شکر ہے پاکستان ان ریاستوں میں شامل نہیں
انسانی تاریخ میں انسان کو جو بلندی ملی ہے وہ اپنی مثال ہے اور امریکا ان بلند ترین انسانوں میں سب سے بلند ہے۔
Abdulqhasan@hotmail.com
عالمی جنگ میں ہمارے گاؤں کے جو جوان برطانوی فوجوں میں شامل تھے اور جرمنوں کے خلاف جنگ میں تھے، ان کی مائیں بہنیں جرمنی کے خلاف بد دعائیں کرتی تھیں کہ جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں۔
اب جب امریکا ہمارے اوپر ڈرون حملے کرتا ہے تو اس کے جہازوں میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں لیکن نہ جرمنی کی توپوں میں کیڑے پڑے اور نہ امریکی جہازوں کو کچھ ہوا۔ آپ خود جب تک کمزور ہوں گے تو بددعائیں کیسے کارگر ہوں گی، اس لیے عقل کی بات یہ ہے کہ امریکا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ ہم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ کچھ بگڑے گا تو ہمارا ہی بگڑے گا۔ امریکا کی یاد ایک اخباری کارٹون کی وجہ سے آئی ہے۔ خبر ملی کہ امریکا کی پچاس میں سے تیس ریاستوں نے وفاق سے ناراضی ظاہر کی ہے اور ریاستہائے متحدہ سے علیحدگی کا عندیہ دیا ہے۔ یہ تو امریکا کی گھر کی اور ذاتی بات ہے البتہ ہمارے کارٹونسٹ نے صرف اتنا پوچھا ہے کہ کیا ان ریاستوں میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا۔ اس پر کسی پاکستانی کا اس سے بڑا تبصرہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ امریکا بے شمار اسباب کی بنا پر ایک سپرپاور ہے۔
انسانی تاریخ میں انسان کو جو بلندی ملی ہے وہ اپنی مثال ہے اور امریکا ان بلند ترین انسانوں میں سب سے بلند ہے۔ گویا وہ انسانی عروج کا ایک نادر نمونہ ہے۔ انسانی تاریخ میں کئی سپر پاور پیدا ہوئیں اپنے اپنے عہد کے بڑے لوگوں کی حکومتیں لیکن وہ رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ بن گئیں مثلاً روسی ایمپائر کا ذکر کتابوں میں ہی ملتا ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری حکومتوں کا بھی۔ اس کے بعد اسلامی خلافت بھی طویل ترین مدت تک سپرپاور رہی۔ اب تک کسی سپرپاور کو اپنی برتری کا اتنا عرصہ نہیں ملا لیکن اس طویل العمری کے بعد وہ کسی وجہ سے استنبول میں 1923میں ختم ہو گئی۔ یہاں اس کے اسباب بیان کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد برطانوی سپرپاور کو دنیا نے دیکھا جو ایک عالمی جنگ کا بوجھ برداشت نہ کر کے ختم ہو گئی۔ پھر سوویت یونین کے نام سے روسی سپر پاور پیدا ہوئی جس نے عالمی طاقت کا توازن ہی بدل دیا لیکن جو افغانستان میں اپنی جارحیت کی وجہ سے ختم ہی نہیں نیست و نابود بھی ہو گئی۔ اب امریکا ہے جو بلندیوں کی طرف جا رہا ہے۔ تاریخ کا عجیب واقعہ ہے کہ برطانوی سامراج نے بھی افغانستان میں ایسی چوٹ کھائی کہ پھر بحال نہ ہو سکا۔
اس کے بعد اسی ملک افغانستان میں روسی سامراج سوویت یونین نے چوٹ کیا کھائی، اس کے سر پر ایک اتنا زبردست ہتھوڑا لگا کہ وہ بالکل ہی ختم ہو گئی۔ اب امریکا بھی اسی افغانستان میں زور آزمائی کر رہا ہے۔ مستقبل کس نے دیکھا ہے لیکن ایک کمزور سے ذہن والے اس پاکستانی کا اندازہ ہے کہ اگر امریکا بھی سپرپاور کے تخت اور منصب سے نیچے اترتا یا گرتا ہے تو پھر شاید اس دنیا میں کوئی اور سپرپاور پیدا نہ ہو۔ انسانی ذہن بغاوت پر اتر آیا ہے۔ امریکا کے سرمایہ دارانہ نظام کے اسٹائل پر دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے' ہر سو احتجاج ہوا مگر امریکا اپنی فوجی قوت اور اندرونی استحکام کی وجہ سے اسے برداشت کر گیا اور اس میں اتنی عقل ابھی موجود ہے کہ اس نے حالات کی سنگینی اور ماضی کا جائزہ لے کر افغانستان سے نکلنے کا اعلان کر دیا ہے اور تاریخ بھی دے دی ہے۔ یوں اس سپرپاور نے اپنی ایک زبردست شکست کو خوبصورتی اور عزت سے ٹال دیا ہے۔ انھی باتوں سے امریکا کی اب تک برتری سلامت ہے۔ جس دن اس نے اپنی حماقتوں پر اصرار کیا اور ایسی بڑی طاقتیں حماقتیں ضرور کرتی ہیں کہ بے پناہ طاقت عقل کو ماؤف کر دیتی ہے۔
اگر اس نے اصرار کیا تو پھر گیا لیکن افغانستان میں جس تدبر اور فراست کا ثبوت دیا ہے اس نے افغانستان پر امریکا کے حملے کی غلطی بلکہ بہت بڑی حماقت پر پردہ ڈال دیا ہے اور اب وہ اس پردے کی اوٹ میں واپس روانہ ہو جائے گا۔ تازہ خبر ملی ہے کہ امریکی فوجیوں کی خودکشی کی وارداتیں بہت ہی بڑھ گئی ہیں اور اس سال سب سے زیادہ ہیں۔ امریکی ایک تعلیم یافتہ قوم ہے اور اسے یہ احساس ضرور ہے کہ وہ ایک بے مقصد اور لاحاصل جنگ میں اربوں ڈالر اور جانیں دے رہے ہیں، اس لیے اس سے نجات حاصل کی جائے اور گھروں سے دور فوجی اور زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ اکثر امریکی فوجیوں کے گھر نہیں ہیں اور وہ 'بے گھر' کی اولاد ہیں لیکن اپنے ملک اور ماحول سے دوری برداشت نہیں ہوتی۔ امریکا کو بُش ملا اور ہمیں مُش۔ دونوں نے اپنی ذاتی پسند اور خیالات کے لیے دونوں ملکوں کو پھنسا دیا۔ امریکی صدر بش صاحب نے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں جھونک دیا جب کہ اس خطے میں امریکا کے غلام تو بہت تھے مخالف شاید ہی کوئی تھا پھر ایک غلطی نے کئی غلطیاں جنم دیں کہ سید مودودی کے بقول غلطی بانجھ نہیں ہوتی۔
بیچ میں سے ''دہشت گردی'' کا شوشہ چھوڑا گیا جس کے مقابلے کے لیے اب امریکا یورپ کو بھی پھنسانا چاہتا ہے لیکن لگتا ہے اوباما شاید پالیسی میں کچھ تبدیلی کی کوشش کرے۔ بہرحال یہ تو بڑے امریکا کی بڑی باتیں ہیں ہمارے لیے ہمارا مُش ہی کافی ہے جو اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا اور جسے نہ جانے کیوں ہمارے مذہب سے نفرت ہے اور کہتا تھا میرے راستے میں کوئی مسجد دکھائی نہ دے اور کتے میرے ہم نشین ہوں لیکن مسلمان افغانستان کا ہو یا دنیا کے کسی بھی خطے کا' اس کے دل میں کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ امریکیوں کی رپورٹ ہے کہ پاکستانی پچاس برس کی عمر کے بعد بدل جاتا ہے۔ بہرکیف شکر ہے کہ امریکا کی تیس برہم ریاستوں میں پاکستان کی ریاست شامل نہیں ہے۔
اب جب امریکا ہمارے اوپر ڈرون حملے کرتا ہے تو اس کے جہازوں میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں لیکن نہ جرمنی کی توپوں میں کیڑے پڑے اور نہ امریکی جہازوں کو کچھ ہوا۔ آپ خود جب تک کمزور ہوں گے تو بددعائیں کیسے کارگر ہوں گی، اس لیے عقل کی بات یہ ہے کہ امریکا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ ہم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ کچھ بگڑے گا تو ہمارا ہی بگڑے گا۔ امریکا کی یاد ایک اخباری کارٹون کی وجہ سے آئی ہے۔ خبر ملی کہ امریکا کی پچاس میں سے تیس ریاستوں نے وفاق سے ناراضی ظاہر کی ہے اور ریاستہائے متحدہ سے علیحدگی کا عندیہ دیا ہے۔ یہ تو امریکا کی گھر کی اور ذاتی بات ہے البتہ ہمارے کارٹونسٹ نے صرف اتنا پوچھا ہے کہ کیا ان ریاستوں میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا۔ اس پر کسی پاکستانی کا اس سے بڑا تبصرہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ امریکا بے شمار اسباب کی بنا پر ایک سپرپاور ہے۔
انسانی تاریخ میں انسان کو جو بلندی ملی ہے وہ اپنی مثال ہے اور امریکا ان بلند ترین انسانوں میں سب سے بلند ہے۔ گویا وہ انسانی عروج کا ایک نادر نمونہ ہے۔ انسانی تاریخ میں کئی سپر پاور پیدا ہوئیں اپنے اپنے عہد کے بڑے لوگوں کی حکومتیں لیکن وہ رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ بن گئیں مثلاً روسی ایمپائر کا ذکر کتابوں میں ہی ملتا ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری حکومتوں کا بھی۔ اس کے بعد اسلامی خلافت بھی طویل ترین مدت تک سپرپاور رہی۔ اب تک کسی سپرپاور کو اپنی برتری کا اتنا عرصہ نہیں ملا لیکن اس طویل العمری کے بعد وہ کسی وجہ سے استنبول میں 1923میں ختم ہو گئی۔ یہاں اس کے اسباب بیان کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد برطانوی سپرپاور کو دنیا نے دیکھا جو ایک عالمی جنگ کا بوجھ برداشت نہ کر کے ختم ہو گئی۔ پھر سوویت یونین کے نام سے روسی سپر پاور پیدا ہوئی جس نے عالمی طاقت کا توازن ہی بدل دیا لیکن جو افغانستان میں اپنی جارحیت کی وجہ سے ختم ہی نہیں نیست و نابود بھی ہو گئی۔ اب امریکا ہے جو بلندیوں کی طرف جا رہا ہے۔ تاریخ کا عجیب واقعہ ہے کہ برطانوی سامراج نے بھی افغانستان میں ایسی چوٹ کھائی کہ پھر بحال نہ ہو سکا۔
اس کے بعد اسی ملک افغانستان میں روسی سامراج سوویت یونین نے چوٹ کیا کھائی، اس کے سر پر ایک اتنا زبردست ہتھوڑا لگا کہ وہ بالکل ہی ختم ہو گئی۔ اب امریکا بھی اسی افغانستان میں زور آزمائی کر رہا ہے۔ مستقبل کس نے دیکھا ہے لیکن ایک کمزور سے ذہن والے اس پاکستانی کا اندازہ ہے کہ اگر امریکا بھی سپرپاور کے تخت اور منصب سے نیچے اترتا یا گرتا ہے تو پھر شاید اس دنیا میں کوئی اور سپرپاور پیدا نہ ہو۔ انسانی ذہن بغاوت پر اتر آیا ہے۔ امریکا کے سرمایہ دارانہ نظام کے اسٹائل پر دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے' ہر سو احتجاج ہوا مگر امریکا اپنی فوجی قوت اور اندرونی استحکام کی وجہ سے اسے برداشت کر گیا اور اس میں اتنی عقل ابھی موجود ہے کہ اس نے حالات کی سنگینی اور ماضی کا جائزہ لے کر افغانستان سے نکلنے کا اعلان کر دیا ہے اور تاریخ بھی دے دی ہے۔ یوں اس سپرپاور نے اپنی ایک زبردست شکست کو خوبصورتی اور عزت سے ٹال دیا ہے۔ انھی باتوں سے امریکا کی اب تک برتری سلامت ہے۔ جس دن اس نے اپنی حماقتوں پر اصرار کیا اور ایسی بڑی طاقتیں حماقتیں ضرور کرتی ہیں کہ بے پناہ طاقت عقل کو ماؤف کر دیتی ہے۔
اگر اس نے اصرار کیا تو پھر گیا لیکن افغانستان میں جس تدبر اور فراست کا ثبوت دیا ہے اس نے افغانستان پر امریکا کے حملے کی غلطی بلکہ بہت بڑی حماقت پر پردہ ڈال دیا ہے اور اب وہ اس پردے کی اوٹ میں واپس روانہ ہو جائے گا۔ تازہ خبر ملی ہے کہ امریکی فوجیوں کی خودکشی کی وارداتیں بہت ہی بڑھ گئی ہیں اور اس سال سب سے زیادہ ہیں۔ امریکی ایک تعلیم یافتہ قوم ہے اور اسے یہ احساس ضرور ہے کہ وہ ایک بے مقصد اور لاحاصل جنگ میں اربوں ڈالر اور جانیں دے رہے ہیں، اس لیے اس سے نجات حاصل کی جائے اور گھروں سے دور فوجی اور زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ اکثر امریکی فوجیوں کے گھر نہیں ہیں اور وہ 'بے گھر' کی اولاد ہیں لیکن اپنے ملک اور ماحول سے دوری برداشت نہیں ہوتی۔ امریکا کو بُش ملا اور ہمیں مُش۔ دونوں نے اپنی ذاتی پسند اور خیالات کے لیے دونوں ملکوں کو پھنسا دیا۔ امریکی صدر بش صاحب نے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں جھونک دیا جب کہ اس خطے میں امریکا کے غلام تو بہت تھے مخالف شاید ہی کوئی تھا پھر ایک غلطی نے کئی غلطیاں جنم دیں کہ سید مودودی کے بقول غلطی بانجھ نہیں ہوتی۔
بیچ میں سے ''دہشت گردی'' کا شوشہ چھوڑا گیا جس کے مقابلے کے لیے اب امریکا یورپ کو بھی پھنسانا چاہتا ہے لیکن لگتا ہے اوباما شاید پالیسی میں کچھ تبدیلی کی کوشش کرے۔ بہرحال یہ تو بڑے امریکا کی بڑی باتیں ہیں ہمارے لیے ہمارا مُش ہی کافی ہے جو اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا اور جسے نہ جانے کیوں ہمارے مذہب سے نفرت ہے اور کہتا تھا میرے راستے میں کوئی مسجد دکھائی نہ دے اور کتے میرے ہم نشین ہوں لیکن مسلمان افغانستان کا ہو یا دنیا کے کسی بھی خطے کا' اس کے دل میں کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ امریکیوں کی رپورٹ ہے کہ پاکستانی پچاس برس کی عمر کے بعد بدل جاتا ہے۔ بہرکیف شکر ہے کہ امریکا کی تیس برہم ریاستوں میں پاکستان کی ریاست شامل نہیں ہے۔