بھارت کا جنگی جنون

بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون سے خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنیکی خواہش کا اظہار ہوتا ہے

بہتر ہوتا کہ بھارت اربوں ڈالر جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اپنے ملک میں غربت کی چکی میں پسے ہوئے کروڑوں افراد کی بہتری کے لیے صرف کرتا۔ فوٹو؛ فائل

بھارت نے اتوار کو اڑیسہ کے ساحل پر سپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ، یہ میزائل کسی بھی حملہ آور بیلسٹک میزائل کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس میزائل میں نیوی گیشن نظام کے علاوہ الیکٹرو مکینیکل ایکٹیویٹر نصب ہے جو اس کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ بھارت کے اس میزائل تجربے پر پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے ہتھیاروں میں ہونے والی اس پیش رفت پر پاکستان عالمی سطح پر آواز بلند کرے گا، انڈیا کو امریکا کا تعاون حاصل ہے کیونکہ واشنگٹن کے خیال میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کا مضبوط ہونا ضروری ہے، انڈیا کے سپر سانک انٹرسیپٹر میزائل کے تجربے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا، اب یقیناً پاکستان اپنے دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایڈوانس ٹیکنالوجی استعمال کرے گا۔

بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون سے خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنیکی خواہش کا اظہار ہوتا ہے ۔ بھارتی حکومت کئی بار اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں خود کو ایک بڑی معاشی اور عسکری قوت کے طور پر تیار کر رہا ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنی دفاعی صلاحیت پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ بھارت امریکا، روس، اسرائیل، فرانس، برطانیہ اور دیگر طاقتور قوتوں کے تعاون سے اپنی دفاعی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے ، خبروں کے مطابق دنیا میں دفاعی آلات خریدنے والا سب سے بڑا ملک بھارت ہی ہے۔

دسمبر 2015ء میں بھارت نے اسرائیل کی مدد سے کولکتہ میں ایک جدید میزائل کا تجربہ کیا، یہ میزائل زمین سے فضا میں دور تک مار کرنے اور فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسرائیل کا شمار بھارت کو اسلحہ سپلائی کرنے والے تین سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ بھارت نے اپریل 2015ء میں پہلی اسکورپین آبدوز کا تجربہ کیا، ڈیزل انجن سے چلنے والی فرانسیسی طرز کی اس جیسی چھ آبدوزیں تیار کی جائیں گی، بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے مطابق 2018ء تک تمام چھ آبدوزیں بحریہ کے حوالے کر دی جائیں گی، یہ آبدوز بھارت کی مسلح افواج کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، بھارت جوہری ہتھیاروں سے مسلح کشتیاں بھی بنا رہا ہے۔


بھارتی بحریہ میں جدت لانے کے عمل میں حالیہ برسوں میں تیزی آئی ہے اس کی ایک وجہ تو سمندری حدود کا بڑھنا اور دوسری وجہ چینی بحریہ میں توسیع سے لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنا بیان کی جاتی ہے۔ بھارت روس کے ساتھ کئی اہم دفاعی سمجھوتے کر چکا ہے، گزشتہ دنوں امریکی صدر بارک اوباما بھی بھارت پہنچے اور انھوں نے اس کے ساتھ بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے کیے اس سے قبل امریکا بھارت کو سول جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے معاہدہ بھی کر چکا ہے۔

بھارت کا بڑھتا ہوا یہ جنگی جنون نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے چھوٹے ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اس کا یہ جنگی جنون کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا اور وہ اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر سالانہ بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ کہنا کہ وہ بھارت کے ہتھیاروں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر عالمی سطح پر آواز اٹھائے گا، یقیناً پاکستان کو خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات سے عالمی دنیا کو آگاہ کرنا چاہیے لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا عالمی دنیا پاکستان کے اس مطالبے پر توجہ دیتے ہوئے بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کو روک پائے گی۔

شاید ایسا ممکن نہ ہو سکے کیونکہ بھارت کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی امریکا، روس، فرانس اور دیگر یورپی ممالک ہی فراہم کر رہے ہیں، جہاں ان ممالک کے اس خطے سے مفادات وابستہ ہیں وہاں ان کے اسلحے کی فروخت کے لیے بھارت ایک بڑی منڈی بن چکا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر طاقتور قوتوں کا معیار دہرا ہے ایک جانب وہ دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت، جہالت اور بیماریوں کے خاتمے کی آواز اٹھا رہی ہیں تو دوسری جانب وہ اپنے اسلحے کی صنعت کو فروغ دینے کی خاطر بہت سے کمزور ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرات بھی پیدا کر رہی ہیں۔

بہتر ہوتا کہ بھارت اربوں ڈالر جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اپنے ملک میں غربت کی چکی میں پسے ہوئے کروڑوں افراد کی بہتری کے لیے صرف کرتا۔ بھارت کے جدید ترین ہتھیاروں کے تجربات سے خطے میں اسلحے کی دوڑ مزید تیز ہو جائے گی اور پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے جس کے اس کی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور خطے میں غربت، جہالت اور بیماریوں کے خاتمے کے منصوبے متاثر ہوں گے۔
Load Next Story