ٹیکس گزاروں کے حقوق کو تحفظ دینے کاقانون لانے پرغور
ٹی آرسی نے ایف بی آرکوبجٹ میں ٹیکس پیئرزبل آف رائٹس متعارف کرانے کی تجویزدی تھی
ٹی آرسی نے ایف بی آرکوبجٹ میں ٹیکس پیئرزبل آف رائٹس متعارف کرانے کی تجویزدی تھی فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امریکی طرز پر پاکستان میں بھی ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کیلیے ٹیکس اصلاحات کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام ٹیکس دہندگان کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے اور ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ بجٹ میں اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس یا چارٹر آف رائٹس کے نام سے قانون متعارف کرایا جائے اس بل کے تحت ٹیکس دہندگان کو اس بات کی گارنٹی ہونی چاہیے کہ ان کی طرف سے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ آمدنی و اثاثوں سمیت دیگر تمام تر معلومات محفوظ اور خفیہ رہیں گی۔
اس کے علاوہ اس قانون میں ایسی شقیں متعارف کرائی جائیں جس کے تحت ٹیکس دہندگان کو مدد فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہو اور ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سمیت ٹیکس سے متعلقہ دیگر معاملات میں بھی ریاست کی جانب سے مدد کی جائے۔ ٹیکس اصلاحات کمیشن کاکہنا ہے کہ قومی سطح پر اتفاق رائے ہے کہ بطور خودانحصار قوم ہماری بقا اسی سے وابستہ ہے کہ تمام لوگ صلاحیت کے مطابق ٹیکس دیں، ٹیکسوں کی مد میں ریونیو اور وسائل زیادہ سے زیادہ دستیاب ہو سکیں اور ان وسائل کو ملکی اخراجات پورے کرنے اور ترقیاتی منصوبوں سمیت بجلی، پانی، گیس، صحت اور تعلیم سمیت دیگر ضروری سہولتوں کے لیے استعمال میں لایا جاسکے۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ ٹیکس معاملات پر ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان مفاہمت کے لیے وقت درکار ہے لیکن ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت کو پہلے قدم کے طور پر ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس نافذ کرنا چاہیے، امریکا، کینیڈا اور برطانیہ میں اس طرح کے قوانین نافذ ہیں جو ٹیکس دہندگان کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں لیکن پاکستان میں حکومتی سطح پر کبھی اس طرف توجہ نہیں دی گئی کہ ٹیکس دہندگان کو ان کی ذمے داریوں کے بارے میں تعلیم دی جائے، ٹیکس دہندگان کو ٹیکس حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے یہاں ٹیکس دہندگان کے لیے کوئی مخصوص بل آف رائٹس یا چارٹر نہیں۔
کمیشن نے کہاکہ جب تک عوام خصوصاً ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت بنیادی نوعیت کے اقدامات نہیں کرتی اس وقت تک ٹیکس اصلاحی کوششیں محض کہانی ہیں لہٰذا اس کے لیے حکومت پہلے قدم کے طور پر آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے امریکی طرز پرٹیکس پیئرز بل آف رائٹس متعارف کرائے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امریکی طرز پر پاکستان میں بھی ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کیلیے ٹیکس اصلاحات کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام ٹیکس دہندگان کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے اور ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ بجٹ میں اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس یا چارٹر آف رائٹس کے نام سے قانون متعارف کرایا جائے اس بل کے تحت ٹیکس دہندگان کو اس بات کی گارنٹی ہونی چاہیے کہ ان کی طرف سے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ آمدنی و اثاثوں سمیت دیگر تمام تر معلومات محفوظ اور خفیہ رہیں گی۔
اس کے علاوہ اس قانون میں ایسی شقیں متعارف کرائی جائیں جس کے تحت ٹیکس دہندگان کو مدد فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہو اور ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سمیت ٹیکس سے متعلقہ دیگر معاملات میں بھی ریاست کی جانب سے مدد کی جائے۔ ٹیکس اصلاحات کمیشن کاکہنا ہے کہ قومی سطح پر اتفاق رائے ہے کہ بطور خودانحصار قوم ہماری بقا اسی سے وابستہ ہے کہ تمام لوگ صلاحیت کے مطابق ٹیکس دیں، ٹیکسوں کی مد میں ریونیو اور وسائل زیادہ سے زیادہ دستیاب ہو سکیں اور ان وسائل کو ملکی اخراجات پورے کرنے اور ترقیاتی منصوبوں سمیت بجلی، پانی، گیس، صحت اور تعلیم سمیت دیگر ضروری سہولتوں کے لیے استعمال میں لایا جاسکے۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ ٹیکس معاملات پر ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان مفاہمت کے لیے وقت درکار ہے لیکن ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت کو پہلے قدم کے طور پر ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس نافذ کرنا چاہیے، امریکا، کینیڈا اور برطانیہ میں اس طرح کے قوانین نافذ ہیں جو ٹیکس دہندگان کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں لیکن پاکستان میں حکومتی سطح پر کبھی اس طرف توجہ نہیں دی گئی کہ ٹیکس دہندگان کو ان کی ذمے داریوں کے بارے میں تعلیم دی جائے، ٹیکس دہندگان کو ٹیکس حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے یہاں ٹیکس دہندگان کے لیے کوئی مخصوص بل آف رائٹس یا چارٹر نہیں۔
کمیشن نے کہاکہ جب تک عوام خصوصاً ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت بنیادی نوعیت کے اقدامات نہیں کرتی اس وقت تک ٹیکس اصلاحی کوششیں محض کہانی ہیں لہٰذا اس کے لیے حکومت پہلے قدم کے طور پر آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے امریکی طرز پرٹیکس پیئرز بل آف رائٹس متعارف کرائے۔