کرپشن بڑھ گئی استعفیٰ نہیں دونگا کوئی چاہے تو مجھے ہٹا دے چیئر مین نیب
جی ایچ کیواورایوان صدرسے دبائونہیں،مجرموں کیخلاف کارروائی کی جائے توگند اچھالتے ہیں.
کرپشن کے خلاف لڑوںگا،نوازشریف نے بھی میری حمایت کی تھی، فصیح بخاری کی پریس بریفنگ۔ فوٹو : اے پی پی
چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کہا ہے کہ کرپشن کیخلاف لڑوں گا استعفیٰ نہیں دوں گا ،کسی نے ہٹانا ہے تو ہٹا دے۔
چیئرمین نیب کے عہدے کیلیے نواز شریف نے بھی میری حمایت کی تھی ، جی ایچ کیو اور ایوان صدر سے کوئی دباؤ نہیں، ملک میں کرپشن کا رجحان غیر معمولی حد تک بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ریگولیٹری مشینری غیر فعال ہو چکی ہے۔ ریگولیٹری اداروں کے تعاون سے کرپشن کی روک تھام کیلیے پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے نیب نے 15سو ارب کے قومی منصوبوں کے ٹینڈر و نیلامی کے طریقہ کار میں بے ضابطیوں پر مداخلت کی اور متعلقہ اداروں کو اصلاح کرنے کی ترغیب دی۔ ہفتے کو نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب کی ایک سالہ کارکردگی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ مجرموں کیخلاف کارروائی کے دوران پریشر اپنے اوپر لیا اور ادارے کو اس پریشرکے نیچے نہیں آنے دیا۔ انھوں نے کہا کہ مجرموں کیخلاف کارروائی کی جائے تووہ گند اچھالتے ہیں اور خودکو پاک صاف ظاہرکرتے ہیں ۔
چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کا کیس واپس لیے جانے سے متعلق انھوں نے کہا یہ کیس نیب کو دیے جانے سے قبل میں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ دو افراد کا انفرادی معاملہ ہے اور نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کرپشن کی روک تھام کے ریگولیٹرز مضبوط نہ ہوں تو ٹھیکے کے مرحلے سے کرپشن کا آغاز ہو جاتا ہے، ریگولیٹرزکو نیب نے تحفظ دینے کی بات کی، اب بیوروکریٹ بھی کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرنے سے گریزکرتے ہیں جس میں بے ضابطی نظر آ رہی ہو۔ نیب کے ڈی جی اے پی ونگ بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی نے کہا کہ کرپشن کی پیشگی روک تھام کا طریقہ کاراستعمال کرتے ہوئے1475 ارب کے منصوبوں کو نہ صرف درست کرنے کے احکام دیے بلکہ ٹینڈرکے طریقۂ کار میں ہونے والی بے ضابطی پر نیب نے باربار مداخلت کی، کئی منصوبوں کی نیب کے پاس انکوائریاں جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسکول کالج یونیورسٹیز میں طلباء و طالبات کوکرپشن کیخلاف آگاہی دینے کیلیے مہم چلائی جائے گی اور نوجوان نسل کو کرپشن کیخلاف تعلیم دی جائے گی، نصاب میں تبدیلی لانے کے انتظامات کی سفارش کی جا رہی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ پیشگی روک تھام کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے رینٹل پاور جیسے بڑے کرپشن کے واقعات سامنے آتے ہیں جب منصوبوں میں کئی کمپنیاں اور افراد شامل ہوں تو پھر تحقیقات میں وقت لگتا ہے ۔ این این آئی کے مطابق فصیح بخاری نے کہاکرپشن ختم کرکے ہی دم لوں گا ،حکومت ہٹانا چاہتی ہے تو ہٹا دے، ارسلان افتخارکیس نیب سے واپس لیا جانا کوئی مسئلہ نہیں، سڈل کمیشن سے تعاون کرینگے، ایک سال سے بدعنوانی کے خاتمے کیلیے نیا میکنزم لاگو ہے، ہر سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کیلیے کوششیں کی ہیں، صوبائی سطح پر مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ثناء نیوزکے مطابق فصیح بخاری نے کہا کہ کرپشن ختم کرکے دکھائوں گا استعفیٰ نہیں دوںگا ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ جب بیوروکریسی، پرائیویٹ سیکٹر اور سیاسی طبقہ اکٹھا ہو جاتے ہیں توگرینڈکرپشن ہوتی ہے، پاکستان میں سیاستدانوں اور پرائیویٹ سیکٹرکے دبائوکی وجہ سے بد انتظامی کے باعث ریگولیٹری میکنزم تباہ ہوجانے سے کرپشن بڑھ گئی ہے۔ فصیح بخاری نے کہا کہ میں نے سوچا کام کرکے دکھائو،اگرمجھے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے توبیشک نکال دیا جائے مگر استعفیٰ نہیں دوں گا ۔
چیئرمین نیب کے عہدے کیلیے نواز شریف نے بھی میری حمایت کی تھی ، جی ایچ کیو اور ایوان صدر سے کوئی دباؤ نہیں، ملک میں کرپشن کا رجحان غیر معمولی حد تک بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ریگولیٹری مشینری غیر فعال ہو چکی ہے۔ ریگولیٹری اداروں کے تعاون سے کرپشن کی روک تھام کیلیے پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے نیب نے 15سو ارب کے قومی منصوبوں کے ٹینڈر و نیلامی کے طریقہ کار میں بے ضابطیوں پر مداخلت کی اور متعلقہ اداروں کو اصلاح کرنے کی ترغیب دی۔ ہفتے کو نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب کی ایک سالہ کارکردگی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ مجرموں کیخلاف کارروائی کے دوران پریشر اپنے اوپر لیا اور ادارے کو اس پریشرکے نیچے نہیں آنے دیا۔ انھوں نے کہا کہ مجرموں کیخلاف کارروائی کی جائے تووہ گند اچھالتے ہیں اور خودکو پاک صاف ظاہرکرتے ہیں ۔
چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کا کیس واپس لیے جانے سے متعلق انھوں نے کہا یہ کیس نیب کو دیے جانے سے قبل میں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ دو افراد کا انفرادی معاملہ ہے اور نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کرپشن کی روک تھام کے ریگولیٹرز مضبوط نہ ہوں تو ٹھیکے کے مرحلے سے کرپشن کا آغاز ہو جاتا ہے، ریگولیٹرزکو نیب نے تحفظ دینے کی بات کی، اب بیوروکریٹ بھی کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرنے سے گریزکرتے ہیں جس میں بے ضابطی نظر آ رہی ہو۔ نیب کے ڈی جی اے پی ونگ بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی نے کہا کہ کرپشن کی پیشگی روک تھام کا طریقہ کاراستعمال کرتے ہوئے1475 ارب کے منصوبوں کو نہ صرف درست کرنے کے احکام دیے بلکہ ٹینڈرکے طریقۂ کار میں ہونے والی بے ضابطی پر نیب نے باربار مداخلت کی، کئی منصوبوں کی نیب کے پاس انکوائریاں جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسکول کالج یونیورسٹیز میں طلباء و طالبات کوکرپشن کیخلاف آگاہی دینے کیلیے مہم چلائی جائے گی اور نوجوان نسل کو کرپشن کیخلاف تعلیم دی جائے گی، نصاب میں تبدیلی لانے کے انتظامات کی سفارش کی جا رہی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ پیشگی روک تھام کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے رینٹل پاور جیسے بڑے کرپشن کے واقعات سامنے آتے ہیں جب منصوبوں میں کئی کمپنیاں اور افراد شامل ہوں تو پھر تحقیقات میں وقت لگتا ہے ۔ این این آئی کے مطابق فصیح بخاری نے کہاکرپشن ختم کرکے ہی دم لوں گا ،حکومت ہٹانا چاہتی ہے تو ہٹا دے، ارسلان افتخارکیس نیب سے واپس لیا جانا کوئی مسئلہ نہیں، سڈل کمیشن سے تعاون کرینگے، ایک سال سے بدعنوانی کے خاتمے کیلیے نیا میکنزم لاگو ہے، ہر سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کیلیے کوششیں کی ہیں، صوبائی سطح پر مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ثناء نیوزکے مطابق فصیح بخاری نے کہا کہ کرپشن ختم کرکے دکھائوں گا استعفیٰ نہیں دوںگا ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ جب بیوروکریسی، پرائیویٹ سیکٹر اور سیاسی طبقہ اکٹھا ہو جاتے ہیں توگرینڈکرپشن ہوتی ہے، پاکستان میں سیاستدانوں اور پرائیویٹ سیکٹرکے دبائوکی وجہ سے بد انتظامی کے باعث ریگولیٹری میکنزم تباہ ہوجانے سے کرپشن بڑھ گئی ہے۔ فصیح بخاری نے کہا کہ میں نے سوچا کام کرکے دکھائو،اگرمجھے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے توبیشک نکال دیا جائے مگر استعفیٰ نہیں دوں گا ۔