تاوان کی سب سے زیادہ وارداتیں پنجاب میں ہوتی ہیں ، کراچی میں کرائم کی واردات کو میڈیا زیادہ دکھاتا ہے جبکہ پنجاب کے حوالے سے کرائم کو نمایاں نہیں دکھایا جاتا ، ملزمان کو پکڑنے کی پاداش میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہورہے ہیں۔
لیکن اس سے ہمارے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے حوصلے کو پست نہیں کیا جا سکتا ، سندھ اسمبلی میں گواہوں کے تحفظ کا بل لانے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے، وہ جمعے کو وزیراعلی ہائوس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات اور امن و امان کے حوالے سے منعقدہ سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دے رہے تھے، سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ ، مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور مشیران نے شرکت کی، بعدازاں سندھ کابینہ کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یکم محرم کے جلوس کو بھی اسی طرح سیکیورٹی فراہم کی ہے جس طرح9 اور10 محرم کے جلوسوں کوسیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے ۔
یکم محرم کو دہشت گردی کے خطرات تھے ، شہر میں کچھ لوگ امن نہیں چاہتے، وہ بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ، بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سازش کر رہے ہیں،انھوں نے کہا کہ محرم کی جلوس اور مجالس کو مانیٹر کرنے کیلیے بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی جبکہ پولیس نے بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز سینٹرل پولیس آفس میں قائم کردیا ہے، شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے ہائی پروفائل کیسز حل کیے ہیں ، جن میں تین وکلا کے قتل کے ملزمان بھی گرفتار ہوئے ہیں ، پولیس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قاتل بھی گرفتار ہوئے ہیں ، انھوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز ملزمان کو پکڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے ملزمان سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں اور انھیں قتل بھی کیا جا رہا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ پہلے گواہوں کو بھی تحفظ نہیںتھا لیکن موجودہ حکومت صوبائی اسمبلی میں گواہوں کے تحفظ کا بل لانے کی تیاری مکمل کر چکی ہے حکومت کی کوشش ہے کہ کرائم پر مزید بہتر طریقہ سے قابو پایا جاسکے اس ضمن میں حکومت نے شہریوں کو تحفظ کے لیے مختلف اخبارات میں اشتہارات بھی دیے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ ہائوس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سیل قائم کیا ہے جس کا نمبر 919 ہے ، میڈیا سے گزارش ہے کہ ان نمبروں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں تاکہ لوگ کرائم کی اگر کوئی واردات ہوتی دیکھیں تو اس پر نمبر پر اطلاع کریں، شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پولیس کے 126اہلکار قتل ہوئے جبکہ جوملزمان پکڑے گئے ان میں کوئی کانا ہے ، کوئی چٹا ہے ۔
ملزمان کی سیاسی وابستگی سے آگاہ نہیں کرسکتا، موجودہ دور حکومت میں سندھ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور جماعت نہیں ہوتی، انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی الرٹ کا انداز ہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یکم محرم کو15 ملزمان گرفتار کیے ، جن سے تفتیش کی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ محرم کے حوالے سے کراچی ، حیدرآباد اور خیرپور حساس قرار دیے جاچکے ہیں ، جبکہ9 اور 10 محرم کو فوج اسٹینڈ بائی ہوتی ہے لیکن انشااﷲ اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی ، پی پی کی ہر حکومت کے خلاف سازش ہوئی ہے جو ملزمان پے رول پر رہا ہوئے ججز نے پانچ سال تک انھیں بلایا تک نہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ججز بھی برابر کے شریک ہیں ، ولی بابر کیس کے ملزمان کو تختہ زار تک پہنچائیں گے ، نثار کھوڑو اور ایاز سومرو کے گھروں پر دستی حملے ہوئے ہیں۔
اس میں مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر امداد چانڈیو کا بھتیجا ملوث ہے، لاڑکانہ کے صحافی کے رشتے داروں کے قتل میں بھی امداد چانڈیو کا بیٹا شامل ہے جس میں مدعی سرکاری نہیں بلکہ مقامی صحافی خود ہے، انھوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی چوریاں عوام کے سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں ، حدیبیہ پیپرملز کا معاملا ہو یا تندوروں میں اربوں روپے جھونکنا ، لیپ ٹائپ اسکینڈل ہو یا منی لاڈرنگ جس میں خود اسحاق ڈار نوازشریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میاں برادران نے اسامہ بن لادن سے بھاری رقم لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرایا جبکہ اصغر خان کیس میں واضح ثبوتوں کے بعد نوازشریف کو سیاست سے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا لیکن انھیں شرم تک نہیں آتی، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رائے ونڈ کے چور برادران کا حساب عوام کریں گے اور انھیں سیاسی میدان میں بھی شکست نصیب ہوگی، شرجیل میمن نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ججوں کے ریمارکس پر میں کچھ نہیں بولنا چاہتا اگر بولوں گا تو بولے گا کہ بولتا ہے ؟ ۔
یکم محرم کو15 ملزمان گرفتار کیے جن سے تفتیش کی جارہی ہے ، اسلحہ لائسنس کوکمپیوٹرائزڈ نہ کرنے والوں کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے ، صدرکی ہمشیرہ اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جو درخواست دائر کی ہے وہ پورے پاکستان کی سیکیورٹی کے حوالے سے ہے اسے کسی اور تناظر میں نہ دیکھا جائے ، اغوا برائے تاوان کی سب سے زیادہ وارداتیں پنجاب میں ہوتی ہیں ، کراچی میں کرائم کی واردات کو میڈیا زیادہ دکھاتا ہے جبکہ پنجاب کے حوالے سے کرائم کو نمایاں نہیں دکھایا جاتا ، ملزمان کو پکڑنے کی پاداش میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہورہے ہیں۔
لیکن اس سے ہمارے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے حوصلے کو پست نہیں کیا جا سکتا ، سندھ اسمبلی میں گواہوں کے تحفظ کا بل لانے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے، وہ جمعے کو وزیراعلی ہائوس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات اور امن و امان کے حوالے سے منعقدہ سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دے رہے تھے، سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ ، مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور مشیران نے شرکت کی، بعدازاں سندھ کابینہ کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یکم محرم کے جلوس کو بھی اسی طرح سیکیورٹی فراہم کی ہے جس طرح9 اور10 محرم کے جلوسوں کوسیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے ۔
یکم محرم کو دہشت گردی کے خطرات تھے ، شہر میں کچھ لوگ امن نہیں چاہتے، وہ بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ، بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سازش کر رہے ہیں،انھوں نے کہا کہ محرم کی جلوس اور مجالس کو مانیٹر کرنے کیلیے بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی جبکہ پولیس نے بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز سینٹرل پولیس آفس میں قائم کردیا ہے، شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے ہائی پروفائل کیسز حل کیے ہیں ، جن میں تین وکلا کے قتل کے ملزمان بھی گرفتار ہوئے ہیں ، پولیس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قاتل بھی گرفتار ہوئے ہیں ، انھوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز ملزمان کو پکڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے ملزمان سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں اور انھیں قتل بھی کیا جا رہا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ پہلے گواہوں کو بھی تحفظ نہیںتھا لیکن موجودہ حکومت صوبائی اسمبلی میں گواہوں کے تحفظ کا بل لانے کی تیاری مکمل کر چکی ہے حکومت کی کوشش ہے کہ کرائم پر مزید بہتر طریقہ سے قابو پایا جاسکے اس ضمن میں حکومت نے شہریوں کو تحفظ کے لیے مختلف اخبارات میں اشتہارات بھی دیے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ ہائوس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سیل قائم کیا ہے جس کا نمبر 919 ہے ، میڈیا سے گزارش ہے کہ ان نمبروں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں تاکہ لوگ کرائم کی اگر کوئی واردات ہوتی دیکھیں تو اس پر نمبر پر اطلاع کریں، شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پولیس کے 126اہلکار قتل ہوئے جبکہ جوملزمان پکڑے گئے ان میں کوئی کانا ہے ، کوئی چٹا ہے ۔
ملزمان کی سیاسی وابستگی سے آگاہ نہیں کرسکتا، موجودہ دور حکومت میں سندھ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور جماعت نہیں ہوتی، انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی الرٹ کا انداز ہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یکم محرم کو15 ملزمان گرفتار کیے ، جن سے تفتیش کی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ محرم کے حوالے سے کراچی ، حیدرآباد اور خیرپور حساس قرار دیے جاچکے ہیں ، جبکہ9 اور 10 محرم کو فوج اسٹینڈ بائی ہوتی ہے لیکن انشااﷲ اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی ، پی پی کی ہر حکومت کے خلاف سازش ہوئی ہے جو ملزمان پے رول پر رہا ہوئے ججز نے پانچ سال تک انھیں بلایا تک نہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ججز بھی برابر کے شریک ہیں ، ولی بابر کیس کے ملزمان کو تختہ زار تک پہنچائیں گے ، نثار کھوڑو اور ایاز سومرو کے گھروں پر دستی حملے ہوئے ہیں۔
اس میں مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر امداد چانڈیو کا بھتیجا ملوث ہے، لاڑکانہ کے صحافی کے رشتے داروں کے قتل میں بھی امداد چانڈیو کا بیٹا شامل ہے جس میں مدعی سرکاری نہیں بلکہ مقامی صحافی خود ہے، انھوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی چوریاں عوام کے سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں ، حدیبیہ پیپرملز کا معاملا ہو یا تندوروں میں اربوں روپے جھونکنا ، لیپ ٹائپ اسکینڈل ہو یا منی لاڈرنگ جس میں خود اسحاق ڈار نوازشریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میاں برادران نے اسامہ بن لادن سے بھاری رقم لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرایا جبکہ اصغر خان کیس میں واضح ثبوتوں کے بعد نوازشریف کو سیاست سے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا لیکن انھیں شرم تک نہیں آتی، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رائے ونڈ کے چور برادران کا حساب عوام کریں گے اور انھیں سیاسی میدان میں بھی شکست نصیب ہوگی، شرجیل میمن نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ججوں کے ریمارکس پر میں کچھ نہیں بولنا چاہتا اگر بولوں گا تو بولے گا کہ بولتا ہے ؟ ۔