ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم سے اچھی امیدیں ہیں اختر رسول
قومی ٹیم کل آسٹریلیا روانہ ہوگی، انٹرنیشنل سپرسیریز نائن اے سائیڈ میں بھی حصہ لے گی۔
قومی ٹیم کل آسٹریلیا روانہ ہوگی، انٹرنیشنل سپرسیریز نائن اے سائیڈ میں بھی حصہ لے گی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
انٹرنیشنل سپر سیریز نائن اے سائیڈ ہاکی ٹورنامنٹ اور چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کیلیے قومی ٹیم 20 نومبرکی صبح کوآسٹریلیا روانہ ہوگی۔
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے کینگروز کے دیس میں جانے والوں میں عمران شاہ، عمران بٹ (گول کیپرز)، محمد عمران( کپتان)، محمد عتیق اور سید کاشف شاہ (فل بیکس)، وسیم احمد، محمد توثیق، فرید احمد، راشد محمود اور محمد رضوان جونیئر(ہافس) جبکہ فارورڈز میں محمد وقاص (نائب کپتان)، شفقت رسول، محمد عمر بھٹہ، عبدالحسیم خان، شکیل عباسی، محمد کاشف علی ، محمد رضوان سینئر اور علی شان جبکہ ٹیم آفیشلزمیںہیڈکوچ ومنیجر اختر رسول ، کوچ عبدالحنیف خان ،اجمل خان لودھی ، احمد عالم اسسٹنٹ کوچ فیض الرحمان اور ویڈیو اینالسٹ ندیم لودھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی طرف سے سلیکشن کمیٹی کو ختم کرنے کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے پہلی بار اپنے طور پر قومی اسکواڈ کا منتخب کیا ہے۔ انٹرنیشنل سپر سیریز نائن اے سائیڈ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں 22سے 25 نومبر تک ہوگا جبکہ 34ویں چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ یکم تا 9 دسمبر تک ملبورن میں کھیلا جائے گا۔دوسری جانب پاکستان ہاکی ٹیم کے چیف کوچ اور منیجر اختر رسول کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں، ہمارا پہلا ہدف وکٹری اسٹینڈ ہے۔ ایک انٹرویو میںانھوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی ٹف ایونٹ ہے جس میں پاکستان کا پول آسان نہیں مگر کھلاڑیوں نے سخت محنت کی ہے مجھے امید ہے کہ اس بار نتیجہ میں خاصا فرق سامنے آئے گا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو آسٹریلیا ہالینڈ اور بیلجیئم کے ساتھ سخت چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی ہمارے لیے آئندہ ورلڈ کپ کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف نے سلیکشن کے اختیارات ٹیم انتظامیہ کو دیکر نئی اور مثبت روایات قائم کی ہے۔ اب ٹیم انتظامیہ براہ راست جواب دہ ہوگی۔ دنیا بھر میں ٹیم آفیشلز بااختیار ہوتے ہیں، پاکستان میں ماضی میں جو تجربہ کیا تھا اس میں فیڈریشن کی مداخلت اور عمل دخل موجود تھا مگر اس بار پی ایچ ایف کوئی مداخلت نہیں کررہا۔ہم نے اپنی مرضی سے ایمانداری کے ساتھ ٹیم منتخب کی یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم آفیشلز اقربا پروری کا مظاہرہ کریں گے ،کھلاڑیوں کی تعداد گنی چنی ہے اس میں زیادتی اور ناانصافی کسی بھی سطح پر ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی۔
ہماری اپنی اولادیں نہیں کھیل رہی ہیں اس لیے ہم کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی کیوں کریں۔ انھوں نے کہا کہ محمد وسیم تجربہ کار کھلاڑی ہیں اس لیے انھیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ہاف لائن میں اس وقت ان کی ضرورت ہے۔ اختر رسول نے کہا کہ حنیف خان منجھے ہوئے کوچ ہیں، ان کے ساتھ کھلاڑیوں کو کوچنگ دینے میں آسانی ہوگی۔ ہم نے کیمپ میں کئی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے جس کے چیمپئنز ٹرافی میں اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے کینگروز کے دیس میں جانے والوں میں عمران شاہ، عمران بٹ (گول کیپرز)، محمد عمران( کپتان)، محمد عتیق اور سید کاشف شاہ (فل بیکس)، وسیم احمد، محمد توثیق، فرید احمد، راشد محمود اور محمد رضوان جونیئر(ہافس) جبکہ فارورڈز میں محمد وقاص (نائب کپتان)، شفقت رسول، محمد عمر بھٹہ، عبدالحسیم خان، شکیل عباسی، محمد کاشف علی ، محمد رضوان سینئر اور علی شان جبکہ ٹیم آفیشلزمیںہیڈکوچ ومنیجر اختر رسول ، کوچ عبدالحنیف خان ،اجمل خان لودھی ، احمد عالم اسسٹنٹ کوچ فیض الرحمان اور ویڈیو اینالسٹ ندیم لودھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی طرف سے سلیکشن کمیٹی کو ختم کرنے کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے پہلی بار اپنے طور پر قومی اسکواڈ کا منتخب کیا ہے۔ انٹرنیشنل سپر سیریز نائن اے سائیڈ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں 22سے 25 نومبر تک ہوگا جبکہ 34ویں چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ یکم تا 9 دسمبر تک ملبورن میں کھیلا جائے گا۔دوسری جانب پاکستان ہاکی ٹیم کے چیف کوچ اور منیجر اختر رسول کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں، ہمارا پہلا ہدف وکٹری اسٹینڈ ہے۔ ایک انٹرویو میںانھوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی ٹف ایونٹ ہے جس میں پاکستان کا پول آسان نہیں مگر کھلاڑیوں نے سخت محنت کی ہے مجھے امید ہے کہ اس بار نتیجہ میں خاصا فرق سامنے آئے گا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو آسٹریلیا ہالینڈ اور بیلجیئم کے ساتھ سخت چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی ہمارے لیے آئندہ ورلڈ کپ کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف نے سلیکشن کے اختیارات ٹیم انتظامیہ کو دیکر نئی اور مثبت روایات قائم کی ہے۔ اب ٹیم انتظامیہ براہ راست جواب دہ ہوگی۔ دنیا بھر میں ٹیم آفیشلز بااختیار ہوتے ہیں، پاکستان میں ماضی میں جو تجربہ کیا تھا اس میں فیڈریشن کی مداخلت اور عمل دخل موجود تھا مگر اس بار پی ایچ ایف کوئی مداخلت نہیں کررہا۔ہم نے اپنی مرضی سے ایمانداری کے ساتھ ٹیم منتخب کی یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم آفیشلز اقربا پروری کا مظاہرہ کریں گے ،کھلاڑیوں کی تعداد گنی چنی ہے اس میں زیادتی اور ناانصافی کسی بھی سطح پر ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی۔
ہماری اپنی اولادیں نہیں کھیل رہی ہیں اس لیے ہم کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی کیوں کریں۔ انھوں نے کہا کہ محمد وسیم تجربہ کار کھلاڑی ہیں اس لیے انھیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ہاف لائن میں اس وقت ان کی ضرورت ہے۔ اختر رسول نے کہا کہ حنیف خان منجھے ہوئے کوچ ہیں، ان کے ساتھ کھلاڑیوں کو کوچنگ دینے میں آسانی ہوگی۔ ہم نے کیمپ میں کئی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے جس کے چیمپئنز ٹرافی میں اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔