کراچی کوئٹہ میں موبائل فون سروس 8گھنٹے بعد بحال
موٹرسائیکل عام آدمی کی سواری ہے اسے متاثرکیے بغیر تحفظ ممکن بنایا جائے،سندھ ہائیکورٹ
موٹرسائیکل عام آدمی کی سواری ہے اسے متاثرکیے بغیر تحفظ ممکن بنایا جائے،سندھ ہائیکورٹ۔ فوٹو: فائل
کراچی اور کوئٹہ میں یکم محرم الحرام کو حضرت عمرفاروق کے یوم شہادت پر نکالی جانے والی ریلیوں پر دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر بند کی گئی موبائل فون سروس 8گھنٹے بعد بحال کر دی گئی۔
موبائل فون سروس بند ہونے سے جہاں شہر قائد سے پورے ملک کا رابطہ منقطع ہوگیا وہیں تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، موبائل فون سروس کی معطلی سے ٹیلی کام سیکٹر کو20 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرناپڑا،سندھ ہائی کورٹ نے پولیس حکام اور ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ وسیم احمد کو سننے کے بعد احکامات دیے کہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد رہے گی تاہم موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی نہیں ہوگی،گزشتہ روز یکم محرم کے حوالے سے پورے ملک میں سیکیورٹی انتہائی الرٹ کر دی گئی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے جمعرات کو کراچی اور کو ئٹہ میں یکم محرم الحرام کو یوم حضرت عمر فاروق کی یوم شہادت پر نکالی جانے والی ریلیوں پر دہشت گردی کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے دونوں شہروں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی اور موبائل فون سروس کو جمعہ کی صبح10سے شام6بجے تک بند رکھنے کا حکم دیا تھا تاہم جمعرات کی شب ہی سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ کے کراچی میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا جب کہ موبائل فون سروس بند رکھنے کے حکم پر عملدرامد کیا گیا اور8گھنٹے کی بندش کے بعد جمعہ کی شام کراچی میں موبائل فون سروس بحال ہوگئی۔
پی ٹی اے کے سینئر اہلکار علی فیصل کے مطابق دونوں شہروں میں موبائل فون سروس بحال کر دی گئی۔ کراچی پولیس کے سینئر اہلکار جاوید اوڈھو کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات تھیں کہ شہر میں دہشتگردی کا بہت بڑے حملے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے موبائل فون سروس بند کی گئی تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت امن و امان کی صورت حال کے نام پر عوام سے رابطے کی سہولت بھی چھین رہی ہے اور ان کے مسائل کے اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔
دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس مشیر عالم کی جانب سے کراچی میں موٹرسائیکل چلانے پر پابندی کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکلیں رواں دواں رہیں تاہم کوئٹہ میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی برقرار رہی۔ ادھر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پولیس حکام اور ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ وسیم احمد کو سننے کے بعد احکامات دیے کہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد رہے گی تاہم موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی نہیں ہوگی۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے حکم کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ ذمے داری سے آگاہ نہیں مگر صرف موٹرسائیکل ہی نہی بلکہ کاریں اور بھاری گاڑیاں بھی دہشت گردی میں استعمال ہورہی ہیں، پابندی سے لاکھوں شہری پریشان ہوتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکیورٹی اقدامات میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ کی جائے، انھوں نے کہا کہ موٹرسائیکل عام آدمی کی سواری ہے اسے متاثر کئے بغیر تحفظ ممکن بنایا جائے۔
موبائل فون سروس بند ہونے سے جہاں شہر قائد سے پورے ملک کا رابطہ منقطع ہوگیا وہیں تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، موبائل فون سروس کی معطلی سے ٹیلی کام سیکٹر کو20 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرناپڑا،سندھ ہائی کورٹ نے پولیس حکام اور ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ وسیم احمد کو سننے کے بعد احکامات دیے کہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد رہے گی تاہم موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی نہیں ہوگی،گزشتہ روز یکم محرم کے حوالے سے پورے ملک میں سیکیورٹی انتہائی الرٹ کر دی گئی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے جمعرات کو کراچی اور کو ئٹہ میں یکم محرم الحرام کو یوم حضرت عمر فاروق کی یوم شہادت پر نکالی جانے والی ریلیوں پر دہشت گردی کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے دونوں شہروں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی اور موبائل فون سروس کو جمعہ کی صبح10سے شام6بجے تک بند رکھنے کا حکم دیا تھا تاہم جمعرات کی شب ہی سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ کے کراچی میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا جب کہ موبائل فون سروس بند رکھنے کے حکم پر عملدرامد کیا گیا اور8گھنٹے کی بندش کے بعد جمعہ کی شام کراچی میں موبائل فون سروس بحال ہوگئی۔
پی ٹی اے کے سینئر اہلکار علی فیصل کے مطابق دونوں شہروں میں موبائل فون سروس بحال کر دی گئی۔ کراچی پولیس کے سینئر اہلکار جاوید اوڈھو کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات تھیں کہ شہر میں دہشتگردی کا بہت بڑے حملے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے موبائل فون سروس بند کی گئی تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت امن و امان کی صورت حال کے نام پر عوام سے رابطے کی سہولت بھی چھین رہی ہے اور ان کے مسائل کے اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔
دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس مشیر عالم کی جانب سے کراچی میں موٹرسائیکل چلانے پر پابندی کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکلیں رواں دواں رہیں تاہم کوئٹہ میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی برقرار رہی۔ ادھر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پولیس حکام اور ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ وسیم احمد کو سننے کے بعد احکامات دیے کہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد رہے گی تاہم موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی نہیں ہوگی۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے حکم کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ ذمے داری سے آگاہ نہیں مگر صرف موٹرسائیکل ہی نہی بلکہ کاریں اور بھاری گاڑیاں بھی دہشت گردی میں استعمال ہورہی ہیں، پابندی سے لاکھوں شہری پریشان ہوتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکیورٹی اقدامات میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ کی جائے، انھوں نے کہا کہ موٹرسائیکل عام آدمی کی سواری ہے اسے متاثر کئے بغیر تحفظ ممکن بنایا جائے۔