بغدادی پولیس نوجوان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام

ارسلان کی موٹرسائیکل،موبائل فونز،رقم اورسامان کا سراغ بھی نہ لگایاجاسکا۔

نوجوان کی 28اکتوبرکوماڑی پورروڈکرما والی مسجدکی گلی سے لاش ملی تھی۔ فوٹو : ایکسپریس

لاہور:
بغدادی انویسٹی گیشن پولیس قتل کیے جانے والے نوجوان کی موٹر سائیکل اور موبائل فون کا سراغ نہیں لگا سکی۔

مقتول کو 24 روز قبل اغوا کے بعد قتل کرکے لاش بوری میں بند کی اور ماڑی پور روڈ پر پھینک دی تھی ، پولیس نے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا تھا ، تفصیلات کے مطابق28 ا کتوبرکو سعید آباد سیکٹر B-3کے رہائشی اور شیٹرنگ کا کام کرنے والے27 سالہ ارسلان ولد رئیس احمد نامی شخص کی ماڑی پور روڈ نزد کرما والی مسجد کی گلی سے بوری بند لاش ملی تھی جس کا مقدمہ مقتول کے بھائی اویس ولد رئیس احمد کی مدعیت میں بغدادی پولیس نے درج کرلیا تھا اور بغدادی پولیس کی جانب سے واقعے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATA کے تحت درج کیا گیا تھا تاہم 24 روزگزر جانے کے باوجود بغدادی پولیس نے مقتول ارسلان کے قتل میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کی اورنہ ہی مقتول ارسلان کے زیر استعمال موٹر سائیکل ، 2 موبائل فونز، 13ہزار رقم اور گھڑی سمیت دیگر سامان کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوسکی۔


بغدادی پولیس کی جانب سے واقعے کی ایف آئی آرمیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کو شامل کیا گیا ہے جس کے تحت مقتول ارسلان کے قتل کی تحقیقات انسپکٹر رینک کے افسرکے سپردکی جانی چاہیے تھی تاہم تحقیقات سب انسپکٹر کے سپرد کردی گئی اور تفتیشی افسر کی عدم دلچسپی کی وجہ سے نہ صرف تحقیقات میں پیش رفت نہیں ہوسکی بلکہ مقتول کے زیر استعمال موٹرسائیکل،2 موبائل فون،گھڑی اوردیگر قیمتی سامان کا سراغ مل سکا ہے، مقتول ارسلان کے ورثا نے بتایا کہ ارسلان کا بھائیوں میں دوسرا نمبرتھا جبکہ والد منشیات کے نشے کے عادی ہیں جبکہ گھرکی کفالت کی ذمے داری ارسلان اورچھوٹے بھائی اویس کے کندھوں پر تھی۔

انھوں نے بتایا کہ وہ چاہتے توضرورہیں کہ ارسلان کے قتل میں ملوث ملزمان کی نشاندہی ہو اور انہیں گرفتارکرکے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے تاہم انہیں انصاف ملنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ وہ غریب اورمتوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اوران میں اتنی سکت نہیںہے کہ وہ کسی کے خلاف کھڑے ہوسکیں، مقتول کے ورثا نے بتایا کہ ارسلان کے زیراستعمال جوموٹر سائیکل تھی وہ اس کے دوست صغیرکی تھی اورارسلان کے موبائل فون پر کسی نامعلوم شخص کی کال آئی تھی جس کے بعد ارسلان نے صغیر سے اس کی موٹر سائیکل لی اورگھرسے نکل گیا۔
Load Next Story