جرائم کے خاتمے کیلیے بلاتفریق کارروائیاںکی جائیں گورنر
جان ومال کے تحفظ کیلیے اقدامات یقینی بنائے جائیں،گورنرہائوس میںاجلاس سے خطاب.
شہرمیںخفیہ کیمروںکی تنصیب کاکام جلدمکمل اورامن وامان کی صورتحال مزیدبہتربنائی جائے۔ فوٹو: فائل
گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادنے قانون نافذکرنے والے اداروںکوہدایت کی ہے کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلیے اقدامات کویقینی بنایا جائے۔
حالیہ دنوں میں قانون کے نفاذ کے لیے جس سختی کا مظاہرہ کیاہے وہ جاری رہناچاہیے،صدر پاکستان،وزیر اعظم اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کااس سلسلے میں مکمل تعاون رہے گا،پولیس و رینجرزجرائم کی بیخ کنی کیلیے بلا تفریق کارروائی جاری رکھیں۔ہفتے کوگورنر ہائوس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہاکہ عوام کو تحفظ کااحساس دلانے کیلیے ضروری ہے کہ مجرموںکے خلاف کاروائی مزیدتیزکی جائے اوران کوقانون کے تحت کیفرکردار تک پہنچایاجائے۔
اس موقع پرشہرمیں خفیہ کیمروںکی تنصیب کابھی جائزہ لیاگیا،گورنرنے یہ کام فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔گورنرسندھ نے کہاکہ جس لگن اورعزم سے امن وامان کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں تاجرو صنعتکار برادری نے اس کی پزیرائی کی ہے،جرائم کی نوعیت مختلف ہے،ان کو اس کے مطابق ہی نمٹناہوگالہذا حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے جرم کی نوعیت کاخاص خیال رکھاجائے، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ،بھتہ،اغوابرائے تاوان ، ڈکیتیاں اور دیگر ہرجرم کو اس کی شدت کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد،آئی جی پولیس فیاض لغاری،ڈی جی رینجرزرفیق خان، پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹرنوشادشیخ،کمشنر کراچی ہاشم رضا زیدی،اے آئی جی کراچی اقبال محموداوردیگر حکام نے شرکت کی۔
حالیہ دنوں میں قانون کے نفاذ کے لیے جس سختی کا مظاہرہ کیاہے وہ جاری رہناچاہیے،صدر پاکستان،وزیر اعظم اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کااس سلسلے میں مکمل تعاون رہے گا،پولیس و رینجرزجرائم کی بیخ کنی کیلیے بلا تفریق کارروائی جاری رکھیں۔ہفتے کوگورنر ہائوس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہاکہ عوام کو تحفظ کااحساس دلانے کیلیے ضروری ہے کہ مجرموںکے خلاف کاروائی مزیدتیزکی جائے اوران کوقانون کے تحت کیفرکردار تک پہنچایاجائے۔
اس موقع پرشہرمیں خفیہ کیمروںکی تنصیب کابھی جائزہ لیاگیا،گورنرنے یہ کام فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔گورنرسندھ نے کہاکہ جس لگن اورعزم سے امن وامان کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں تاجرو صنعتکار برادری نے اس کی پزیرائی کی ہے،جرائم کی نوعیت مختلف ہے،ان کو اس کے مطابق ہی نمٹناہوگالہذا حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے جرم کی نوعیت کاخاص خیال رکھاجائے، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ،بھتہ،اغوابرائے تاوان ، ڈکیتیاں اور دیگر ہرجرم کو اس کی شدت کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد،آئی جی پولیس فیاض لغاری،ڈی جی رینجرزرفیق خان، پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹرنوشادشیخ،کمشنر کراچی ہاشم رضا زیدی،اے آئی جی کراچی اقبال محموداوردیگر حکام نے شرکت کی۔