وبائی امراض کے خلاف حکمت عملی تیار کی جائے

ملک بھر میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جس کی جانب فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے

دنیا بھر میں تعلیم و صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کیا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
ملک بھر میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جس کی جانب فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، نیز یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صرف صوبہ سندھ میں ایڈز میں مبتلا رجسٹرڈ افراد کی تعداد 4507 ہو گئی ہے جب کہ غیر رجسٹرڈ متاثرہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جو مرض کے مزید پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ وبائی امراض کے پھیلاؤ کا زیادہ محرک صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال، طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا نہ ہونا ہے۔

گزشتہ برسوں میں ڈینگی وائرس بھی ابھر کر سامنے آیا ہے جس سے سال گزشتہ پنجاب میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں، اطلاعات ہیں کہ کراچی میں ڈینگی وائرس سے مزید 28 افراد متاثر ہو گئے ہیں جس کے بعد رواں سال میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 507 ہو گئی ہے۔ ڈینگی کنٹرول پروگرام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق وائرس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔


قابل افسوس امر یہ ہے کہ ڈینگی وائرس کے تواتر سے رپورٹ ہونے کے باوجود بھی محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اسپرے مہم شروع نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے شہر قائد مختلف وائرس کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 2.5 ارب انسانوں کی صحت کے لیے ڈینگی خطرہ ہے، اسے Devil's Disease اور ''بون بریک بخار'' قرار دیا گیا ہے۔

سندھ میں ایڈز کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے، رواں سال میں مزید 457 افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے، جب کہ گزشتہ 10 سال میں 340 افراد اس مرض میں مبتلا ہو کر جاں بحق ہو گئے، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام میں 4 ہزار 507 مریض رجسٹرڈ ہیں، ان میں 2 ہزار 533 کو علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایڈز کا مرض لاعلاج ہے جس سے بچاؤ صرف احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔

راست ہو گا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتے وبائی اور دیگر امراض کا ہنگامی بنیادوں پر سدباب کیا جائے۔ اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ امراض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے صائب حکمت عملی کا تیار کیا جانا لازمی ہے۔ عوام کو صحت کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے جس سے پہلوتہی نہیں برتی جانی چاہیے۔
Load Next Story