پاکستان نے 40ہزارجانیں قربان کیںباہمی احترام کے تعلقات چاہتے ہیںامریکی سفیر
امریکاپاکستان میں جمہوری رویوں کومستحسن سمجھتا ہے،امید ہے آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات کےنتیجےمیں اقتدارمنتقل ہو گا.
سپلائی لائن کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ہے ، انٹرویو. فوٹو: اسٹیٹ ڈاٹ گورنمنٹ
پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ قریبی شراکت داری ، مشترکہ مفادات اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔
ریڈیو پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سفیرنے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو چیلنجوں کا سامنا رہا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل بات چیت کے بعد تعلقات میں بہتری آئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکا سپلائی لائن دوبارہ کھولنے کے پاکستانی فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ امریکی سفیر نے صدر زرداری اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے امریکا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفود بھی پاکستان کا دورہ کریں گے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات سمیت مختلف امور پر بات چیت کی جائے گی ۔
پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات امریکا کیلیے اہمیت رکھتے ہیں ، امریکا نہ صرف افغانستان کے سلسلے میں بلکہ 2015ء کے بعد اس صدی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی اہمیت کا ادراک رکھتا ہے ۔ ایک سوال پر رچرڈ اولسن نے کہا کہ امریکا پاکستان میں جمہوری رویوں کو مستحسن سمجھتا ہے اور امید ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار ایک سول حکومت سے دوسری سول حکومت کو منتقل ہو گا ۔ صدر آصف زرداری کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں امریکی سفیر نے کہا کہ انھوں نے باہمی دلچسپی اور علاقائی اہمیت کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔
امریکی سفیر نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس لڑائی میں 40 ہزار پاکستانی اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ امریکا نے حکومت پاکستان کے ساتھ گذشتہ کئی برسوں کے دوران کئی منصوبوں پر مل کرکا م کیا ہے جن سے 400 میگاواٹ سے بھی زیادہ بجلی حاصل ہوئی ہے ، یہ بجلی گرڈ میں شامل ہوچکی ہے جو تقریباً 60 لاکھ افراد کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کیلیے کافی ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ سال 2013ء تک یہ 900میگاواٹ کے ہدف تک پہنچ جائے ۔
تاریخی اعتبارسے ہم نے جس شعبے پر توجہ دی ہے وہ پن بجلی کی پیداوار ہے اور ہم تاریخی طور پر ڈیموں کے کئی منصوبوں میں شامل رہے ہیں جن میں تربیلا ڈیم خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔ امریکا پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے ۔ ہمارے پیش نظر بات یہ ہے کہ دونوں ملک گزشتہ 65 سالہ شراکت داری پر مبنی ایسے تعلقات استوار کریں جن میں دونوں ایک دوسرے کے مفادات اور وقار کی پاسداری کریں۔ 2014ء تک افغانستان کا سیکیورٹی کنٹرول اس کے حوالے کرنے کا پورا پروگرام تیار کیا جا چکا ہے۔
ریڈیو پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سفیرنے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو چیلنجوں کا سامنا رہا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل بات چیت کے بعد تعلقات میں بہتری آئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکا سپلائی لائن دوبارہ کھولنے کے پاکستانی فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ امریکی سفیر نے صدر زرداری اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے امریکا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفود بھی پاکستان کا دورہ کریں گے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات سمیت مختلف امور پر بات چیت کی جائے گی ۔
پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات امریکا کیلیے اہمیت رکھتے ہیں ، امریکا نہ صرف افغانستان کے سلسلے میں بلکہ 2015ء کے بعد اس صدی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی اہمیت کا ادراک رکھتا ہے ۔ ایک سوال پر رچرڈ اولسن نے کہا کہ امریکا پاکستان میں جمہوری رویوں کو مستحسن سمجھتا ہے اور امید ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار ایک سول حکومت سے دوسری سول حکومت کو منتقل ہو گا ۔ صدر آصف زرداری کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں امریکی سفیر نے کہا کہ انھوں نے باہمی دلچسپی اور علاقائی اہمیت کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔
امریکی سفیر نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس لڑائی میں 40 ہزار پاکستانی اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ امریکا نے حکومت پاکستان کے ساتھ گذشتہ کئی برسوں کے دوران کئی منصوبوں پر مل کرکا م کیا ہے جن سے 400 میگاواٹ سے بھی زیادہ بجلی حاصل ہوئی ہے ، یہ بجلی گرڈ میں شامل ہوچکی ہے جو تقریباً 60 لاکھ افراد کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کیلیے کافی ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ سال 2013ء تک یہ 900میگاواٹ کے ہدف تک پہنچ جائے ۔
تاریخی اعتبارسے ہم نے جس شعبے پر توجہ دی ہے وہ پن بجلی کی پیداوار ہے اور ہم تاریخی طور پر ڈیموں کے کئی منصوبوں میں شامل رہے ہیں جن میں تربیلا ڈیم خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔ امریکا پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے ۔ ہمارے پیش نظر بات یہ ہے کہ دونوں ملک گزشتہ 65 سالہ شراکت داری پر مبنی ایسے تعلقات استوار کریں جن میں دونوں ایک دوسرے کے مفادات اور وقار کی پاسداری کریں۔ 2014ء تک افغانستان کا سیکیورٹی کنٹرول اس کے حوالے کرنے کا پورا پروگرام تیار کیا جا چکا ہے۔