پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا چاہیے
پاک افغان سرحد پرحفاظتی باڑ لگانے کے ایشو پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔
پاک افغان سرحد پرحفاظتی باڑ لگانے کے ایشو پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔ فوٹو؛ فائل
پاک افغان سرحد پرحفاظتی باڑ لگانے کے ایشو پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے اور ابھی تک اس کے حل کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ پاکستان کی جانب سے طورخم سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کی کوشش پر افغان فورسز کی جانب سے فائرنگ کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی جس کے بعد طورخم سرحد کو منگل کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا اور معاملات ابھی تک جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز حکام کے مطابق افغان حکام جب تک ہمیں سرحد پر کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دیتے سرحد کو نہیں کھولا جائے گا۔ سرکاری ذرایع کے مطابق طورخم سرحد پر افغانوں کو قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان آنے اور ان کو مخصوص راستوں سے گزارنے اور تلاشی کے بعد چھوڑنا نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اس لیے پاکستان کی حدود میں باڑ لگانے اور لوگوں کی آمدورفت کا جو طریقہ کار بنایا گیا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں ہو گا اس لیے افغان حکام کی طرف سے باڑ لگانے پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔
پاکستان کو ایک عرصے سے افغان حکومت سے یہ شکایت رہی ہے کہ اس کے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کے ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گرد افغان سرحد پار کرکے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بناتے اور دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔ پاکستان نے اس مسئلے پر افغان حکومت سے متعدد بار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرحد پار دہشت گردوں کی دخل اندازی روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے لیکن افغان حکومت نے اس مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔
اب پاکستان نے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے طورخم سرحد پر بگاڑ لگانے کی کوشش کی تو افغان حکومت نے اس مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب افغانوں کی ایک بڑی تعداد ایک عرصے سے قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں آتی جاتی رہی ہے اب دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث پاکستان نے یہ اعلان کیا کہ افغانوں کو پاکستان آنے کے لیے قانونی دستاویزات تیار کرنا ہوں گی اور اس کے علاوہ آمدورفت کے لیے مخصوص راستوں کا تعین کیا جائے گا اور ان کی تلاشی کے بعد انھیں پاکستان آنے کی اجازت دی جائے گی۔
شاید پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہے جہاں دوسرے ممالک بالخصوص افغانستان سے لوگ بلارکاوٹ اور بلا کسی قانونی دستاویزات اور شناخت کے آتے جاتے رہتے ہیں' اس مسئلے پر بہت سے حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے رہے کہ داخلی سطح کے ساتھ ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ہر ممکن اقدامات کرے یہ اس کا حق ہے خاص طور پر افغانستان سے دہشت گردوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت روکنے کے لیے سخت قوانین بنانے ناگزیر ہیں۔ نہ صرف افغان بلکہ بنگالی اور برمی بھی بڑی تعداد میں کسی قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں خفیہ راستوں سے آتے رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی ملک اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدامات کرتا ہے تو دوسرے ممالک کو اس پر قطعی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک اس وقت دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اس لیے قومی سلامتی کو درپیش اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ دونوں ممالک مل کر اس مسئلے سے نمٹیں۔ اگر سرحد پر باڑ لگتی اور افغانوں کو قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان آمدورفت کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو پہنچے بلکہ افغانستان بھی اس سے مستفید ہو گا اور سرحدوں پر دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی کمی آئے گی۔ امریکا ایک عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے افغان حکومت کا پاکستان کے خلاف رویہ خاصا جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔
کبھی افغان صدر پاکستان کے خلاف بیانات دیتے ہیں تو کبھی افغان آرمی چیف دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اب افغان سرحدی فورسز کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے سے پاکستان کو روکنے کی کوششیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرحد پر باڑ افغان حکومت کو اپنے ارادوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ معلوم ہوتی ہے' ایک تو افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں بآسانی داخل ہو جاتے ہیں دوسری جانب غربت اور بیروزگاری کے مارے افغانوں کی بڑی تعداد بلا روک ٹوک پاکستان آ جاتی ہے جس سے افغان حکومت پر معاشی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ لہٰذا افغان حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ پاکستان اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائے تاکہ افغان حکومت کو ایسے اقدامات سے روکا جائے جس سے سرحدوں پر کشیدہ صورت حال پیدا ہو اور پاکستان کو پاک افغان سرحد لازمی طور پر محفوظ بنانا چاہیے اور باڑ لگانے کا کام جاری رہنا چاہیے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز حکام کے مطابق افغان حکام جب تک ہمیں سرحد پر کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دیتے سرحد کو نہیں کھولا جائے گا۔ سرکاری ذرایع کے مطابق طورخم سرحد پر افغانوں کو قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان آنے اور ان کو مخصوص راستوں سے گزارنے اور تلاشی کے بعد چھوڑنا نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اس لیے پاکستان کی حدود میں باڑ لگانے اور لوگوں کی آمدورفت کا جو طریقہ کار بنایا گیا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں ہو گا اس لیے افغان حکام کی طرف سے باڑ لگانے پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔
پاکستان کو ایک عرصے سے افغان حکومت سے یہ شکایت رہی ہے کہ اس کے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کے ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گرد افغان سرحد پار کرکے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بناتے اور دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔ پاکستان نے اس مسئلے پر افغان حکومت سے متعدد بار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرحد پار دہشت گردوں کی دخل اندازی روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے لیکن افغان حکومت نے اس مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔
اب پاکستان نے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے طورخم سرحد پر بگاڑ لگانے کی کوشش کی تو افغان حکومت نے اس مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب افغانوں کی ایک بڑی تعداد ایک عرصے سے قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں آتی جاتی رہی ہے اب دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث پاکستان نے یہ اعلان کیا کہ افغانوں کو پاکستان آنے کے لیے قانونی دستاویزات تیار کرنا ہوں گی اور اس کے علاوہ آمدورفت کے لیے مخصوص راستوں کا تعین کیا جائے گا اور ان کی تلاشی کے بعد انھیں پاکستان آنے کی اجازت دی جائے گی۔
شاید پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہے جہاں دوسرے ممالک بالخصوص افغانستان سے لوگ بلارکاوٹ اور بلا کسی قانونی دستاویزات اور شناخت کے آتے جاتے رہتے ہیں' اس مسئلے پر بہت سے حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے رہے کہ داخلی سطح کے ساتھ ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ہر ممکن اقدامات کرے یہ اس کا حق ہے خاص طور پر افغانستان سے دہشت گردوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت روکنے کے لیے سخت قوانین بنانے ناگزیر ہیں۔ نہ صرف افغان بلکہ بنگالی اور برمی بھی بڑی تعداد میں کسی قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں خفیہ راستوں سے آتے رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی ملک اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدامات کرتا ہے تو دوسرے ممالک کو اس پر قطعی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک اس وقت دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اس لیے قومی سلامتی کو درپیش اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ دونوں ممالک مل کر اس مسئلے سے نمٹیں۔ اگر سرحد پر باڑ لگتی اور افغانوں کو قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان آمدورفت کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو پہنچے بلکہ افغانستان بھی اس سے مستفید ہو گا اور سرحدوں پر دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی کمی آئے گی۔ امریکا ایک عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے افغان حکومت کا پاکستان کے خلاف رویہ خاصا جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔
کبھی افغان صدر پاکستان کے خلاف بیانات دیتے ہیں تو کبھی افغان آرمی چیف دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اب افغان سرحدی فورسز کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے سے پاکستان کو روکنے کی کوششیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرحد پر باڑ افغان حکومت کو اپنے ارادوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ معلوم ہوتی ہے' ایک تو افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں بآسانی داخل ہو جاتے ہیں دوسری جانب غربت اور بیروزگاری کے مارے افغانوں کی بڑی تعداد بلا روک ٹوک پاکستان آ جاتی ہے جس سے افغان حکومت پر معاشی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ لہٰذا افغان حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ پاکستان اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائے تاکہ افغان حکومت کو ایسے اقدامات سے روکا جائے جس سے سرحدوں پر کشیدہ صورت حال پیدا ہو اور پاکستان کو پاک افغان سرحد لازمی طور پر محفوظ بنانا چاہیے اور باڑ لگانے کا کام جاری رہنا چاہیے۔