حسینہ معین مدیر بھی ہوگئیں
لسانی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر کراچی گزشتہ 40 برسوں سے لہولہان چلا آتا ہے
zahedahina@gmail.com
لسانی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر کراچی گزشتہ 40 برسوں سے لہولہان چلا آتا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب اس کی تہذیبی، ادبی اور تعلیمی محفلوں کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ پھر یوں ہوا کہ یہاں سڑکوں پر خون بہنے لگا اور گلیوں سے گزر کر اپنے گھروں کو جانے والے بھی سہم سہم کر قدم اٹھانے لگے۔ ایسے زمانے میں کراچی آرٹس کونسل ایک ایسا ادارہ تھا جس نے لوگوں کو جوڑنے، تہذیبی اور ثقافتی محفلوں کو زندہ کرنے کی کوششیں کیں۔
اس کی انتظامیہ سے دس شکایتیں ہونے کے باوجود اس بات کی داد انھیں دینی پڑتی ہے کہ آمریت کے زمانوں میں بھی اس کے انتخابات ہمیشہ مقررہ تاریخ پر ہوئے۔ ہر سال شور مچتا رہا کہ فلاں اور فلاں دھاندلی سے جیتا ہے لیکن اس شور شرابے کے باوجود آرٹس کونسل کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ وہ جگہ جہاں دھول اڑتی تھی، اب وہاں ایک شاندار آڈیٹوریم موجود ہے جس میں سیمینار اور مشاعرے ہوتے ہیں۔ رقص اور اداکاری کے جوہر دکھائے جاتے ہیں، مصوری کی نمائشیں ہوتی ہیں، ادبی کتابوں کا مہورت ایک روزمرہ ہے۔
سالانہ ادبی کانفرنس میں ملک بھر سے اور اس کے علاوہ ہندوستان سے آنے والے ادیب اور دانشور شرکت کرتے ہیں۔ انگلستان، امریکا، کینیڈا، چین اور جاپان سے وہ لوگ آتے ہیں جو اردو میں لکھتے ہیں اور جن کی کتابیں چھپتی ہیں اور دور دیس جاتی ہیں۔ 2015ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ اب آرٹس کونسل کراچی کو اپنا سالانہ ادبی مجلہ شایع کرنا چاہیے۔ اس کے مدیر اعلیٰ سحر انصاری مقرر ہوئے اور ادارت حسینہ معین کے حصے میں آئی جو ادبی کمیٹی کی چیئر پرسن ہیں۔
حسینہ ہماری ان لکھنے والیوں میں ہیں جنہوں نے ٹیلی وژن کے لیے ایسے مقبول سیریل لکھے کہ جن کی ساری اردو دنیا میں دھوم رہی اور آج بھی لوگ ان کے ڈراموں کو یاد کرتے ہیں۔ پاکستان کی طرح وہ ہندوستان میں بھی مشہور ہیں اور لوگ تحفے میں ان کے سیریلز کی سی ڈیز کی فرمائش کرتے ہیں۔ ان کے اور آج کے ڈراموں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حسینہ، مرزا عظیم بیگ چغتائی کی 'شہزوری' کا کردار ابھارتی تھیں جب کہ آج کے بیشتر ڈراموں کی ہیروئن سسرال میں طمانچے کھاتی ہے اور گھر سے نکالی جاتی ہے۔
مجھے جب معلوم ہوا کہ حسینہ اس جریدے کی ادارت کر رہی ہیں تو اطمینان ہو گیا کہ یہ جریدہ ایک سال کے بجائے یقیناً تین چار سال بعد آئے گا۔ اس کی وجہ حسینہ کی تحریری مصروفیات کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ ان کے پیر پر سنیچر سوار رہتا ہے۔ انھوں نے جب فون کرنے شروع کیے تو میں نے آنا کانی کی لیکن حسینہ نے کچھ یہودی سود خوروں والے رنگ دکھانے شروع کر دیے، حالانکہ یقین کیجیے کہ میں نے ان سے دھیلا ادھار نہیں لیا تھا۔
آرٹس کونسل کا پہلا سالانہ مجلہ ہاتھ میں آیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نومولود کا نام 'ارژنگ' جناب سحر انصاری کے سوا اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ وہ زمانۂ قدیم کے بے مثال مصور اور نقاش، مانی کا ذکر کرتے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ اس نے اپنے نگار خانے اور تصاویر کے مرقع کا نام ارژنگ رکھا تھا۔ یہاں یہ عرض کرتی چلوں کہ وہ ایک پیمبر تھا۔ اس کا مذہب مانویت کہلاتا تھا جو کئی سو برس تک بہت پھلا پھولا۔ 'ارژنگ' مانویت کی وہ مقدس کتاب تھی جو دستبردِ زمانہ سے بچ گئی۔ اس میں مانی نے دنیا کی پیدائش اور تاریخ کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا تھا۔ 'ارژنگ' اس دیو کا نام بھی ہے جو فردوسی کے شاہ کار شاہنامے میں کیکاؤس کو ماژندران لے جاتا ہے۔ سولہویں صدی میں علی شیر نوائی کی ایک منی ایچر پینٹنگ ہمیں ملتی ہے جس میں مانی اپنی نقاشی کا ایک نمونہ بادشاہ بہرام گور کو پیش کر رہا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ یہ قدیم نام اکیسویں صدی میں آرٹس کونسل کے مجلے کے طور پر زندہ ہوا اور سحر صاحب کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے آرٹس کونسل کراچی کے بنیاد گزاروں میں سب سے پہلا نام اس نامدار اور خوشحال خاتون کا لکھا جو بانی پاکستان کی دعوت پر فروغ فنون لطیفہ کے لیے کراچی آئی، جس نے اپنی جمع پونجی آرٹ کے فروغ پر لگا دی اور پھر اسی شہر میں پائی پائی کو محتاج ہوئی۔ مجھے اگر گمان بھی ہوتا کہ اس پہلے مجلے میں عطیہ فیضی کا نام لیا جائے گا تو میں حسینہ کو عطیہ فیضی راحمین پر اپنا وہ مضمون دیتی جو میں نے مارچ 2012ء میں دلی کے Developing Countries Research Centre میں نویں پابلونرودا یادگاری لیکچر کے طور پر پیش کیا تھا۔
'ارژنگ' اول تا آخر ایک ادبی مجلہ ہے، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے گزشتہ اور موجودہ ادیبوں، شاعروں اور مصوروں کی تخلیقات یا ان کے ذکر سے مرتب کیا گیا ہے۔
احمد ندیم قاسمی کا 'رئیس خانہ' ، قرۃ العین حیدر کا 'نظارہ درمیاں ہے' گاہے گاہے باز خواں کی بہترین مثال ہے۔ پنجاب کا دیہات ہو یا ممبئی میں زندگی کرنے والا طبقہ اعلیٰ، دونوں ہی انسانی کمینگیوں کا نظارہ کراتے ہیں اور ان ہی دونوں تخلیقات میں وہ ستم رسیدہ بھی ہیں جن کے دل آئینے کی طرح شفاف ہیں۔ امر جلیل موجودہ عہد کے ہمارے نہایت اہم ادیب ہیں۔ ان کی کہانی 'پرندہ' جسے شاہد حنائی نے اردو کا لباس پہنایا ہے، اس کا اختتامیہ ہم سے کیا کچھ نہیں کہتا۔ ملازمت اور افسری انسانوں کو کس طرح بزدل بناتی ہے، اس کا نقشہ امر جلیل سے زیادہ فنکاری سے بھلا کون کھینچ سکتا تھا۔ اسی طرح حمرا خلیق، مبین مرزا، فاطمہ حسن اور آصف نورانی کی کہانیاں بھی دل میں اتر جاتی ہیں۔
ناہید رضا اور حسینہ معین کی باتوں میں کہیں کاری جملے ہیں اور کہیں دانش کی باتیں۔ ناہید کہتی ہیں ''شہرت کچھ ایسی چیز ہے جیسے برف کی سل۔ جو آہستہ آہستہ پگھل جاتی ہے'' یہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ پبلک ریلشنگ سے حاصل ہونے والی شہرت برف کی سل جیسی ہوتی ہے اور ایک وہ شہرت ہوتی ہے جو مشہور ہو جانے والے سے دس قدم آگے چلتی ہے، جیسے فرہاد جو عشق کا گرفتار تھا اور بیستوں تراشتا تھا۔ اسے خبر بھی نہ ہوئی کہ شہرت اس کے نامکمل کام سے آگے چل رہی ہے اور چلتی ہی چلی جائے گی۔
ناہید رضا اپنی چوکھنڈی سیریز کا ذکر کس ناز سے کرتی ہیں ''یہ محبت کا سمبل، پرواز کا سمبل ہے، محبت کرنے والے ہاتھوں، طاقت اور تخلیق کا سمبل ہے'' وہ آرٹ سے کمٹ منٹ کی بات کرتی ہیں۔ دراصل پیمانِ وفا، بہت ظالم احساس ہے، اس احساس کا جو بھی اسیر ہو جائے وہ اپنے فن میں کمال کو پہنچتا ہے۔ چاند کو چھو آتا ہے۔ اس میں صادقین کے فن پر شفیع عقیل کی کھوئی ہوئی تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کی تحریر سے بھی اس کے صفحات پر ملاقات ہوتی ہے۔
ارژنگ میں شعر و ادب کے ساتھ ہی فنون لطیفہ کے بیشتر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ حسینہ معین کا مضمون، آغا حشر کے ڈرامے سے۔ ڈرامے کے حشر تک، ایک ایسا تماشا پیش کرتا ہے جس کو ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ عنبرین حسیب عنبر کا بولی ووڈ کے بارے میں مضمون 'خدا کے نام سے منی کی بدنامی تک، چشم کشا ہونے کے ساتھ ہی ہوش ربا ہے۔ انھوں نے بہت محنت سے یہ کام کیا ہے۔ منی کی بدنامی تک آتے آتے وہ خود بھی آزردہ ہوئی ہیں اور ہمیں بھی انھوں نے دل گیر کیا ہے۔ بہ طور خاص انھوں نے گلزار صاحب کے تازہ ترین گیتوں کے جو حوالے دیے ہیں، وہ ان لوگوں کو ملول و محزوں کر دیتے ہیں جو ان کا احترام ان کی شاعری اور ان کی فلمی شاعری کی بناء پر کرتے ہیں۔ عنبرین خوش رہیں کہ انھوں نے ایک مشکل اور حساس موضوع پر لکھا اور کسی کے ساتھ رو رعایت نہیں کی۔
اس مجلے کی دوسری خاص بلکہ خاص الخاص تحریر رضی مجتبیٰ کی ہے۔ انھوں نے بہتے ہوئے چشمے کی روانی جیسے انداز میں ہمیں جس طرح پیرس کی سیر کرائی ہے وہ یاد رہنے والی ہے۔ 'پہلے گناہ' کا حوالہ دیتے ہوئے وہ ایک فرانسیسی کی زبان سے یہ پُر لطف بات ہمیں سنواتے ہیں جو اگر یہاں لکھ دی جائے تو اس پر سنسر کی قینچی چل جائے گی، اور خدا جانے ہماری گردنوں پر کیا چلے۔ آدم و حوا کو جس 'گناہ' کی سزاد دی گئی وہ گناہ تھا ہی نہیں۔ وہ تو دونوں کا ایک دوسرے سے بے ساختہ اور والہانہ اظہارِ عشق تھا۔
وہ فرانسیسوں کے سکیولرازم، مذہبی آزادی اور رواداری کے بارے میں بتاتے ہیں کہ محرم کا پہلا عشرہ انھوں نے پیرس کے ایک چرچ میں اس طرح گزارا جہاں حضرت عیسیٰ ؑ اور بی بی مریم کے مجسمے سفید چادروں سے ڈھانپ دیے گئے تھے۔ اور شیعانِ علی پیرس کے اُس چرچ میں غم حسین منا رہے تھے، سینہ زنی کر رہے تھے اور چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسینؑ، کی صدا چرچ کے دروبام کو چھو رہی تھی۔ رضی مجتبیٰ کا لگ بھگ 40 برس پرانا یہ سفرنامہ پڑھتے ہوئے مجھے چند مہینوں پہلے کا پیرس یاد آیا جسے خود کش مسلمان بمباروں نے خون سے نہلا دیا تھا۔ کیا مذہبی رواداری اس طور قائم کی جاتی ہے؟ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ میں سے کسی کے علم میں ہو تو میرے جہل میں کمی کی خاطر، ضرور مجھے بتائے۔
' ارژنگ' کے مدیران اور آرٹس کونسل کے مدارالمہام احمد شاہ کو بہت مبارک ہو کہ انھوں نے 'ارژنگ' کا ڈول ڈالا اور علم و ادب اور فنون لطیفہ کے جو یا لوگوں کو سیراب کیا اور ہم پر حسینہ معین کا یہ جوہر بھی کھلا کہ وہ بہت اچھی مدیر ہیں۔
اس کی انتظامیہ سے دس شکایتیں ہونے کے باوجود اس بات کی داد انھیں دینی پڑتی ہے کہ آمریت کے زمانوں میں بھی اس کے انتخابات ہمیشہ مقررہ تاریخ پر ہوئے۔ ہر سال شور مچتا رہا کہ فلاں اور فلاں دھاندلی سے جیتا ہے لیکن اس شور شرابے کے باوجود آرٹس کونسل کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ وہ جگہ جہاں دھول اڑتی تھی، اب وہاں ایک شاندار آڈیٹوریم موجود ہے جس میں سیمینار اور مشاعرے ہوتے ہیں۔ رقص اور اداکاری کے جوہر دکھائے جاتے ہیں، مصوری کی نمائشیں ہوتی ہیں، ادبی کتابوں کا مہورت ایک روزمرہ ہے۔
سالانہ ادبی کانفرنس میں ملک بھر سے اور اس کے علاوہ ہندوستان سے آنے والے ادیب اور دانشور شرکت کرتے ہیں۔ انگلستان، امریکا، کینیڈا، چین اور جاپان سے وہ لوگ آتے ہیں جو اردو میں لکھتے ہیں اور جن کی کتابیں چھپتی ہیں اور دور دیس جاتی ہیں۔ 2015ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ اب آرٹس کونسل کراچی کو اپنا سالانہ ادبی مجلہ شایع کرنا چاہیے۔ اس کے مدیر اعلیٰ سحر انصاری مقرر ہوئے اور ادارت حسینہ معین کے حصے میں آئی جو ادبی کمیٹی کی چیئر پرسن ہیں۔
حسینہ ہماری ان لکھنے والیوں میں ہیں جنہوں نے ٹیلی وژن کے لیے ایسے مقبول سیریل لکھے کہ جن کی ساری اردو دنیا میں دھوم رہی اور آج بھی لوگ ان کے ڈراموں کو یاد کرتے ہیں۔ پاکستان کی طرح وہ ہندوستان میں بھی مشہور ہیں اور لوگ تحفے میں ان کے سیریلز کی سی ڈیز کی فرمائش کرتے ہیں۔ ان کے اور آج کے ڈراموں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حسینہ، مرزا عظیم بیگ چغتائی کی 'شہزوری' کا کردار ابھارتی تھیں جب کہ آج کے بیشتر ڈراموں کی ہیروئن سسرال میں طمانچے کھاتی ہے اور گھر سے نکالی جاتی ہے۔
مجھے جب معلوم ہوا کہ حسینہ اس جریدے کی ادارت کر رہی ہیں تو اطمینان ہو گیا کہ یہ جریدہ ایک سال کے بجائے یقیناً تین چار سال بعد آئے گا۔ اس کی وجہ حسینہ کی تحریری مصروفیات کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ ان کے پیر پر سنیچر سوار رہتا ہے۔ انھوں نے جب فون کرنے شروع کیے تو میں نے آنا کانی کی لیکن حسینہ نے کچھ یہودی سود خوروں والے رنگ دکھانے شروع کر دیے، حالانکہ یقین کیجیے کہ میں نے ان سے دھیلا ادھار نہیں لیا تھا۔
آرٹس کونسل کا پہلا سالانہ مجلہ ہاتھ میں آیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نومولود کا نام 'ارژنگ' جناب سحر انصاری کے سوا اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ وہ زمانۂ قدیم کے بے مثال مصور اور نقاش، مانی کا ذکر کرتے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ اس نے اپنے نگار خانے اور تصاویر کے مرقع کا نام ارژنگ رکھا تھا۔ یہاں یہ عرض کرتی چلوں کہ وہ ایک پیمبر تھا۔ اس کا مذہب مانویت کہلاتا تھا جو کئی سو برس تک بہت پھلا پھولا۔ 'ارژنگ' مانویت کی وہ مقدس کتاب تھی جو دستبردِ زمانہ سے بچ گئی۔ اس میں مانی نے دنیا کی پیدائش اور تاریخ کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا تھا۔ 'ارژنگ' اس دیو کا نام بھی ہے جو فردوسی کے شاہ کار شاہنامے میں کیکاؤس کو ماژندران لے جاتا ہے۔ سولہویں صدی میں علی شیر نوائی کی ایک منی ایچر پینٹنگ ہمیں ملتی ہے جس میں مانی اپنی نقاشی کا ایک نمونہ بادشاہ بہرام گور کو پیش کر رہا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ یہ قدیم نام اکیسویں صدی میں آرٹس کونسل کے مجلے کے طور پر زندہ ہوا اور سحر صاحب کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے آرٹس کونسل کراچی کے بنیاد گزاروں میں سب سے پہلا نام اس نامدار اور خوشحال خاتون کا لکھا جو بانی پاکستان کی دعوت پر فروغ فنون لطیفہ کے لیے کراچی آئی، جس نے اپنی جمع پونجی آرٹ کے فروغ پر لگا دی اور پھر اسی شہر میں پائی پائی کو محتاج ہوئی۔ مجھے اگر گمان بھی ہوتا کہ اس پہلے مجلے میں عطیہ فیضی کا نام لیا جائے گا تو میں حسینہ کو عطیہ فیضی راحمین پر اپنا وہ مضمون دیتی جو میں نے مارچ 2012ء میں دلی کے Developing Countries Research Centre میں نویں پابلونرودا یادگاری لیکچر کے طور پر پیش کیا تھا۔
'ارژنگ' اول تا آخر ایک ادبی مجلہ ہے، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے گزشتہ اور موجودہ ادیبوں، شاعروں اور مصوروں کی تخلیقات یا ان کے ذکر سے مرتب کیا گیا ہے۔
احمد ندیم قاسمی کا 'رئیس خانہ' ، قرۃ العین حیدر کا 'نظارہ درمیاں ہے' گاہے گاہے باز خواں کی بہترین مثال ہے۔ پنجاب کا دیہات ہو یا ممبئی میں زندگی کرنے والا طبقہ اعلیٰ، دونوں ہی انسانی کمینگیوں کا نظارہ کراتے ہیں اور ان ہی دونوں تخلیقات میں وہ ستم رسیدہ بھی ہیں جن کے دل آئینے کی طرح شفاف ہیں۔ امر جلیل موجودہ عہد کے ہمارے نہایت اہم ادیب ہیں۔ ان کی کہانی 'پرندہ' جسے شاہد حنائی نے اردو کا لباس پہنایا ہے، اس کا اختتامیہ ہم سے کیا کچھ نہیں کہتا۔ ملازمت اور افسری انسانوں کو کس طرح بزدل بناتی ہے، اس کا نقشہ امر جلیل سے زیادہ فنکاری سے بھلا کون کھینچ سکتا تھا۔ اسی طرح حمرا خلیق، مبین مرزا، فاطمہ حسن اور آصف نورانی کی کہانیاں بھی دل میں اتر جاتی ہیں۔
ناہید رضا اور حسینہ معین کی باتوں میں کہیں کاری جملے ہیں اور کہیں دانش کی باتیں۔ ناہید کہتی ہیں ''شہرت کچھ ایسی چیز ہے جیسے برف کی سل۔ جو آہستہ آہستہ پگھل جاتی ہے'' یہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ پبلک ریلشنگ سے حاصل ہونے والی شہرت برف کی سل جیسی ہوتی ہے اور ایک وہ شہرت ہوتی ہے جو مشہور ہو جانے والے سے دس قدم آگے چلتی ہے، جیسے فرہاد جو عشق کا گرفتار تھا اور بیستوں تراشتا تھا۔ اسے خبر بھی نہ ہوئی کہ شہرت اس کے نامکمل کام سے آگے چل رہی ہے اور چلتی ہی چلی جائے گی۔
ناہید رضا اپنی چوکھنڈی سیریز کا ذکر کس ناز سے کرتی ہیں ''یہ محبت کا سمبل، پرواز کا سمبل ہے، محبت کرنے والے ہاتھوں، طاقت اور تخلیق کا سمبل ہے'' وہ آرٹ سے کمٹ منٹ کی بات کرتی ہیں۔ دراصل پیمانِ وفا، بہت ظالم احساس ہے، اس احساس کا جو بھی اسیر ہو جائے وہ اپنے فن میں کمال کو پہنچتا ہے۔ چاند کو چھو آتا ہے۔ اس میں صادقین کے فن پر شفیع عقیل کی کھوئی ہوئی تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کی تحریر سے بھی اس کے صفحات پر ملاقات ہوتی ہے۔
ارژنگ میں شعر و ادب کے ساتھ ہی فنون لطیفہ کے بیشتر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ حسینہ معین کا مضمون، آغا حشر کے ڈرامے سے۔ ڈرامے کے حشر تک، ایک ایسا تماشا پیش کرتا ہے جس کو ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ عنبرین حسیب عنبر کا بولی ووڈ کے بارے میں مضمون 'خدا کے نام سے منی کی بدنامی تک، چشم کشا ہونے کے ساتھ ہی ہوش ربا ہے۔ انھوں نے بہت محنت سے یہ کام کیا ہے۔ منی کی بدنامی تک آتے آتے وہ خود بھی آزردہ ہوئی ہیں اور ہمیں بھی انھوں نے دل گیر کیا ہے۔ بہ طور خاص انھوں نے گلزار صاحب کے تازہ ترین گیتوں کے جو حوالے دیے ہیں، وہ ان لوگوں کو ملول و محزوں کر دیتے ہیں جو ان کا احترام ان کی شاعری اور ان کی فلمی شاعری کی بناء پر کرتے ہیں۔ عنبرین خوش رہیں کہ انھوں نے ایک مشکل اور حساس موضوع پر لکھا اور کسی کے ساتھ رو رعایت نہیں کی۔
اس مجلے کی دوسری خاص بلکہ خاص الخاص تحریر رضی مجتبیٰ کی ہے۔ انھوں نے بہتے ہوئے چشمے کی روانی جیسے انداز میں ہمیں جس طرح پیرس کی سیر کرائی ہے وہ یاد رہنے والی ہے۔ 'پہلے گناہ' کا حوالہ دیتے ہوئے وہ ایک فرانسیسی کی زبان سے یہ پُر لطف بات ہمیں سنواتے ہیں جو اگر یہاں لکھ دی جائے تو اس پر سنسر کی قینچی چل جائے گی، اور خدا جانے ہماری گردنوں پر کیا چلے۔ آدم و حوا کو جس 'گناہ' کی سزاد دی گئی وہ گناہ تھا ہی نہیں۔ وہ تو دونوں کا ایک دوسرے سے بے ساختہ اور والہانہ اظہارِ عشق تھا۔
وہ فرانسیسوں کے سکیولرازم، مذہبی آزادی اور رواداری کے بارے میں بتاتے ہیں کہ محرم کا پہلا عشرہ انھوں نے پیرس کے ایک چرچ میں اس طرح گزارا جہاں حضرت عیسیٰ ؑ اور بی بی مریم کے مجسمے سفید چادروں سے ڈھانپ دیے گئے تھے۔ اور شیعانِ علی پیرس کے اُس چرچ میں غم حسین منا رہے تھے، سینہ زنی کر رہے تھے اور چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسینؑ، کی صدا چرچ کے دروبام کو چھو رہی تھی۔ رضی مجتبیٰ کا لگ بھگ 40 برس پرانا یہ سفرنامہ پڑھتے ہوئے مجھے چند مہینوں پہلے کا پیرس یاد آیا جسے خود کش مسلمان بمباروں نے خون سے نہلا دیا تھا۔ کیا مذہبی رواداری اس طور قائم کی جاتی ہے؟ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ میں سے کسی کے علم میں ہو تو میرے جہل میں کمی کی خاطر، ضرور مجھے بتائے۔
' ارژنگ' کے مدیران اور آرٹس کونسل کے مدارالمہام احمد شاہ کو بہت مبارک ہو کہ انھوں نے 'ارژنگ' کا ڈول ڈالا اور علم و ادب اور فنون لطیفہ کے جو یا لوگوں کو سیراب کیا اور ہم پر حسینہ معین کا یہ جوہر بھی کھلا کہ وہ بہت اچھی مدیر ہیں۔