آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قابل ٹیکس آمدن کی حد5لاکھ روپے تک بڑھائے جانے کا امکان
بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات اورگیس پر فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس عائدکیے جانے کی بھی توقع
بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات اورگیس پر فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس عائدکیے جانے کی بھی توقع فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھا کر ساڑھے 4 تا 5 لاکھ روپے کرنے، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے تنخواہ دار ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھانے، پٹرولیم مصنوعات و گیس پر فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے آئندہ بجٹ میں قابل ٹیکس آمدنی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، اس کے علاوہ یہ تجویز بھی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات پر شرح کے بجائے فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس عائد کیا جائے تاہم یہ ٹیکس فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر ہونا چاہیے۔
جس کے لیے ختم ہونے والے مالی سال کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بنچ مارک تصور کیا جائے اور اسی بنچ مارک کے مطابق آنے والے بجٹ کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس متعین کیا جائے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والا ٹیکس ریونیو متاثر نہ ہو، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خواہ اضافہ ہو یا کمی ہو اس سے حکومت کو ٹیکس ریونیو اتنا ہی ملے جو پہلے دن سے مل رہا تھا اور جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی ہو اسے عوام کو منتقل کردیا جائے۔
اس سے حکومت کے 43 فیصد ریونیو کو تحفظ حاصل ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بجلی کے تمام کمرشل صارفین کے کنزیومر نمبرز کو این ٹی این اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر قرار دے کر ان کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قراردیا جائے، اس سے ٹیکس نیٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بھی بہتر ہوگی۔
اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے ان رجسٹرڈ و نان فائلرز پر فائلرز و رجسٹرڈ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ صرف رجسٹرڈ لوگوں و اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے والے ٹیکس دہندگان کو مراعات دی جائیں اور جو ٹیکس دہندگان اپنے خام مال و دیگر خریداری کا 90 فیصد رجسٹرڈ لوگوں و تاجروں سے خریدیں ان کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 65 اے کے تحت حاصل ٹیکس کریڈٹ 2.5 فیصد سے بڑھا کر5 فیصد کردیا جائے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھا کر ساڑھے 4 تا 5 لاکھ روپے کرنے، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے تنخواہ دار ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھانے، پٹرولیم مصنوعات و گیس پر فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے آئندہ بجٹ میں قابل ٹیکس آمدنی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، اس کے علاوہ یہ تجویز بھی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات پر شرح کے بجائے فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس عائد کیا جائے تاہم یہ ٹیکس فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر ہونا چاہیے۔
جس کے لیے ختم ہونے والے مالی سال کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بنچ مارک تصور کیا جائے اور اسی بنچ مارک کے مطابق آنے والے بجٹ کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس متعین کیا جائے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والا ٹیکس ریونیو متاثر نہ ہو، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خواہ اضافہ ہو یا کمی ہو اس سے حکومت کو ٹیکس ریونیو اتنا ہی ملے جو پہلے دن سے مل رہا تھا اور جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی ہو اسے عوام کو منتقل کردیا جائے۔
اس سے حکومت کے 43 فیصد ریونیو کو تحفظ حاصل ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بجلی کے تمام کمرشل صارفین کے کنزیومر نمبرز کو این ٹی این اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر قرار دے کر ان کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قراردیا جائے، اس سے ٹیکس نیٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بھی بہتر ہوگی۔
اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے ان رجسٹرڈ و نان فائلرز پر فائلرز و رجسٹرڈ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ صرف رجسٹرڈ لوگوں و اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے والے ٹیکس دہندگان کو مراعات دی جائیں اور جو ٹیکس دہندگان اپنے خام مال و دیگر خریداری کا 90 فیصد رجسٹرڈ لوگوں و تاجروں سے خریدیں ان کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 65 اے کے تحت حاصل ٹیکس کریڈٹ 2.5 فیصد سے بڑھا کر5 فیصد کردیا جائے۔