کرپشن کے خلاف عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت

حیرت انگیز امر ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے کرپشن کی تمام رقم ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہو رہی ہے

ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ میں جائیداد رکھنے والی غیرملکی کمپنیوں کو رجسٹر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ فوٹو؛ فائل

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کو لندن میں انسداد بدعنوانی کانفرنس سے خطاب میں عالمی سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔

پانامہ لیکس میں مختلف ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم کے نام آنے کے بعد عالمی سطح پر ہلچل پیدا ہو گئی ہے، چند ایک ممالک میں تو حکومتوں پر اتنا دباؤ بڑھا کہ انھیں اقتدار سے الگ ہونا پڑ گیا، آئس لینڈ کے وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا، اب آف شور کمپنی رکھنے والوں کی فہرست میں آسٹریلیا کے وزیراعظم میلکم ٹرن بل کا نام بھی سامنے آ گیا ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے ان سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی اس حوالے سے کافی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں عوام نے بہت بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ پانامہ لیکس میں تہلکہ خیز انکشافات سے یہ عیاں ہو گیا کہ بدعنوانی کا زہر صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی موجود نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں تک سرائیت کرچکا ہے۔

عوام ووٹ ڈالتے وقت اپنے امیدواروں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد نہ صرف ملک و قوم کی خدمت کریں گے بلکہ اپنے فرائض ایمانداری اور دیانتداری سے سرانجام دیں گے لیکن اختیارات کے غرور اور دولت کی چمک دمک حکمرانوں کو کرپشن میں ملوث ہونے پر مجبور کر دیتی ہے' برازیل کی صدر ڈلما روسیف کے خلاف مواخذے کی تحریک کثرت رائے سے منظور ہونے کے بعد انھیں منصب صدارت سے چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا' ان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2014 میں بجٹ خسارے کو غیر قانونی طور پر چھپا کر اپنی انتخابی مہم میں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔


آج برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون عالمی سطح پر کرپشن ختم کرنے کے لیے لندن میں کانفرنس کر رہے ہیں، اگر پانامہ پیپرز میں بدعنوانیوں کے انکشافات سامنے نہ آتے تو ممکن ہے کہ آج لندن میں انسداد بدعنوانی کانفرنس منعقد ہی نہ ہوتی اور کسی کو حکومتی سطح پر بدعنوانی پر قابو پانے کا خیال ہی نہ آتا۔ ایک عرصے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ بدعنوانی کا شدت پسندی سے بھی گہرا تعلق ہے اور عالمی سطح پر دہشت گردوں کو کرپشن کے ذریعے سے مالی اعانت مل رہی ہے۔

حیرت انگیز امر ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے کرپشن کی تمام رقم ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہو رہی ہے لیکن ان ممالک نے آج تک اس لوٹی گئی رقم کی آمد کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اس کا علم نہیں' وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ہاں اتنے بڑے پیمانے پر یہ رقم کہاں سے آ رہی ہے۔ پہلے بھی ترقی پذیر ممالک کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ہاں سے کرپشن کی رقم ترقی یافتہ ممالک میں غیرقانونی طریقے سے بھیجی جا رہی ہے جو انھیں واپس کی جانی چاہیے مگر ان کے اس مطالبے پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔

امریکا' برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے حکام انسداد بدعنوانی کانفرنس میں کرپشن روکنے کی تجاویز تو پیش کر رہے ہیں مگر ترقی پذیر ممالک سے کرپشن کے ذریعے آنے والی غیرقانونی رقم واپس کرنے کی بات نہیں کر رہے۔ اگر معاملات کی تحقیق کی جائے تو یہ بات سامنے آ جائے گی کہ عالمی سطح پر ہونے والی کرپشن کو یہی ترقی یافتہ ممالک تحفظ دے رہے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ اور پانامہ کا مالیاتی نظام مکمل طور پران ہی ممالک کے کنٹرول میں ہے' یہاں آف شور کمپنیاں چند دنوں میں وجود میں نہیں آئیں بلکہ کئی دہائیوں سے وہ اپنے دھندے میں مصروف عمل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی سے ممالک کو خطرہ ہے کیونکہ اس سے جرائم اور دہشت گردی کو مالی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مالی وسائل کے حصول کے تمام ذرایع بھی تو ان ترقی یافتہ ممالک ہی نے فراہم کیے ہیں، یہ ممالک اپنی خوشحالی اور ترقی کا سفر جاری رکھنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی دولت مختلف طریقوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ میں جائیداد رکھنے والی غیرملکی کمپنیوں کو رجسٹر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ ایک اچھا امر ہے جس سے جائیدادیں خریدنے والے افراد کے نام منظرعام پر آ جائیں گے۔ بدعنوانی میں ملوث افراد اپنا کالا دھن سفید کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک میں جائیدادیں خرید یا مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر لیتے ہیں اس طرح ان کے غیرقانونی سرمائے کو تحفظ مل جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں جو افراد اپنا سرمایہ ترقی یافتہ ممالک میں منتقل کرتے ہیں ان کا تمام ریکارڈ اور بینکوں میں موجود کھاتے بھی منظرعام پر لائے جانے چاہئیں تاکہ لوٹ مار کے سرمائے کی منتقلی روکی جا سکے۔ لیکن شاید ترقی یافتہ ممالک اس کو قبول نہ کریں کیونکہ اس طرح ان کے ہاں ہر سال اربوں ڈالر کی آمد رک جائے گی۔ اگر عالمی سطح پر بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے تو سب سے پہلے اس کا آغاز ترقی یافتہ ممالک کو اپنے ہاں سے کرنا ہو گا۔
Load Next Story