شور آف شور اور شور بخود
لیکن اب جو یہ آف شور اور اشور کا شور اٹھا ہے تو اس کے مقابل ’’شور‘‘ پر خاموشی کا گمان ہوتا ہے
barq@email.com
ہم تو صرف ایک شور سے واقف تھے جو دل سے تعلق رکھتا تھا اور شور نہ ہوتے ہوئے بھی ''شور'' لگتا تھا پھر یار لوگوں نے جب آپریشن کر کے اس شور مچانے والے انجن کو کھولا تو پتہ چلا کہ وہاں تو سرے سے فیول کا ایک قطرہ تک نہیں تھا، لیکن شور پسند اور شورش پسند لوگوں کا تو شور کے بغیر گزارہ نہیں چلتا ۔ان کا کہنا اور ماننا ہے کہ
ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
لیکن اب جو یہ آف شور اور اشور کا شور اٹھا ہے تو اس کے مقابل ''شور'' پر خاموشی کا گمان ہوتا ہے کیوں کہ اس ''شور'' اور آف شور کے ساتھ ایک اور شور بڑا خطرناک ہے جو تقریباً سب کو لپیٹے ہوئے لگتا ہے بظاہر جو اس آف شور سے بچے ہوئے لگتے ہیں وہ بھی شاید ''شور'' ہی کے بیچ پر ہوں اس لیے تو ہم کپتان صاحب کو مشورہ دے رہے ہیں کہ زیادہ شور نہ مچایئے کہیں ایک دن آپ ہی کانوں میں انگلیاں ڈال کر چیخنے نہ لگیں کہ بس کرو شور مت کرو کیوں کہ دنیا جانتی ہے کہ
رات بھر شور رہا ہے ترے ہمسائے میں
کس کے ارمان بھرے دل کو خدا یاد آیا
یہ شور ہے ہی ایک ایسی کم بخت چیز کہ اٹھے تو پھر بعض آوازوں کی طرح اسے کھانسی میں نہیں دبایا جا سکتا اور تب تک رہتا ہے جب تک پورے ہرے بھرے کھیت کو شور زدہ نہ کر ڈالے، یا یوں کہیے کہ یہ پرانے زمانے کے ہیروؤں کی وہ ضرب ہے کہ مضروب جتنا ہلتا ہے اتنا ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوتا چلا جاتا ہے جیسا کہ دلدل میں پھنسے کے لیے ہلنا جلنا نقصان دہ ہوتا ہے اتنا ہی ''شور زدگان'' کو ''چپ کرو شور مت کرو'' سے ضرر پہنچتا ہے اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ
گناہ گار سمجھے گی دنیا تمہیں
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے
ایک زمانے میں ایک اور ''شور'' بڑا مشہور تھا جو دریائے شور کہلاتا تھا اور ملزموں، مجرموں اور غداروں میں سزا عمر قید بعبور دریائے شور دی جاتی تھی جسے سیدھی سادی زبان میں کالے پانی کی سزا کہتے تھے، ہند کے بہادر شاہ ظفر کو بھی یہ سزا اس جرم میں ہوئی تھی جسے ''جرم ضعیفی'' کہا جاتا ہے، حالانکہ بہادر شاہ ظفر کو جرم ضعیفی کی اصل سزا مرگ مفاجات دینا چاہیے تھا لیکن انگریز لوگ بھی اورنگزیب عالم گیر کی طرح حد درجہ ''رحم دل'' واقع ہوئے تھے جس طرح اس نے شاہ جہان کو اس کے ''تولد'' ہونے کے جرم میں موت کے بجائے عمر قید کی سزا سنائی تھی اسی طرح انگریزوں نے بھی بہادر شاہ ظفر کو رعایتی نمبر دے کر موت کے بجائے قید کی سزا دی جو اس کی اپنی روایت کے مطابق موت سے بدرجہا بدتر تھی اور اسے باحسرت ویاس کہنا پڑا کہ
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اورنگزیب عالم گیر نے شاہ جہاں کو زیادہ رعایت دی تھی کم از کم اسے پہلوئے یار میں دفن تو کر دیا تھا، پشتو میں غالباً اسی وجہ سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی ہے کہ اپنا مارے گا تو کم از کم لاش کو سائے میں تو ڈال دے گا، سوچا جائے تو بعبور ''دریائے شور'' میں اور آج کل کے شور آف، آف شور میں ''شور'' کا لفظ ایک جیسا ہے لیکن اس کی معانی قطعی مختلف ہیں حالانکہ جرم بھی وہی ہے مجرم بھی ویسے ہی ہیں لیکن اس شور اور اس شور میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلکہ آج کی سزا اتنی پرکشش اور دلفریب ہے کہ اکثر مجرم تو پکڑے جانے اور مقدمہ چلنے سے پہلے ہی اپنے لیے ''بعبور دریائے شور'' کی سزا پسند کر لیتے ہیں بلکہ بغیر کسی مقدمے کے خود کو یہ سزا دے بھی دیتے ہیں ۔
اب یہ جو آف شور کا تازہ شور مچا ہوا ہے ۔حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی ''خاموشی'' ہی ہے کہ ملک لٹ جاتا ہے برباد ہو جاتا ہے نسلیں قرض دار ہو جاتی ہیں انسان خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن یہ سب کرنے والے آرام سے بعبور دریائے شور بیٹھے حلوہ پلاؤ زردہ اڑاتے رہتے ہیں یوں کہیے کہ وہی ''دل'' کا شور یہ بھی ہے کہ شور تو سنائی دیتا ہے لیکن نہ تو ایک قطرہ خون نکلتا ہے اور نہ ہی کوئی چور اس شور کی شور اشوری میں پکڑائی دیتا ہے۔
ہم نے جب اس سلسلے میں تحقیق کی کہ آخر جرم بھی وہی ہے قانون بھی وہی ہے لیکن ''سزا'' انعام کی صورت میں ملتی ہے تو ایک واقف راز نے بتایا کہ اس زمانے میں جب چوری اور غداری کی سزا بعبور دریائے شور ہوتی تھی تو اس زمانے میں یہ طرح طرح کے ڈیٹرجنٹ نہیں ہوا کرتے تھے حالانکہ بے چارے بہادر شاہ ظفر نے کچھ بھی نہیں کیا تھا اس کی قبا پر جو داغ پڑے تھے وہ بھی دوسرے کے اڑائے ہوئے چھینٹوں سے لگے تھے لیکن بدقسمتی سے ''دھلنے دھلانے'' کے ہنر نے اتنی ترقی نہیں کی تھی معمولی داغ بھی نکل کر نہیں دیتے تھے اور بے چارا داغدار سزا یاب ہو جاتا تھا۔ لیکن آج کتنے ہی بڑے بڑے ضدی داغ کیوں نہ ہوں ایسے ایسے ڈیٹرجنٹ اور واشنگ مشینیں ایجاد ہو گئی ہیں کہ نہ صرف داغ دھل جاتے ہیں بلکہ کپڑا بالکل نیا نویلا ہو جاتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس جدید ''اقتدار'' نامی سوٹ کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے، اب کے بھی یہ جو شور اٹھا ہے خوش فہموں کا خیال ہے کہ چوروں کو ''کیفر کردار'' تک پہنچا دیا جائے گا۔
پنجاب اور کراچی وغیرہ میں اس ''شورنخود''کی بے پناہ اقسام پائی جاتی ہیں جیسے چھولے پٹھورے، آلو چھولے، مرغ چھولے وغیرہ، ایسا ہی سیاسی دستر خوان پر بھی ہوتا ہے کہ شور کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو چاہے پانامہ ہو، پاجامہ ہو یا شورنامہ صرف چند روز کے لیے اخبارات اور دوسرے میڈیائی بازاروں کو ''شور نخود'' مل جاتا ہے ہر کوئی کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی قسم کا ''شور نخود'' بیچتا ہوا نظر آتا ہے، لوگ بھی مزے لے کر خریدتے ہیں چاٹتے ہیں اور ''بس'' ورنہ بہت پرانے زمانے سے ''شور'' کا یہ سلسلہ چل رہا ہے حتیٰ کہ حافظ شیراز نے بھی اپنے دور کے بارے میں کہا تھا کہ
ایں چہ شوریست کہ در دور قمر می بینم
ھمہ آفاق پراز فتنہ و شرمی بینم
ہر کسے روز بہی می طلبد از ایام
مشکل آنیست کہ ہر روز بترمی بینم
اور آخر میں اس غزل کا وہ شہرہ آفاق شعر۔۔۔ جو ہر زمانے ہر دور ہر ملک اور ہر قوم میں صاف صاف چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ
اسپ تازی شدہ مجروح بہ زیر پالان
طوق زریں ھمہ در گردن خرمی بینم
آپ چاہیں تو ''طوق زرین'' کو ''شور زرین'' بھی کہہ سکتے ہیں کہ زر ہی تو اس کا جزو اعظم ہوتا ہے۔
ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
لیکن اب جو یہ آف شور اور اشور کا شور اٹھا ہے تو اس کے مقابل ''شور'' پر خاموشی کا گمان ہوتا ہے کیوں کہ اس ''شور'' اور آف شور کے ساتھ ایک اور شور بڑا خطرناک ہے جو تقریباً سب کو لپیٹے ہوئے لگتا ہے بظاہر جو اس آف شور سے بچے ہوئے لگتے ہیں وہ بھی شاید ''شور'' ہی کے بیچ پر ہوں اس لیے تو ہم کپتان صاحب کو مشورہ دے رہے ہیں کہ زیادہ شور نہ مچایئے کہیں ایک دن آپ ہی کانوں میں انگلیاں ڈال کر چیخنے نہ لگیں کہ بس کرو شور مت کرو کیوں کہ دنیا جانتی ہے کہ
رات بھر شور رہا ہے ترے ہمسائے میں
کس کے ارمان بھرے دل کو خدا یاد آیا
یہ شور ہے ہی ایک ایسی کم بخت چیز کہ اٹھے تو پھر بعض آوازوں کی طرح اسے کھانسی میں نہیں دبایا جا سکتا اور تب تک رہتا ہے جب تک پورے ہرے بھرے کھیت کو شور زدہ نہ کر ڈالے، یا یوں کہیے کہ یہ پرانے زمانے کے ہیروؤں کی وہ ضرب ہے کہ مضروب جتنا ہلتا ہے اتنا ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوتا چلا جاتا ہے جیسا کہ دلدل میں پھنسے کے لیے ہلنا جلنا نقصان دہ ہوتا ہے اتنا ہی ''شور زدگان'' کو ''چپ کرو شور مت کرو'' سے ضرر پہنچتا ہے اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ
گناہ گار سمجھے گی دنیا تمہیں
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے
ایک زمانے میں ایک اور ''شور'' بڑا مشہور تھا جو دریائے شور کہلاتا تھا اور ملزموں، مجرموں اور غداروں میں سزا عمر قید بعبور دریائے شور دی جاتی تھی جسے سیدھی سادی زبان میں کالے پانی کی سزا کہتے تھے، ہند کے بہادر شاہ ظفر کو بھی یہ سزا اس جرم میں ہوئی تھی جسے ''جرم ضعیفی'' کہا جاتا ہے، حالانکہ بہادر شاہ ظفر کو جرم ضعیفی کی اصل سزا مرگ مفاجات دینا چاہیے تھا لیکن انگریز لوگ بھی اورنگزیب عالم گیر کی طرح حد درجہ ''رحم دل'' واقع ہوئے تھے جس طرح اس نے شاہ جہان کو اس کے ''تولد'' ہونے کے جرم میں موت کے بجائے عمر قید کی سزا سنائی تھی اسی طرح انگریزوں نے بھی بہادر شاہ ظفر کو رعایتی نمبر دے کر موت کے بجائے قید کی سزا دی جو اس کی اپنی روایت کے مطابق موت سے بدرجہا بدتر تھی اور اسے باحسرت ویاس کہنا پڑا کہ
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اورنگزیب عالم گیر نے شاہ جہاں کو زیادہ رعایت دی تھی کم از کم اسے پہلوئے یار میں دفن تو کر دیا تھا، پشتو میں غالباً اسی وجہ سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی ہے کہ اپنا مارے گا تو کم از کم لاش کو سائے میں تو ڈال دے گا، سوچا جائے تو بعبور ''دریائے شور'' میں اور آج کل کے شور آف، آف شور میں ''شور'' کا لفظ ایک جیسا ہے لیکن اس کی معانی قطعی مختلف ہیں حالانکہ جرم بھی وہی ہے مجرم بھی ویسے ہی ہیں لیکن اس شور اور اس شور میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلکہ آج کی سزا اتنی پرکشش اور دلفریب ہے کہ اکثر مجرم تو پکڑے جانے اور مقدمہ چلنے سے پہلے ہی اپنے لیے ''بعبور دریائے شور'' کی سزا پسند کر لیتے ہیں بلکہ بغیر کسی مقدمے کے خود کو یہ سزا دے بھی دیتے ہیں ۔
اب یہ جو آف شور کا تازہ شور مچا ہوا ہے ۔حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی ''خاموشی'' ہی ہے کہ ملک لٹ جاتا ہے برباد ہو جاتا ہے نسلیں قرض دار ہو جاتی ہیں انسان خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن یہ سب کرنے والے آرام سے بعبور دریائے شور بیٹھے حلوہ پلاؤ زردہ اڑاتے رہتے ہیں یوں کہیے کہ وہی ''دل'' کا شور یہ بھی ہے کہ شور تو سنائی دیتا ہے لیکن نہ تو ایک قطرہ خون نکلتا ہے اور نہ ہی کوئی چور اس شور کی شور اشوری میں پکڑائی دیتا ہے۔
ہم نے جب اس سلسلے میں تحقیق کی کہ آخر جرم بھی وہی ہے قانون بھی وہی ہے لیکن ''سزا'' انعام کی صورت میں ملتی ہے تو ایک واقف راز نے بتایا کہ اس زمانے میں جب چوری اور غداری کی سزا بعبور دریائے شور ہوتی تھی تو اس زمانے میں یہ طرح طرح کے ڈیٹرجنٹ نہیں ہوا کرتے تھے حالانکہ بے چارے بہادر شاہ ظفر نے کچھ بھی نہیں کیا تھا اس کی قبا پر جو داغ پڑے تھے وہ بھی دوسرے کے اڑائے ہوئے چھینٹوں سے لگے تھے لیکن بدقسمتی سے ''دھلنے دھلانے'' کے ہنر نے اتنی ترقی نہیں کی تھی معمولی داغ بھی نکل کر نہیں دیتے تھے اور بے چارا داغدار سزا یاب ہو جاتا تھا۔ لیکن آج کتنے ہی بڑے بڑے ضدی داغ کیوں نہ ہوں ایسے ایسے ڈیٹرجنٹ اور واشنگ مشینیں ایجاد ہو گئی ہیں کہ نہ صرف داغ دھل جاتے ہیں بلکہ کپڑا بالکل نیا نویلا ہو جاتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس جدید ''اقتدار'' نامی سوٹ کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے، اب کے بھی یہ جو شور اٹھا ہے خوش فہموں کا خیال ہے کہ چوروں کو ''کیفر کردار'' تک پہنچا دیا جائے گا۔
پنجاب اور کراچی وغیرہ میں اس ''شورنخود''کی بے پناہ اقسام پائی جاتی ہیں جیسے چھولے پٹھورے، آلو چھولے، مرغ چھولے وغیرہ، ایسا ہی سیاسی دستر خوان پر بھی ہوتا ہے کہ شور کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو چاہے پانامہ ہو، پاجامہ ہو یا شورنامہ صرف چند روز کے لیے اخبارات اور دوسرے میڈیائی بازاروں کو ''شور نخود'' مل جاتا ہے ہر کوئی کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی قسم کا ''شور نخود'' بیچتا ہوا نظر آتا ہے، لوگ بھی مزے لے کر خریدتے ہیں چاٹتے ہیں اور ''بس'' ورنہ بہت پرانے زمانے سے ''شور'' کا یہ سلسلہ چل رہا ہے حتیٰ کہ حافظ شیراز نے بھی اپنے دور کے بارے میں کہا تھا کہ
ایں چہ شوریست کہ در دور قمر می بینم
ھمہ آفاق پراز فتنہ و شرمی بینم
ہر کسے روز بہی می طلبد از ایام
مشکل آنیست کہ ہر روز بترمی بینم
اور آخر میں اس غزل کا وہ شہرہ آفاق شعر۔۔۔ جو ہر زمانے ہر دور ہر ملک اور ہر قوم میں صاف صاف چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ
اسپ تازی شدہ مجروح بہ زیر پالان
طوق زریں ھمہ در گردن خرمی بینم
آپ چاہیں تو ''طوق زرین'' کو ''شور زرین'' بھی کہہ سکتے ہیں کہ زر ہی تو اس کا جزو اعظم ہوتا ہے۔