مغرب کیوں بالادست ہے آخری حصہ
انھیں اس کا گمان بھی نہ گزرا کہ یہ جو لوہے کا بد صورت انگڑکھنگڑ ہے جسے یہ نصرانی چھاپہ خانہ کہتے ہیں
zahedahina@gmail.com
KARACHI:
پلاسی، بکسر اور دلی کے سقوط پر زنجیر زنی کرتے ہوئے اور 1757ء ،1764ء سے 1857ء تک سو برس پر مشتمل ہزیمت کی الم انگیز تاریخ کے اسباب و علل کی بات کرتے ہوئے ہم یہ کیسے بھول جائیں کہ ہمارے مہابلی اکبر کے دربار میں جیوزسٹ پادریوں نے جب تحفے کے طور پر کئی زبانوں پر مشتمل متحرک ٹائپ پر چھپا ہوا بائبل کا نسخہ مہابلی کی خدمت میں پیش کیا تو انھوں نے اسے قبول کر لیا لیکن چھپائی کے اس طریقے کے بارے میں ان کے اندر تجسس کی کوئی لہر نہ اٹھی۔
انھیں اس کا گمان بھی نہ گزرا کہ یہ جو لوہے کا بد صورت انگڑکھنگڑ ہے جسے یہ نصرانی چھاپہ خانہ کہتے ہیں، یہی یورپ کے عوام کی تقدیر بدلنے والا ہے اور کوئی دن جاتا ہے جب ان دور دراز سرد ملکوں کے کسان، موچی، بڑھئی اور گھوڑوں کے سموں میں نعل ٹھونکنے والوں کی نسلیں علم کے چشمے سے سیراب ہوں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کے جاہ و جلال اور شان و اقبال کی دنیا سر کے بل کھڑی ہو جائے گی۔
ہم مغلوں سے کہیں رفیع الشان سلطنت عثمانیہ کو یاد کیوں نہ کریں کہ جہاں فقیہوں نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ فرنگی چھاپہ خانے کے ذریعے بہ زبان عربی کوئی کتاب شایع نہیں ہو گی۔ اس حکم کی 1483ء سے 1729ء تک حکمرانی رہی۔ چھاپہ خانہ غیر اسلامی تھا، کفار کا بنایا ہوا تھا اور اس سے عربی کے مقدس الفاظ آلودہ نہیں کیے جا سکتے تھے۔ اس فتویٰ کی خلاف ورزی کی سزا 'موت' تھی۔ اس وقت مسلم دنیا میں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ جرمنوں کا بنایا ہوا متحرک چھاپہ خانہ مسلم دنیا کے علمی منظر نامے کو یکسر بدل سکتا ہے۔ تعلیم کو عوام میں عام کر سکتا ہے۔
ہمارے معاملات و مسائل کچھ اور تھے۔1611ء میں جب شہنشاہ جہانگیر اپنی توزک میں ایک دن کے اندر 330 مچھلیوں کے شکار کا اندراج کر رہا تھا اور ایک سائیس اور دو کہاروں کے سامنے آ جانے پر نیل گائے کے بھڑک کر بھاگ جانے کی سزا میں سائیس کو قتل کروا رہا تھا، عین اسی سال انگلستان میں پارلیمنٹ اور شاہ جیمز اول کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی ہو رہی تھی۔
برصغیر کے حکمران اور امراء اپنی دولت، شان و شوکت کے مظاہروں اور قصیدہ خواں شعراء پر لٹا رہے تھے جب کہ یورپ کے امراء سائنسدانوں، نئے بحری راستے تلاش کرنیوالے مہم جُو جہاز رانوں اور عالموں کی سرپرستی کر رہے تھے۔ غرض 1600ء سے 1857ء تک واقعات و معاملات کا ایک ہجوم ہے اور جب ہم ہندوستان کے معاملات کا موازنہ اس زمانے کے انگلستان سے کرتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے صناع، کاریگر، معمار، نجار اور ہنرکار انگلستان کے ہنروروں سے کم نہ تھے لیکن مسئلہ ان کی سرپرستی اور درست سمت میں ان کی رہنمائی کا تھا۔
ہمارے معمار ایک شہنشاہ کے اشارئہ ابرو پر سترھویں صدی میں ''تاج محل'' ایسا شاہکار اس کی ذاتی تسکین کے لیے تعمیر کر رہے تھے اور مغرب کے معمار تیرھویں اور چودھویں صدی میں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ ان بیشتر کالجوں کی تعمیر مکمل کر چکے تھے جن میں داخلہ ملنے کے خواب ہمارا ہر ذہین نوجوان آج بھی دیکھتا ہے گویا مسئلہ ترجیحات کا تھا، ہمارے شہنشاہ اپنے مقبرے یا محلات تعمیر کراتے تھے۔ ان کے بادشاہ محلات کے ساتھ تعلیمی ادارے، سائنسی تجربہ گاہیں، اسپتال اور کتب خانوں کی تعمیر پر توجہ دیتے تھے۔
انگریزوں نے برصغیر کی سرزمین پر قدم رکھنے سے لے کر 1857ء میں لال قلعے پر اپنا پرچم لہرانے تک ہر آن ہمیں اس بات کا احساس دلایا کہ ان کی بحری بالادستی نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں بے پناہ معاونت کی اور یہ بھی کہ آلات حرب اور دفاعی سائنس میں ان کا اور ہمارا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ان کے فوجی اور سول افسران قواعد و ضوابط کے مکمل طور پر پابند ہوتے اور یہی ڈسپلن وہ اپنی دیسی فوج کو بھی تعلیم کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ 1757ء 1764ء اور 1857ء میں جب بھی ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی غیر منظم فوج، کرائے کے منظم اور تربیت یافتہ دیسی فوجیوں کے سامنے آئی تو ٹھہر نہ سکی۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں انگلستان جس صنعتی انقلاب سے دوچار ہوا اور وہاں علم و دانش اور سائنس کا جو ابھار ہوا، اس کے سبب اس کے جرنیلوں کی مہمات، اس کے سائنسدانوں کی ایجادات کے سامنے گرد ہو گئیں۔ نوبل انعام جس کا اجراء 1901ء میں ہوا اسے حاصل کرنے والے 10 سائنسدان اور 9 ادیب 1857ء سے کئی برس پہلے پیدا ہو چکے تھے۔ ان سے قطع نظر 1857ء کے آس پاس سائنسدانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جو تاج برطانیہ اور انگریز امراء کی سرپرستی میں انگلستان کے لیے ہر گھنٹہ گھڑی کوئی نیا کارنامہ انجام دے رہی تھی۔
انگریزوں کے اندر جستجو کا جذبہ اتنا فراواں تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک معمولی افسر کی بیوی فینی پارکس اپنے شوہر کے ساتھ ہندوستان آئی تو وہ ہندوستان کے طول و عرض میں گھومتی پھری۔ کہیں وہ پہاڑوں کی بلندی ناپ رہی تھی اور کہیں دریاؤں کی گہرائی۔ اس نے ہندوستانی (اردو) سیکھی، کلکتہ، الہٰ آباد اور دلی کی سیر کی۔ ہندوستانی سماج کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا۔ قنوج میں قحط پڑا تو کمپنی کے افسران کی سنگ دلی دیکھی اور لکھی۔ یہ دیکھا کہ انگریز افسران مسلمانوں اور ہندوؤں کے رسم و رواج کو کس طرح حقیر جانتے ہیں۔ وہ 'زنانہ' کا احوال لکھتی ہے اور یہ بھی کہ برطانوی قوانین ہندوستان کی معاشی اور سماجی زندگی کو کس طرح تہ و بالا کر رہے تھے۔ 2 جلدوں پر مشتمل اس کی کتاب انیسویں صدی کے ہندوستان پر حوالے کی اہم کتاب ہے۔
اٹھارویں صدی میں ہم جب تخت نشینی کی جنگیں لڑ رہے تھے، ہمارے بادشاہ کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائی جا رہی تھیں اور سماج میں نراج پھیلا ہوا تھا، ایسے میں مغرب نشاۃ الثانیہ، (14 ویں صدی) اصلاح مذہب (17 ویں صدی) اور انقلاب (18 ویں صدی) کے مرحلوں سے گزر رہا تھا۔ شاہ جہاں زچگی میں جان سے گزر جانیوالی اپنی چہیتی بیوی کے غم میں کروڑوں روپے سے تاج محل تعمیر کروا رہا تھا جب کہ ٹھیک اسی زمانے میں سوئیڈن کا بادشاہ اڈولف گستاؤ ثانی (1594-1632ء ) زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی ملکہ کی یاد میں سوئیڈن میں مڈویفری کے نظام کا جال بچھا رہا تھا تا کہ آیندہ کوئی عورت ماں بنتے ہوئے جان سے نہ گزر جائے۔
برطانیہ جو 1857ء کے بعد ہندوستان کو اپنی نو آبادیات میں شامل کر چکا تھا، اس کی ترجیحات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ ہندوستان میں تعلیمی ادارے، اسپتال، ڈاک اور تار کا نظام، آب پاشی کے لیے نہروں کا اور لوگوں کو سفر کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سڑکوں اور ریل کا جال پھیلا رہا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران سڑکوں اور ریلوں کا یہ نظام اتحادی فو جوں کی نقل و حرکت میں کتنا کام آیا، اس کی تفصیل ان دو عظیم جنگوں کی تاریخ میں درج ہے۔
ان تمام حقائق پر نظر ڈالی جائے تو اپنے شہیدوں کے لیے گریہ ناک ہونے کے باوجود، سمجھ میں آتا ہے کہ 1857ء میں جو کچھ ہوا، اسے ہونا ہی چاہیے تھا۔ ہم کسی بھی مرحلے پر انگریز کی ذہانت اور ذکاوت کے مقابل نہ آ سکے۔ نہ ہمارے اندر قوم پرستی کا وہ شدید جذبہ تھا جو ہر انگریز کے سینے میں موجزن تھا۔ ہمارے اندر قوم پرستی کے جذبے کے فقدان کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عوام سیاسی شعور سے بے بہرہ تھے اور جب کسی ملک کے باشندوں میں سیاسی شعور نہ ہو تو ان سے منظم انداز میں کسی انقلاب کے برپا کرنے کی توقع عبث ہے۔
1757ء یا 1857ء کے حوالے سے جب ہم اپنے آج کے معاملات پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم نے نو آبادیاتی تسلط کی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ہماری آپس کی رنجیشیں، چشمکیں، ذاتی ہوا و ہوس، خواص میں سیاسی شعور اور قوم پرستی کا فقدان ہمیں ایک بار پھر اغیار کا دست نگر بنانے کے درپے ہے۔ پہلے وہ ہمارے قلعوں پر اپنے پرچم لہراتے تھے، اب ہماری معیشت اور اقتصادیات کی شہ رگ میں ان کے دانت اترے ہوئے ہیں۔ پہلے ہمارے کسان انھیں لگان ادا کرتے تھے۔ اب ہمارے نوجوان انھیں اپنی ذہانتوں کا خراج ادا کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں مغربی سائنسدان زیر زمین بگ بینگ کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کے خلائی جہاز مریخ پر جمے ہوئے پانی کی خبر لا رہے ہیں۔ ان کا اس وقت کا سب سے بڑا سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ انسانوں کو مشورہ دے رہا ہے کہ کرئہ ارض عنقریب رہائش کے قابل نہیں رہے گا اس لیے نئی بستیاں ڈھونڈو جہاں انسانی آبادیاں بسائی جا سکیں لیکن اسے کیا کہئے کہ ہمارے یہاں آج بھی رمضان اور عید کا چاند جس طرح دیکھا اور دکھایا جاتا ہے اس پر بقول ابن انشا ہمارا یہ عالم ہوتا ہے کہ:
ہم چپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا پردہ ترا
ایسے میں مغرب کیوں بالادست نہ ہو؟ ہم پدرم سلطان بود کا آوازہ بلند کرتے رہیں اور نصرمن اللہ فتح قریب کا ورد کرتے ہوئے یہ فرض کریں کہ ہماری ایک پھونک سے تمام کے تمام یہود و نصاریٰ پرِ کاہ کی طرح ہوا میں اڑ جائیں گے، تو پھر وہی ہو گا جو ہو رہا ہے۔
پلاسی، بکسر اور دلی کے سقوط پر زنجیر زنی کرتے ہوئے اور 1757ء ،1764ء سے 1857ء تک سو برس پر مشتمل ہزیمت کی الم انگیز تاریخ کے اسباب و علل کی بات کرتے ہوئے ہم یہ کیسے بھول جائیں کہ ہمارے مہابلی اکبر کے دربار میں جیوزسٹ پادریوں نے جب تحفے کے طور پر کئی زبانوں پر مشتمل متحرک ٹائپ پر چھپا ہوا بائبل کا نسخہ مہابلی کی خدمت میں پیش کیا تو انھوں نے اسے قبول کر لیا لیکن چھپائی کے اس طریقے کے بارے میں ان کے اندر تجسس کی کوئی لہر نہ اٹھی۔
انھیں اس کا گمان بھی نہ گزرا کہ یہ جو لوہے کا بد صورت انگڑکھنگڑ ہے جسے یہ نصرانی چھاپہ خانہ کہتے ہیں، یہی یورپ کے عوام کی تقدیر بدلنے والا ہے اور کوئی دن جاتا ہے جب ان دور دراز سرد ملکوں کے کسان، موچی، بڑھئی اور گھوڑوں کے سموں میں نعل ٹھونکنے والوں کی نسلیں علم کے چشمے سے سیراب ہوں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کے جاہ و جلال اور شان و اقبال کی دنیا سر کے بل کھڑی ہو جائے گی۔
ہم مغلوں سے کہیں رفیع الشان سلطنت عثمانیہ کو یاد کیوں نہ کریں کہ جہاں فقیہوں نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ فرنگی چھاپہ خانے کے ذریعے بہ زبان عربی کوئی کتاب شایع نہیں ہو گی۔ اس حکم کی 1483ء سے 1729ء تک حکمرانی رہی۔ چھاپہ خانہ غیر اسلامی تھا، کفار کا بنایا ہوا تھا اور اس سے عربی کے مقدس الفاظ آلودہ نہیں کیے جا سکتے تھے۔ اس فتویٰ کی خلاف ورزی کی سزا 'موت' تھی۔ اس وقت مسلم دنیا میں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ جرمنوں کا بنایا ہوا متحرک چھاپہ خانہ مسلم دنیا کے علمی منظر نامے کو یکسر بدل سکتا ہے۔ تعلیم کو عوام میں عام کر سکتا ہے۔
ہمارے معاملات و مسائل کچھ اور تھے۔1611ء میں جب شہنشاہ جہانگیر اپنی توزک میں ایک دن کے اندر 330 مچھلیوں کے شکار کا اندراج کر رہا تھا اور ایک سائیس اور دو کہاروں کے سامنے آ جانے پر نیل گائے کے بھڑک کر بھاگ جانے کی سزا میں سائیس کو قتل کروا رہا تھا، عین اسی سال انگلستان میں پارلیمنٹ اور شاہ جیمز اول کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی ہو رہی تھی۔
برصغیر کے حکمران اور امراء اپنی دولت، شان و شوکت کے مظاہروں اور قصیدہ خواں شعراء پر لٹا رہے تھے جب کہ یورپ کے امراء سائنسدانوں، نئے بحری راستے تلاش کرنیوالے مہم جُو جہاز رانوں اور عالموں کی سرپرستی کر رہے تھے۔ غرض 1600ء سے 1857ء تک واقعات و معاملات کا ایک ہجوم ہے اور جب ہم ہندوستان کے معاملات کا موازنہ اس زمانے کے انگلستان سے کرتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے صناع، کاریگر، معمار، نجار اور ہنرکار انگلستان کے ہنروروں سے کم نہ تھے لیکن مسئلہ ان کی سرپرستی اور درست سمت میں ان کی رہنمائی کا تھا۔
ہمارے معمار ایک شہنشاہ کے اشارئہ ابرو پر سترھویں صدی میں ''تاج محل'' ایسا شاہکار اس کی ذاتی تسکین کے لیے تعمیر کر رہے تھے اور مغرب کے معمار تیرھویں اور چودھویں صدی میں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ ان بیشتر کالجوں کی تعمیر مکمل کر چکے تھے جن میں داخلہ ملنے کے خواب ہمارا ہر ذہین نوجوان آج بھی دیکھتا ہے گویا مسئلہ ترجیحات کا تھا، ہمارے شہنشاہ اپنے مقبرے یا محلات تعمیر کراتے تھے۔ ان کے بادشاہ محلات کے ساتھ تعلیمی ادارے، سائنسی تجربہ گاہیں، اسپتال اور کتب خانوں کی تعمیر پر توجہ دیتے تھے۔
انگریزوں نے برصغیر کی سرزمین پر قدم رکھنے سے لے کر 1857ء میں لال قلعے پر اپنا پرچم لہرانے تک ہر آن ہمیں اس بات کا احساس دلایا کہ ان کی بحری بالادستی نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں بے پناہ معاونت کی اور یہ بھی کہ آلات حرب اور دفاعی سائنس میں ان کا اور ہمارا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ان کے فوجی اور سول افسران قواعد و ضوابط کے مکمل طور پر پابند ہوتے اور یہی ڈسپلن وہ اپنی دیسی فوج کو بھی تعلیم کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ 1757ء 1764ء اور 1857ء میں جب بھی ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی غیر منظم فوج، کرائے کے منظم اور تربیت یافتہ دیسی فوجیوں کے سامنے آئی تو ٹھہر نہ سکی۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں انگلستان جس صنعتی انقلاب سے دوچار ہوا اور وہاں علم و دانش اور سائنس کا جو ابھار ہوا، اس کے سبب اس کے جرنیلوں کی مہمات، اس کے سائنسدانوں کی ایجادات کے سامنے گرد ہو گئیں۔ نوبل انعام جس کا اجراء 1901ء میں ہوا اسے حاصل کرنے والے 10 سائنسدان اور 9 ادیب 1857ء سے کئی برس پہلے پیدا ہو چکے تھے۔ ان سے قطع نظر 1857ء کے آس پاس سائنسدانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جو تاج برطانیہ اور انگریز امراء کی سرپرستی میں انگلستان کے لیے ہر گھنٹہ گھڑی کوئی نیا کارنامہ انجام دے رہی تھی۔
انگریزوں کے اندر جستجو کا جذبہ اتنا فراواں تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک معمولی افسر کی بیوی فینی پارکس اپنے شوہر کے ساتھ ہندوستان آئی تو وہ ہندوستان کے طول و عرض میں گھومتی پھری۔ کہیں وہ پہاڑوں کی بلندی ناپ رہی تھی اور کہیں دریاؤں کی گہرائی۔ اس نے ہندوستانی (اردو) سیکھی، کلکتہ، الہٰ آباد اور دلی کی سیر کی۔ ہندوستانی سماج کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا۔ قنوج میں قحط پڑا تو کمپنی کے افسران کی سنگ دلی دیکھی اور لکھی۔ یہ دیکھا کہ انگریز افسران مسلمانوں اور ہندوؤں کے رسم و رواج کو کس طرح حقیر جانتے ہیں۔ وہ 'زنانہ' کا احوال لکھتی ہے اور یہ بھی کہ برطانوی قوانین ہندوستان کی معاشی اور سماجی زندگی کو کس طرح تہ و بالا کر رہے تھے۔ 2 جلدوں پر مشتمل اس کی کتاب انیسویں صدی کے ہندوستان پر حوالے کی اہم کتاب ہے۔
اٹھارویں صدی میں ہم جب تخت نشینی کی جنگیں لڑ رہے تھے، ہمارے بادشاہ کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائی جا رہی تھیں اور سماج میں نراج پھیلا ہوا تھا، ایسے میں مغرب نشاۃ الثانیہ، (14 ویں صدی) اصلاح مذہب (17 ویں صدی) اور انقلاب (18 ویں صدی) کے مرحلوں سے گزر رہا تھا۔ شاہ جہاں زچگی میں جان سے گزر جانیوالی اپنی چہیتی بیوی کے غم میں کروڑوں روپے سے تاج محل تعمیر کروا رہا تھا جب کہ ٹھیک اسی زمانے میں سوئیڈن کا بادشاہ اڈولف گستاؤ ثانی (1594-1632ء ) زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی ملکہ کی یاد میں سوئیڈن میں مڈویفری کے نظام کا جال بچھا رہا تھا تا کہ آیندہ کوئی عورت ماں بنتے ہوئے جان سے نہ گزر جائے۔
برطانیہ جو 1857ء کے بعد ہندوستان کو اپنی نو آبادیات میں شامل کر چکا تھا، اس کی ترجیحات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ ہندوستان میں تعلیمی ادارے، اسپتال، ڈاک اور تار کا نظام، آب پاشی کے لیے نہروں کا اور لوگوں کو سفر کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سڑکوں اور ریل کا جال پھیلا رہا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران سڑکوں اور ریلوں کا یہ نظام اتحادی فو جوں کی نقل و حرکت میں کتنا کام آیا، اس کی تفصیل ان دو عظیم جنگوں کی تاریخ میں درج ہے۔
ان تمام حقائق پر نظر ڈالی جائے تو اپنے شہیدوں کے لیے گریہ ناک ہونے کے باوجود، سمجھ میں آتا ہے کہ 1857ء میں جو کچھ ہوا، اسے ہونا ہی چاہیے تھا۔ ہم کسی بھی مرحلے پر انگریز کی ذہانت اور ذکاوت کے مقابل نہ آ سکے۔ نہ ہمارے اندر قوم پرستی کا وہ شدید جذبہ تھا جو ہر انگریز کے سینے میں موجزن تھا۔ ہمارے اندر قوم پرستی کے جذبے کے فقدان کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عوام سیاسی شعور سے بے بہرہ تھے اور جب کسی ملک کے باشندوں میں سیاسی شعور نہ ہو تو ان سے منظم انداز میں کسی انقلاب کے برپا کرنے کی توقع عبث ہے۔
1757ء یا 1857ء کے حوالے سے جب ہم اپنے آج کے معاملات پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم نے نو آبادیاتی تسلط کی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ہماری آپس کی رنجیشیں، چشمکیں، ذاتی ہوا و ہوس، خواص میں سیاسی شعور اور قوم پرستی کا فقدان ہمیں ایک بار پھر اغیار کا دست نگر بنانے کے درپے ہے۔ پہلے وہ ہمارے قلعوں پر اپنے پرچم لہراتے تھے، اب ہماری معیشت اور اقتصادیات کی شہ رگ میں ان کے دانت اترے ہوئے ہیں۔ پہلے ہمارے کسان انھیں لگان ادا کرتے تھے۔ اب ہمارے نوجوان انھیں اپنی ذہانتوں کا خراج ادا کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں مغربی سائنسدان زیر زمین بگ بینگ کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کے خلائی جہاز مریخ پر جمے ہوئے پانی کی خبر لا رہے ہیں۔ ان کا اس وقت کا سب سے بڑا سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ انسانوں کو مشورہ دے رہا ہے کہ کرئہ ارض عنقریب رہائش کے قابل نہیں رہے گا اس لیے نئی بستیاں ڈھونڈو جہاں انسانی آبادیاں بسائی جا سکیں لیکن اسے کیا کہئے کہ ہمارے یہاں آج بھی رمضان اور عید کا چاند جس طرح دیکھا اور دکھایا جاتا ہے اس پر بقول ابن انشا ہمارا یہ عالم ہوتا ہے کہ:
ہم چپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا پردہ ترا
ایسے میں مغرب کیوں بالادست نہ ہو؟ ہم پدرم سلطان بود کا آوازہ بلند کرتے رہیں اور نصرمن اللہ فتح قریب کا ورد کرتے ہوئے یہ فرض کریں کہ ہماری ایک پھونک سے تمام کے تمام یہود و نصاریٰ پرِ کاہ کی طرح ہوا میں اڑ جائیں گے، تو پھر وہی ہو گا جو ہو رہا ہے۔