روپ نہ ڈھل جائے کہیں
حُسن برقرار رکھنے اور وقت سے پہلے بڑھاپے کی آمد روکنے کے لیے متوازن غذا اور ورزش ضروری ہے۔
حُسن برقرار رکھنے اور وقت سے پہلے بڑھاپے کی آمد روکنے کے لیے متوازن غذا اور ورزش ضروری ہے۔ فوٹو: فائل
حسن بے شک قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔
بعض خواتین کا حسن دیدنی ہوتا ہے کہ ہر دیکھنے والا تعریف کرتا نظر آتا ہے، لیکن کچھ عرصہ بعد ان کا حسن خراب ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ خود سے بے پروائی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حسن تو اسے رب نے عطا کر دیا لیکن اُسے برقرار رکھنا یا اس کی حفاظت کرنا آپ کی ذمے داری ہے۔ خواتین کا حسن سن بلوغت کے بعد ہی ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں لڑکی شادی سے پہلے تک تو اپنا بڑا خیال رکھتی ہے لیکن شادی کے فوراً بعد اس کی خود سے بے پروائی شروع ہو جاتی ہے اور بچے ہوجانے کے بعد تو وہ اپنی عمر سے بھی بڑی دکھائی دیتی ہے اور بڑھاپا قبل از وقت لے آتی ہے۔
شادی شدہ ہونے کے بعد تو اسے اپنے شوہر اور اس کی محبت کو مستحکم بنانے کے لیے اپنا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے چہرے کا حسن، بالوں کا حسن اور جسمانی حسن ، صرف چہرہ خوب صورت ہونا سو فی صد علامت حسن نہیں۔ چہرہ، بال اور جسم مجموعی حسن کی علامت ہیں۔ بعض خواتین 35 سال کی عمر ہی میں 45 برس کی لگنے لگتی ہیں۔ آنکھوں کے نیچے حلقے پڑجاتے ہیں۔ جسم ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں اور دھبے پڑجاتے ہیں۔ جب لوگ ٹوکتے ہیں تو انہیں اس احساس ہوتا ہے۔ پھر جوش ِجنون جاگتا ہے، لیکن چہرے پر کریم ملنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتیں۔ اور جب کریم سے فائدہ نہیں ہوتا، تو نتیجتاً نااُمیدی کے عالم میں دوبارہ بے پروائی کے کنویں میں چھلانگ لگا دیتی ہیں۔
آئیے! آج ہم اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔ بولی وڈ کی اداکاراؤں میں شلپا شیٹی اور مادھوری ڈکشٹ ہی کو لیجیے۔ ان کی عمر اور ان کا حسن دونوں آپ کے سامنے ہیں۔ فلموں اور اشتہارات میں آپ ان کے حسن کے جلوے دیکھتے ہی ہوں گے۔ ان اداکاراؤں سے ویسے تو بیش تر خواتین متاثر نظر آتی ہیں، لیکن ان جیسی بننے میں کام یاب نہیں ہوتیں۔ فن کار تو ماڈل کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے۔ لیکن اس کے پس منظر میں چھپی اس کی محنت آپ کو دکھائی نہیں دیتی جو وہ اپنا حسن برقرار رکھنے کے لیے کرتا ہے۔ اگر آپ بھی ویسی محنت اور توجہ اپنی ذات پر کریں تو کوئی شک نہیں کہ آپ اپنا حسن برقرار رکھنے میں کام یاب نہ ہوں۔
حسن برقرار رکھنے کے لیے پہلی شرط متناسب خوراک ہے۔ اچھی اور متوازن غذا استعمال کیجیے۔ غذا میں تین وقت کا کھانا جس میں انڈا، مچھلی، مرغی، گوشت، سبزی، دال، پنیر شامل ہیں، کھائیے۔ آپ کو ان غذاؤں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ موسم کا ہر پھل آپ کو کھانا چاہیے، جن میں سے بعض پھل آپ کے ناپسندیدہ بھی ہوں گے، لیکن یہاں آپ کو سمجھوتا کرنا ہو گا۔ لہٰذا ناپسندیدہ پھل بھی آپ اپنی جسمانی ضرورت کے تحت استعمال کریں۔ اس کے علاوہ خشک میوؤں کا بھی استعمال کرنا ہو گا۔ بعض لوگ سال ہا سال کوئی میوہ نہیں کھاتے۔ ایسا ہر گز نہ کریں کیوں کہ یہ آپ کے لیے مقوی غذا کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے مختلف میوہ جات کا استعمال وقتاً فوقتاً آپ کو کرنا چاہیے۔
اب آئیے آپ ورزش کی طرف۔ آپ کو روزانہ مخصوص اوقات میں وزرش کرنا ہوگی۔ ورزش کے طریقے آپ کو انٹر نیٹ یا کتابوں سے مل جائیں گے۔ آپ مناسب ورزش اور یوگا کی مشقیں کریں اور انھیں معمول حیات بنا لیں۔ آپ اس بات کی پروا نہ کریں کہ اہل خانہ مذاق اڑائیں گے کہ یہ اچانک آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ جب آپ کا معمول بن جائے گا، تو کسی کو محسوس بھی نہیں ہو گا۔
چہرے پر اچھی اور معیاری کریم کا استعمال کریں۔ بلاضرورت فیشل اور بلیچ کرنے سے گریز کریں۔ چہرے کا اصل حسن آپ کی اندرونی صحت پر منحصر ہے۔ اگر آپ کا جسم اندرونی طور پر صحت مند ہے تو یقیناً چہرہ بھی اس کی غمازی کرے گا۔ اندرونی صحت اچھی ہوگی تو آپ کے چہرے پر نہ دانے ہوں گے نہ کیل مہاسے اور جھائیاں آپ کے چہرے کو بدنما بنائیں گی۔ اسی طرح آپ کے بال بھی صحت مند ہوں گے، لیکن بالفرض اگر بال کسی عارضی مسئلے کا شکار ہوگئے ہیں، جیسے خشکی، سکری، بال باریک یا کم زور ہونا، دوشاخہ ہوجانا، تو اس کا مناسب علاج کریں اور کوئی معیاری ہیئر آئل اور شیمپو استعمال کریں۔
مذکورہ تمام مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنی صحت اور جسمانی ساخت کا خیال رکھیں گی تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اپنی عمر سے کم نظر آئیں اور بڑھاپے میں بھی جوان اور چاق چوبند دکھائی دیں۔ جسمانی صحت کے علاوہ لباس کی بھی بہت اہمیت ہے۔ لباس آپ کی شخصیت کے شایان شان ہونا چاہیے، لباس آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ اس کا انتخاب آپ اپنی شخصیت کے مطابق کریں۔ صحت اچھی ہو لیکن لباس اچھا نہ ہو تو بھی آپ کی شخصیت دب جاتی ہے۔ لہٰذا حسن اور جسمانی صحت کے ساتھ لباس کا بھی خیال رکھیں۔ آپ امیر ہوں یا غریب دونوں صورتوں میں لباس آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔
بعض خواتین کا حسن دیدنی ہوتا ہے کہ ہر دیکھنے والا تعریف کرتا نظر آتا ہے، لیکن کچھ عرصہ بعد ان کا حسن خراب ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ خود سے بے پروائی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حسن تو اسے رب نے عطا کر دیا لیکن اُسے برقرار رکھنا یا اس کی حفاظت کرنا آپ کی ذمے داری ہے۔ خواتین کا حسن سن بلوغت کے بعد ہی ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں لڑکی شادی سے پہلے تک تو اپنا بڑا خیال رکھتی ہے لیکن شادی کے فوراً بعد اس کی خود سے بے پروائی شروع ہو جاتی ہے اور بچے ہوجانے کے بعد تو وہ اپنی عمر سے بھی بڑی دکھائی دیتی ہے اور بڑھاپا قبل از وقت لے آتی ہے۔
شادی شدہ ہونے کے بعد تو اسے اپنے شوہر اور اس کی محبت کو مستحکم بنانے کے لیے اپنا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے چہرے کا حسن، بالوں کا حسن اور جسمانی حسن ، صرف چہرہ خوب صورت ہونا سو فی صد علامت حسن نہیں۔ چہرہ، بال اور جسم مجموعی حسن کی علامت ہیں۔ بعض خواتین 35 سال کی عمر ہی میں 45 برس کی لگنے لگتی ہیں۔ آنکھوں کے نیچے حلقے پڑجاتے ہیں۔ جسم ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں اور دھبے پڑجاتے ہیں۔ جب لوگ ٹوکتے ہیں تو انہیں اس احساس ہوتا ہے۔ پھر جوش ِجنون جاگتا ہے، لیکن چہرے پر کریم ملنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتیں۔ اور جب کریم سے فائدہ نہیں ہوتا، تو نتیجتاً نااُمیدی کے عالم میں دوبارہ بے پروائی کے کنویں میں چھلانگ لگا دیتی ہیں۔
آئیے! آج ہم اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔ بولی وڈ کی اداکاراؤں میں شلپا شیٹی اور مادھوری ڈکشٹ ہی کو لیجیے۔ ان کی عمر اور ان کا حسن دونوں آپ کے سامنے ہیں۔ فلموں اور اشتہارات میں آپ ان کے حسن کے جلوے دیکھتے ہی ہوں گے۔ ان اداکاراؤں سے ویسے تو بیش تر خواتین متاثر نظر آتی ہیں، لیکن ان جیسی بننے میں کام یاب نہیں ہوتیں۔ فن کار تو ماڈل کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے۔ لیکن اس کے پس منظر میں چھپی اس کی محنت آپ کو دکھائی نہیں دیتی جو وہ اپنا حسن برقرار رکھنے کے لیے کرتا ہے۔ اگر آپ بھی ویسی محنت اور توجہ اپنی ذات پر کریں تو کوئی شک نہیں کہ آپ اپنا حسن برقرار رکھنے میں کام یاب نہ ہوں۔
حسن برقرار رکھنے کے لیے پہلی شرط متناسب خوراک ہے۔ اچھی اور متوازن غذا استعمال کیجیے۔ غذا میں تین وقت کا کھانا جس میں انڈا، مچھلی، مرغی، گوشت، سبزی، دال، پنیر شامل ہیں، کھائیے۔ آپ کو ان غذاؤں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ موسم کا ہر پھل آپ کو کھانا چاہیے، جن میں سے بعض پھل آپ کے ناپسندیدہ بھی ہوں گے، لیکن یہاں آپ کو سمجھوتا کرنا ہو گا۔ لہٰذا ناپسندیدہ پھل بھی آپ اپنی جسمانی ضرورت کے تحت استعمال کریں۔ اس کے علاوہ خشک میوؤں کا بھی استعمال کرنا ہو گا۔ بعض لوگ سال ہا سال کوئی میوہ نہیں کھاتے۔ ایسا ہر گز نہ کریں کیوں کہ یہ آپ کے لیے مقوی غذا کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے مختلف میوہ جات کا استعمال وقتاً فوقتاً آپ کو کرنا چاہیے۔
اب آئیے آپ ورزش کی طرف۔ آپ کو روزانہ مخصوص اوقات میں وزرش کرنا ہوگی۔ ورزش کے طریقے آپ کو انٹر نیٹ یا کتابوں سے مل جائیں گے۔ آپ مناسب ورزش اور یوگا کی مشقیں کریں اور انھیں معمول حیات بنا لیں۔ آپ اس بات کی پروا نہ کریں کہ اہل خانہ مذاق اڑائیں گے کہ یہ اچانک آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ جب آپ کا معمول بن جائے گا، تو کسی کو محسوس بھی نہیں ہو گا۔
چہرے پر اچھی اور معیاری کریم کا استعمال کریں۔ بلاضرورت فیشل اور بلیچ کرنے سے گریز کریں۔ چہرے کا اصل حسن آپ کی اندرونی صحت پر منحصر ہے۔ اگر آپ کا جسم اندرونی طور پر صحت مند ہے تو یقیناً چہرہ بھی اس کی غمازی کرے گا۔ اندرونی صحت اچھی ہوگی تو آپ کے چہرے پر نہ دانے ہوں گے نہ کیل مہاسے اور جھائیاں آپ کے چہرے کو بدنما بنائیں گی۔ اسی طرح آپ کے بال بھی صحت مند ہوں گے، لیکن بالفرض اگر بال کسی عارضی مسئلے کا شکار ہوگئے ہیں، جیسے خشکی، سکری، بال باریک یا کم زور ہونا، دوشاخہ ہوجانا، تو اس کا مناسب علاج کریں اور کوئی معیاری ہیئر آئل اور شیمپو استعمال کریں۔
مذکورہ تمام مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنی صحت اور جسمانی ساخت کا خیال رکھیں گی تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اپنی عمر سے کم نظر آئیں اور بڑھاپے میں بھی جوان اور چاق چوبند دکھائی دیں۔ جسمانی صحت کے علاوہ لباس کی بھی بہت اہمیت ہے۔ لباس آپ کی شخصیت کے شایان شان ہونا چاہیے، لباس آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ اس کا انتخاب آپ اپنی شخصیت کے مطابق کریں۔ صحت اچھی ہو لیکن لباس اچھا نہ ہو تو بھی آپ کی شخصیت دب جاتی ہے۔ لہٰذا حسن اور جسمانی صحت کے ساتھ لباس کا بھی خیال رکھیں۔ آپ امیر ہوں یا غریب دونوں صورتوں میں لباس آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔