فکسنگ تنازعبرطانوی صحافی ثبوت سامنے لائےچیئرمین پی سی بی
تعلیمی اداروں سے اچھے کرکٹر سامنے آئیں تو پاکستان کے کرکٹ میں مسائل کم ہوتے جائیں گے۔
صرف ایک کوچ پوری ٹیم نہیں چلا سکتا، ہر شعبے کیلیے رہنمائی ضروری ہے، ذکا اشرف ۔ فوٹو : آئی این پی
برطانوی صحافی کے پاس ورلڈ کپ 2011کا سیمی فائنل فکسڈ ہونے کے ثبوت ہیں تو سامنے لائے۔صرف باتیں کرنے سے کوئی الزام سچ ثابت نہیں ہو جاتا،کسی بھی کارروائی کیلیے ٹھوس شواہد کی ضرورت پڑتی ہے ۔
ان خیالات کا اظہار چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ برطانوی مصنف ایڈ ہاکنز اگر اپنی کتاب میں لکھی باتوں کے ثبوت فراہم کردیں تو ہم پہلے خود تحقیقات کریں گے، اس کے بعد اگر ضروری ہوا تو آئی سی سی سے مدد بھی لی جائے گی، انھوں نے کہا کہ میں کرکٹر نہیں مگر آرگنائزر ہونے کی بنا پر دنیا بھر کی کرکٹ سرگرمیوں کے بارے میں مطالعہ کرتا رہتا ہوں، اسپورٹس اب ٹیکنالوجی بن چکی۔
صرف ایک کوچ پوری ٹیم نہیں چلا سکتا، ہر شعبے کیلیے رہنمائی ضروری ہے، اسی لیے بیٹنگ کوچ کے تقرر کا فیصلہ کرنا پڑا،ملکی اور غیر ملکی امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ حتمی فیصلہ دورئہ بھارت سے قبل ہوسکے گا۔ پاکستانی ٹیم کے ان دنوں فارغ جبکہ دیگر ٹیموں کے مصروف ہونے کے سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ ہر ملک کی طرح ہم بھی آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے پابند ہیں، اسے میرے دور سے قبل ہی تشکیل دیا جا چکا تھا،اب تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تاہم قومی ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ سے رونقیں بڑھیں گی، ساتھ ہی کھلاڑیوں کی فارم و فٹنس کا اندازہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ ذکا اشرف نے کہا کہ کرکٹ کی بہتری کیلیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں، یونیورسٹیز بھی آگے آتے ہوئے کھیل میں تعلیم اور ڈگریاں دینے کا سلسلہ شروع کریں تو ہماراکام آسان ہوجائے گا، تعلیمی اداروں سے اچھے کرکٹر سامنے آئیں تو پاکستان کے کرکٹ میں مسائل کم ہوتے جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ برطانوی مصنف ایڈ ہاکنز اگر اپنی کتاب میں لکھی باتوں کے ثبوت فراہم کردیں تو ہم پہلے خود تحقیقات کریں گے، اس کے بعد اگر ضروری ہوا تو آئی سی سی سے مدد بھی لی جائے گی، انھوں نے کہا کہ میں کرکٹر نہیں مگر آرگنائزر ہونے کی بنا پر دنیا بھر کی کرکٹ سرگرمیوں کے بارے میں مطالعہ کرتا رہتا ہوں، اسپورٹس اب ٹیکنالوجی بن چکی۔
صرف ایک کوچ پوری ٹیم نہیں چلا سکتا، ہر شعبے کیلیے رہنمائی ضروری ہے، اسی لیے بیٹنگ کوچ کے تقرر کا فیصلہ کرنا پڑا،ملکی اور غیر ملکی امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ حتمی فیصلہ دورئہ بھارت سے قبل ہوسکے گا۔ پاکستانی ٹیم کے ان دنوں فارغ جبکہ دیگر ٹیموں کے مصروف ہونے کے سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ ہر ملک کی طرح ہم بھی آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے پابند ہیں، اسے میرے دور سے قبل ہی تشکیل دیا جا چکا تھا،اب تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تاہم قومی ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ سے رونقیں بڑھیں گی، ساتھ ہی کھلاڑیوں کی فارم و فٹنس کا اندازہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ ذکا اشرف نے کہا کہ کرکٹ کی بہتری کیلیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں، یونیورسٹیز بھی آگے آتے ہوئے کھیل میں تعلیم اور ڈگریاں دینے کا سلسلہ شروع کریں تو ہماراکام آسان ہوجائے گا، تعلیمی اداروں سے اچھے کرکٹر سامنے آئیں تو پاکستان کے کرکٹ میں مسائل کم ہوتے جائیں گے۔