صدر مملکت کا صائب انداز نظر
سرکاری خزانہ میں غبن ، فراڈ اور جعلسازی ایسی خرابیاں ہیں جو نظم حکمرانی میں نیچے تک سرائیت کرگئی ہیں
گزشتہ10 سال میں کوئی ڈیم نہیں بنا، بھاشاڈیم کی فزیبلٹی تیار تھی لیکن کام نہیں کیا گیا۔ فوٹو:فائل
صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ملک میں اب بد عنوانی نہیں چل سکتی، پانامہ لیکس سے متعلق کئی چیزیں سامنے آئی ہیں، حساب ہر ایک کا ہوگا اور ملکی دولت لوٹنے والا ہر شخص پکڑ میں آئیگا۔ اتوار کو گورنر ہاؤس کراچی میں نیو ٹیک کی تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی ۔ اس حقیقت سے شاید کسی کو انکار نہیں ہوگا کہ بدعنوانی انتظامی مشینری کا عالمی ناسور ہے، سرکاری خزانہ میں غبن ، فراڈ اور جعلسازی ایسی خرابیاں ہیں جو نظم حکمرانی میں نیچے تک سرائیت کرگئی ہیں اور جوابدہی کے فقدان یا کرپٹ عناصر کی عیاریوں کے باعث کرپشن کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہوسکا ہے، تاہم سب ہی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کرپشن ترقی کی دشمن ہے۔
بعض تو اسے عصمت فروشی سے زیادہ گھناؤنا جرم سمجھتے ہیں کیونکہ اولالذکرسے انفرادی اخلاقیات کو خطرہ رہتا ہے مگر کرپشن سے پوری سیاست اور قوم اخلاقی زوال کا شکار ہوجاتی ہے جب کہ گڈ گورننس ممکن ہی نہیں ہوتی چنانچہ پانامہ لیکس کے آئینہ میں پاکستان اپنے سیاسی ، معاشی و اخلاقی انحطاط اور حکمرانی میں چیک اینڈ بیلنس کی کوتاہیوں سے بحران کے ایک دردانگیز دورانئے سے گزر رہا ہے جس میں بڑے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ گندے کرپٹ عناصر کو سیاسی نظام کی رگوں سے اس طرح نکالا جائے کہ خود سیاست شفافیت ، میرٹ ، دیانت اور وفاداری بہ شرط استواری کے مصداق عام آدمی کی فلاح و بہبود سے مشروط و مربوط ہوجائے۔ ریاستوں کے جاہ و جلال اور عظیم ترین تہذیبوں اور سلطنتوں کے خاتمہ یا زوال کا سبب بیرونی خطرات سے زیادہ داخلی کمزوری، بدعنوانی، اور ان اقدار کی عدم پاسداری کا نتیجہ تھا جن پر ان عظیم مملکتوں کو ہمیشہ ناز رہا ۔ یہ تاریخ کا سبق ہے جسے صدر مملکت نے اپنے خطاب میں اجاگر کیا ہے۔
صدر مملکت کے مطابق ماضی میں بجلی کی پیداوار سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے نہ بنا کر مجرمانہ غفلت برتی گئی لیکن اب ایمان کی حد تک یقین ہے کہ پاکستان کے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ صدر کا کہنا صائب ہے کہ حکمرانوں نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں جس کے باعث ہم اپنا بہت وقت برباد کر چکے، ہماری غلطیوں کی وجہ سے ہی تعلیمی ادارے تباہ ہوئے جب کہ ووکیشنل ٹریننگ پر توجہ نہ دینے اور فنی تربیت نہ ہونے کے باعث نوجوان منفی سوچ اور دہشتگردی کی طرف مائل ہوئے۔
گزشتہ حکومتوں نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیے لیکن کوئی بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا، گزشتہ10 سال میں کوئی ڈیم نہیں بنا، بھاشاڈیم کی فزیبلٹی تیار تھی لیکن کام نہیں کیا گیا۔غرض یہ کہ یہی وہ لغزشیں ہیں اور یہی حکمرانوں کا وہ شاہانہ انداز حکمرانی ہے جس کی بازگشت قوم پانامہ لیکس میں سن رہی ہے۔ بانیٔ پاکستان نے تو11 اگست 1947ء کی تقدیر ساز تقریر میں کرپشن کے ناسور سے خبردار رہنے کی تلقین کی تھی۔ مگر اس فغان درویش کو کسی نے سنا نہیں۔اس لیے اب پچھتاوے کا نہیں عمل کا وقت ہے۔
بعض تو اسے عصمت فروشی سے زیادہ گھناؤنا جرم سمجھتے ہیں کیونکہ اولالذکرسے انفرادی اخلاقیات کو خطرہ رہتا ہے مگر کرپشن سے پوری سیاست اور قوم اخلاقی زوال کا شکار ہوجاتی ہے جب کہ گڈ گورننس ممکن ہی نہیں ہوتی چنانچہ پانامہ لیکس کے آئینہ میں پاکستان اپنے سیاسی ، معاشی و اخلاقی انحطاط اور حکمرانی میں چیک اینڈ بیلنس کی کوتاہیوں سے بحران کے ایک دردانگیز دورانئے سے گزر رہا ہے جس میں بڑے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ گندے کرپٹ عناصر کو سیاسی نظام کی رگوں سے اس طرح نکالا جائے کہ خود سیاست شفافیت ، میرٹ ، دیانت اور وفاداری بہ شرط استواری کے مصداق عام آدمی کی فلاح و بہبود سے مشروط و مربوط ہوجائے۔ ریاستوں کے جاہ و جلال اور عظیم ترین تہذیبوں اور سلطنتوں کے خاتمہ یا زوال کا سبب بیرونی خطرات سے زیادہ داخلی کمزوری، بدعنوانی، اور ان اقدار کی عدم پاسداری کا نتیجہ تھا جن پر ان عظیم مملکتوں کو ہمیشہ ناز رہا ۔ یہ تاریخ کا سبق ہے جسے صدر مملکت نے اپنے خطاب میں اجاگر کیا ہے۔
صدر مملکت کے مطابق ماضی میں بجلی کی پیداوار سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے نہ بنا کر مجرمانہ غفلت برتی گئی لیکن اب ایمان کی حد تک یقین ہے کہ پاکستان کے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ صدر کا کہنا صائب ہے کہ حکمرانوں نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں جس کے باعث ہم اپنا بہت وقت برباد کر چکے، ہماری غلطیوں کی وجہ سے ہی تعلیمی ادارے تباہ ہوئے جب کہ ووکیشنل ٹریننگ پر توجہ نہ دینے اور فنی تربیت نہ ہونے کے باعث نوجوان منفی سوچ اور دہشتگردی کی طرف مائل ہوئے۔
گزشتہ حکومتوں نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیے لیکن کوئی بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا، گزشتہ10 سال میں کوئی ڈیم نہیں بنا، بھاشاڈیم کی فزیبلٹی تیار تھی لیکن کام نہیں کیا گیا۔غرض یہ کہ یہی وہ لغزشیں ہیں اور یہی حکمرانوں کا وہ شاہانہ انداز حکمرانی ہے جس کی بازگشت قوم پانامہ لیکس میں سن رہی ہے۔ بانیٔ پاکستان نے تو11 اگست 1947ء کی تقدیر ساز تقریر میں کرپشن کے ناسور سے خبردار رہنے کی تلقین کی تھی۔ مگر اس فغان درویش کو کسی نے سنا نہیں۔اس لیے اب پچھتاوے کا نہیں عمل کا وقت ہے۔