سمندری تبدیلیوں سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ڈاکٹر شوکت حیات
سمندردنیاکو21 ٹریلین ڈالزکی اشیا فراہم کررہا ہے،سمندروساحل کی حفاظت کےاقدامات کی ضرورت ہے،جامعہ اردو میں لیکچرسےخطاب۔
صنعتی فضلہ اور جہازوں سے رسنے والا تیل سمندری آلودگی بڑھارہا ہے،دنیا میں ہوا اور پانی کے طوفان سمندری تبدیلیوں سے آتے ہیں۔ فوٹو: فائل
سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اشنوگرافی ڈاکٹر شوکت حیات نے کہا کہ دنیا میں ہوا اور پانی کے زیادہ تر طوفان سمندر میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث آتے ہیں۔
سطح سمندرمیں اضافہ ہونے سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے دنیا بھر میں موسمی تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں ان خیالات کا اظہار انھوں نے وفاقی جامعہ اردو کے شعبہ جغرافیہ کے تحت ''عالمی موسمی تبدیلیوں اور سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث ہونے والے اثرات''کے موضوع پر معلوماتی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں خصوصاً سمندر اور ساحل کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
سمندر کے اندر زمین کی سطح مزید نیچے ہورہی ہیں جس سے پانی زمین پر پھیل رہا ہے اچھا سمندر صحت تحفظ اور زندگی کا ضامن ہوتاہے صنعتی فضلہ پلاسٹک اور تیل کے جہازوں سے بعض اوقات رسنے والا تیل سمندری آلودگی میں روز بروز اضافہ کررہا ہے صنعتوں کے فضلے کو جدید مشینوں سے ٹریٹ کرکے سمندر برد کرنا چاہیے تاکہ سمندر میں آلودگی کم سے کم ہو پاکستان کے ساحل پر تیمر کے وسیع جنگلات موجود ہیں جو آبی حیات کے ضامن ہیں سمندر دنیا بھر کو 21 ٹریلین ڈالز کی اشیا فراہم کررہا ہے جس میں معدنیات تیل ،گیس ،مچھلی، جھینگے اور دوائوں کے لیے جڑی بوٹیاں اور اجزاشامل ہیں۔
دنیا کی پہلی آبادی سمندر کے کنارے سے شروع ہوئی سمندر آکسیجن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جانے سے سرد ملکوں کے ساحلی علاقوں کی برف پگھلتی ہے اور وہاں موسم کم سردہوجاتا ہے جبکہ گرم ملکوں کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے، ہمارے ملک کے ساحلی علاقوں اورسمندر میں آلودگی کے باعث تیمر کے پودے تیزی سے ختم ہورہے ہیں اور مچھلی کی افزائش میں کمی واقع ہورہی ہے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر قمرالحق نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے لیکچرز کے انعقاد سے اساتذہ اور طلبا کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
طلبا کوموسمی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے میں یہ لیکچر نہ صرف نہایت مفید ثابت ہوتا ہے بلکہ انھیں سمندری آلودگی کے خاتمے کا شعور بھی حاصل ہوگا، شعبہ جغرافیہ کی چیئرپرسن شازیہ ناز نے کہا کہ جس ملک میں عدلیہ آزاد ہو اور تعلیم کے شعبے میں مسلسل کام ہوتا رہے اسے ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا،ڈاکٹر شوکت نے سائوتھ پول جانے والے وفد میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وہاں ملک کا جھنڈا لہرایا ماحولیاتی آلودگی اور عالمی موسمی تبدیلیوں پر انکا تحقیقی کام قابل فخر ہے۔
سطح سمندرمیں اضافہ ہونے سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے دنیا بھر میں موسمی تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں ان خیالات کا اظہار انھوں نے وفاقی جامعہ اردو کے شعبہ جغرافیہ کے تحت ''عالمی موسمی تبدیلیوں اور سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث ہونے والے اثرات''کے موضوع پر معلوماتی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں خصوصاً سمندر اور ساحل کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
سمندر کے اندر زمین کی سطح مزید نیچے ہورہی ہیں جس سے پانی زمین پر پھیل رہا ہے اچھا سمندر صحت تحفظ اور زندگی کا ضامن ہوتاہے صنعتی فضلہ پلاسٹک اور تیل کے جہازوں سے بعض اوقات رسنے والا تیل سمندری آلودگی میں روز بروز اضافہ کررہا ہے صنعتوں کے فضلے کو جدید مشینوں سے ٹریٹ کرکے سمندر برد کرنا چاہیے تاکہ سمندر میں آلودگی کم سے کم ہو پاکستان کے ساحل پر تیمر کے وسیع جنگلات موجود ہیں جو آبی حیات کے ضامن ہیں سمندر دنیا بھر کو 21 ٹریلین ڈالز کی اشیا فراہم کررہا ہے جس میں معدنیات تیل ،گیس ،مچھلی، جھینگے اور دوائوں کے لیے جڑی بوٹیاں اور اجزاشامل ہیں۔
دنیا کی پہلی آبادی سمندر کے کنارے سے شروع ہوئی سمندر آکسیجن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جانے سے سرد ملکوں کے ساحلی علاقوں کی برف پگھلتی ہے اور وہاں موسم کم سردہوجاتا ہے جبکہ گرم ملکوں کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے، ہمارے ملک کے ساحلی علاقوں اورسمندر میں آلودگی کے باعث تیمر کے پودے تیزی سے ختم ہورہے ہیں اور مچھلی کی افزائش میں کمی واقع ہورہی ہے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر قمرالحق نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے لیکچرز کے انعقاد سے اساتذہ اور طلبا کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
طلبا کوموسمی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے میں یہ لیکچر نہ صرف نہایت مفید ثابت ہوتا ہے بلکہ انھیں سمندری آلودگی کے خاتمے کا شعور بھی حاصل ہوگا، شعبہ جغرافیہ کی چیئرپرسن شازیہ ناز نے کہا کہ جس ملک میں عدلیہ آزاد ہو اور تعلیم کے شعبے میں مسلسل کام ہوتا رہے اسے ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا،ڈاکٹر شوکت نے سائوتھ پول جانے والے وفد میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وہاں ملک کا جھنڈا لہرایا ماحولیاتی آلودگی اور عالمی موسمی تبدیلیوں پر انکا تحقیقی کام قابل فخر ہے۔