اسلحہ لائسنس کی تجدید اور ای پاسپورٹ کا صائب فیصلہ

یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کے امیج کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے

ای پاسپورٹ پراجیکٹ کا 2017ء میں مکمل طور پر آپریشنل ہونا اور اسلحہ لائسنس کی تجدید کا یکم جون 2016ء سے شروع ہونا لائق تعریف اقدامات ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مینوئل اسلحہ لائسنس ہولڈرز کو اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے آخری بار چھ ماہ کی توسیع دینے کا اعلان کیا ہے جب کہ ای پاسپورٹ شروع کرنیکی اصولی منظوری بھی دیدی۔ وزیر داخلہ نے درست استدلال کیا ہے کہ پاکستانی سفری دستاویز ات کے غلط استعمال اور اس میں ردوبدل سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچا جو سنجیدہ مسئلہ ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کے امیج کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ پاسپورٹ مافیا اور انسانی اسمگلروں کی کارستانیوں کے باعث گرین پاسپورٹ کو دیار غیر میں جس تحقیر آمیز انداز میں ٹریٹمنٹ ملتی تھی اس سے ہر محب وطن اور حساس تارکین وطن کا دل گرفتہ ہو جانا فطری تھا تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے، دہشگردی کے خلاف قربانیوں کا مغربی ممالک اعتراف کرنے لگے ہیں اور انسانی اسمگلنگ و دہشگردی کے خلاف عالمی اشتراک عمل نے مفید نتائج مہیا کیے ہیں چنانچہ یہ صائب انداز نظر ہے کہ انسانی اسمگلروں کی جانب سے دستاویزات میں رد و بدل روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسی شفاف و فول پروف دستاویز ات ہوں جنکی نہ تو نقل بنائی جا سکے اور نہ ہی ان میں کوئی ٹمپرنگ ممکن ہو۔


وزارت داخلہ کے دونوں اقدامات بروقت ہیں۔ ادھر اسلحہ لائسنس کی تجدید میں توسیع بھی ناگزیر ہے کیونکہ مینوئل اسلحہ کی تجدید قبائلی روایات سے قطع نظر یا شہروں میں دہشتگردی اور بدامنی کے خطرات و دشمنی کے پیش نظر مقررہ وقت میں تجدید بے حد ضروری ہے، مشاہدہ میں آیا ہے کہ تجدید سے بے نیازی کا رجحان غیر قانونی اسلحہ کی بہتات اور دہشتگردی و بدامنی کا شاخسانہ بن جاتا ہے، دہشتگردی یا معاشرتی سکون و امن غارت ہو جانے کا ایک بڑا سبب غیر قانونی اسلحہ کے انبار ہیں جن کی بازیابی کی ہر مہم ماضی میں ناکامی سے دوچار ہوتی رہی ہے تاہم یہ خوش آیند اقدام ہے کہ عدم تجدید سے خودبخود یہ لائسنس منسوخ ہو جائینگے۔

وزیر داخلہ کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس کو یہ صورتحال بتائی گئی کہ گزشتہ سال دسمبر میں اسلحہ کی تجدید کی مہم ختم ہونے پر ایک لاکھ 80 ہزار اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائزڈ کرائے گئے یا ان کی وزارت داخلہ سے تصدیق کی گئی، اس مہم کے دوران 8 ہزار سے زائد اسلحہ لائسنس جعلی نکلے۔ بلاشبہ اس مہم کو جاری نہ رکھا جاتا تو جعلی لائسنسوں کے کاروبار کا بھانڈا کبھی نہ پھوٹتا مگر اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر داخلہ کی ہدایت کے مطابق جعلی لائسنس رکھنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے اور ایف آئی اے اس کی تفصیلی انکوائری کا انعقاد کرے۔

اگر بقیہ لائسنسوں کی تجدید نہ ہونیکی ایک وجہ لائسنس ہولڈرز کی آگاہی نہ ہونا بھی ہے تو حکومت اس سمت میں بھی توجہ دے، اس بارے میں آگاہی کے لیے فعال میڈیا مہم شروع ہونی چاہیے، نادرا کام شروع کرے۔ یہ احسن فیصلہ ہے کہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے مستقبل میں نئی ڈیجیٹل دستاویز ہو گی اور اس ضمن میں ڈی جی آئی ایم پی اے ایس ایس کو یہ ہدایت کہ ای پاسپورٹ کی پرنٹنگ اور معیار کے لیے مستقل بنیادوں پر جدید ٹیکنالوجی کی حامل ڈیجیٹل پرنٹنگ مشینیں حاصل کی جائیں درست سمت میں قدم ہے لہٰذا ای پاسپورٹ پراجیکٹ کا 2017ء میں مکمل طور پر آپریشنل ہونا اور اسلحہ لائسنس کی تجدید کا یکم جون 2016ء سے شروع ہونا لائق تعریف اقدامات ہیں۔
Load Next Story