صدر زرداری سیاست کرینگے اور پارٹی سربراہ بھی رہینگے فواد چوہدری

صدر کا سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا آئینی ہے یا غیر آئینی،تشریح عدالت کریگی،شفقت محمود.

صدر زرداری عالمی اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈہ لیکر چل رہے ہیں،میاں جاوید کی تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صدرآصف زرداری سیاسی شخصیت ہیں وہ سیاست کریں گے اور پارٹی کے سربراہ بھی رہیں گے۔

صدر کا غیر سیاسی ہونا ممکن ہی نہیں، جو بھی پاکستان کا صدر بنے گا وہ سیاسی ہی ہوگا۔ پروگرام تکرار میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ تاثر یہ سامنے آرہا ہے کہ صدر کو آئندہ کے انتخابی ماحول سے باہر رکھنے کے لیے عدلیہ کو استعمال کیا جارہا ہے، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی یہ خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں، آئین میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ فلاں کام اگر صدر کریگا تو سیاسی ہوگا اور اگر فلاں کام نہیں کرے گا تو غیر سیاسی ہوگا۔


پاکستان کے عوام اور پیپلزپارٹی کے ارکان حکومت کو طالبان سے خطرہ ہے ن لیگ اور پی ٹی آئی کو طالبان سے خطرہ نہیں کیونکہ یہ طالبان کے دوست ہیں، میں تو دونوں سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ الیکشن میں حصہ لیں اور ووٹ لے کر بھی جیتنا سیکھیں، صدر کو عوام نے منتخب کیا ہے اور ہم دنیا سے الگ تھلگ ہوکر نہیں چل سکتے عالمی ایجنڈا اور پیپلزپارٹی کا ایجنڈہ ایک ہے، مسلم لیگ ن اور طالبان کا ایجنڈہ ایک ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہاکہ صدر کا منصب غیر سیاسی ہے، جتنے بھی صدر بنے سب اداروں کی نمائندگی کرتے تھے لیکن موجودہ صدر کی پرابلم یہ ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈہ لیکر چل رہے ہیں۔

یہ عالمی فورسز کی نمائندگی کررہے ہیں، عالمی فورسز پاکستان کو کمزور غیر مستحکم بنانا چاہتی ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو ڈرون حملے کررہے ہیں، صدر کا کام نہیں کہ وہ سرائیکی صوبہ بنانے کی بات کرے، صدر کا کام نہیں کہ کراچی میں دو الگ قوانین بنائے، یہ موجودہ سسٹم کو ڈی ریل اور انتخابات میں تاخیر کے لئے یہ سب کررہے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہاکہ آئین کے مطابق پاکستان کا صدر نیوٹرل ہونا چاہئے اس کا بطور صدر کسی سیاسی سرگرمی میں شامل ہونا غیر آئینی ہے، اگر ہم کہتے ہیں کہ صدر کا سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا غیر آئینی ہے اور پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ آئینی ہے تو ایسی صورتحال میں آئین کی تشریح عدالت نے ہی کرنی ہے، صدر زرداری سیاست کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن بطور صدر سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے۔
Load Next Story