تُسی چھاگئے ہو کھنہّ صاحب

اس نے اپنی شگفتہ اور بے ساختہ اداکاری سے لوگوں اور بطور خاص...

zahedahina@gmail.com

انسان نے ہمیشہ اپنے دکھوں سے پناہ چاہی ہے اور ان لوگوں سے محبت کی ہے جنہوںنے اعلیٰ آدرشوں کے لیے زندگی تج دی، یا پھر وہ جنہوںنے موسیقی، رقص ، اداکاری، صداکاری سے ان کادل بہلایا اور ان کے دکھ درد بانٹے۔ ہزاروںسال سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔

یونان نے ڈرامے کے فن کو وہاں پہنچایا جہاں پہنچنے کی آرزو لوگ آج بھی کرتے ہیں۔ بیسویں صدی انسانوں کے دل بہلاوے کی ایک ایسی صنف لے کر آئی جس نے انسانوں کی تفریح اور ان کے دکھ درد میں اداکار، ہدایت کار، موسیقار اورگلوکار کی ساجھے داری کو ناقابل یقین وسعت اورگہرائی دی۔ پہلے خاموش فلمیں آئیں اور پھر بولتی فلموں نے ایک انقلاب برپا کردیا اور اب ٹیلی ویژن کی چھوٹی اسکرین ہمارے کمروںمیں رکھی ہے۔ اداکار ہمیں ہنساتے اور رلاتے ہیں۔

ہماری زندگی اور ذات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ گزشتہ سو برسوں کے درمیان کچھ ایسی فلمیں اور کچھ ایسے اداکار سامنے آئے جنھیں ہم تاحیات بھلا نہیں سکتے۔ بد صورت اور کبڑے انسان بھی عشق کا حق رکھتے ہیں اور ان کا دل بھی کسی جوان رعنا کی طرح دھڑکتا ہے۔ اس کی بے مثال جھلک ہمیں ''ناٹرے ڈیم کے کبڑے'' میں نظر آتی ہے۔ اس فلم کو دیکھ کر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم انتھونی کوئین کا جینا لولو سے عشق اور اس میں ناکامی پر بلندی سے کود کر اس کے جان دینے کو فراموش کرسکیں۔ اسی طرح'کابلی والا' کا رحمت پاوندہ ہماری آنکھوں کو نم کردیتا ہے۔ 'دیوداس' 'آگ کا دریا' 'وعدہ' کیسی بے قرار کردینے والی فلمیں تھیں۔

برصغیر کی فلمی دنیا میں پرتھوی راج، دلیپ کمار، دیو آنند کا راج رہا۔ پری چہرہ نسیم، مدھوبالا، نرگس اور میناکماری کروڑوں دلوں کی دھڑکن رہیں۔ مردوں نے ان سے عشق کیا اور ہماری عورتیں ان کی اداکاری میں اپنی زندگی کاعکس دیکھتی رہیں۔ پھر 60ء کی دہائی آئی جس میں ہنستا، ہنساتا، لال گلال چہرے والا ایک نیا اداکار اسکرین پرنمودار ہوا اور اس نے اپنی شگفتہ اور بے ساختہ اداکاری سے لوگوں اور بہ طور خاص نوجوان لڑکیوں کو اپنا دیوانہ بنالیا۔

دہائیوں تک لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والا ان کے غموں کو اپنی ہنسی اور چست جملوں سے بہلانے والا راجیش کھنہ رخصت ہوا۔پاکستان میں اس کے جانے کا سوگ اس طرح منایا گیا جیسے وہ یہیں کا ہو۔ بڑے فنکاروں کی شہرت اور ان سے محبت سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ملکہ ترنم نورجہاں، نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن کی موت پر صف ماتم بچھی، اسی طرح ہمارے یہاں لوگ دلیپ کمار کی زندگی کی دعائیں کرتے ہیں، امیتابھ بچن اگر فلم کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوجائیں تو ان کے نام خطوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ لتا منگیشکر کی آواز پر فدا ہونیوالے لاکھوں نہیں کروڑوںہیں۔

برصغیر کے ایک عام انسان کا، پاکستانی اور ہندوستانی فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں سے دل اوردردکا یہ رشتہ ہر زمانے میں قائم رہا ۔ ہمارے دکھ سکھ، ہماری مشکلیں، ہماری بھک مری، ہمارے غریب انسان کی بے بسی اور ہمارے یہاں ریت رواج کی وہ دیوار جو دو دلوں کو ملنے نہیں دیتی، سب ہی کچھ تو ایک جیسا ہے۔ ہماری یہ کٹھنائیاں جب سینمااسکرین پر نظر آتی ہیں تو وہ ہیرو اور ہیروئن ہمارے دلوں میں گھر کرلیتے ہیں جو ہمیں اپنے جیسے دکھ سکھ جھیلتے نظر آتے ہیں۔ راجیش کھنہ کے لاکھوں چاہنے والے اگر پاکستان میں تھے تو اسی لیے کہ وہ اس کی اداکاری سے اپنے غموں کو چند لمحوں کے لیے سہی بھول جاتے تھے۔

راجیش کھنہ جنھیں ان کے چاہنے والے ''کاکا'' اور ''کاکا جی'' کے نام سے یاد کرتے تھے، وہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کے پہلے'سپر اسٹار' تھے۔ پرتھوی راج، دلیپ جی، دیو آنند اور راج کپور کے بعد انھوں نے اپنا سکہ ایسا جمایا کہ ایک کے بعد ایک 16 ہٹ فلمیں دیں اور سپر اسٹار کہلائے۔

60ء کی دہائی میں ان پر فدا ہونے والی پاکستانی لڑکیاں اپنے کمروں کی دیواروں کو ان کی رنگین تصویروں سے سجایا اور اپنی کتابوں میں ان کے پکچر پوسٹ کارڈ رکھتیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والی ہیروئنوں ہیما مالنی، شرمیلا ٹیگور، ممتاز سے حسد کرتیں۔ ان میں سے چند ایسی بھی تھیں جنہوں نے اپنے خون سے انھیں پریم پتر لکھے تھے۔ یہ لڑکیاں اب نانیاں، دادیاں ہوئیں لیکن جب ''کاکا'' کی بیماری کی خبر آئی تو میں نے انھیں اداس دیکھا۔

ہمارے اردو، انگریزی اور سندھی اخباروں میں راجیش کھنہ کے ایڈیشن چھپے۔ ان کے بارے میں جب یہ چھپا کہ وہ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے توپاکستان کے چھوٹے سے شہر بورے والا کے لوگ برا مان گئے۔ ارے وہ تو ہمارا بیٹا تھا۔ ہمارے یہاں اس کا جنم ہوا پھر وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ امرتسر چلا گیا۔ ایک بوڑھے نے برا مان کر کہا صحافی بورے والا میں وہ گھر ڈھونڈتے پھرے جہاں ''کاکا'' نے جنم لیا تھا۔ اس اسکول کی تصویریں چھپیں جہاں اس کے والد ہیڈ ماسٹر تھے۔

اس زمانے کے ہمارے مشہور ہیرو وحید مراد پر بھی لڑکیاں اسی طرح فدا تھیں جس طرح راجیش کھنہ پر۔ دونوں رومانی ہیرو تھے۔ وحید مراد چاکلیٹی ہیرو کہلاتے تھے اور نوجوان لڑکیوں کے دل کی دھڑکن تھے۔ راجیش کھنہ بھی دیوانوں کی طرح چاہے جاتے تھے۔ دونوں کی زندگیاں بھی ایک جیسی رہیں۔ انھوں نے بے مثال عروج دیکھا۔ ان کی ہیروئن ممتاز کے کہنے کے مطابق 600 لڑکیاں آدھی رات کو ان سے ملنے کے لیے لائن لگاتی تھیں۔وہ ان کی گاڑی کو اتنا پیار کرتیں کہ وہ لپ اسٹک کے سرخ رنگ سے رنگ جاتی۔

اگر وہ کسی سڑک، کسی ہوٹل پر نظر آجائیں تو ان کے چاہنے والوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس بلوانی پڑتی تھی اور پھر یہ بھی ان پر گزری کہ وہ نظر انداز کیے جانے لگے۔ وحید مراد اپنے چاہنے والوں کی بے اعتنائی برداشت نہ کرسکے اوربھری جوانی میں ختم ہوگئے۔ راجیش کھنہ نے زوال کے دن ہمت سے گزارے لیکن تنہائی انھیں کھاتی رہی۔ یوں تو وہ کینسر میں مبتلا تھے لیکن اصل مرض تنہائی تھا۔

راجیش کھنہ اپنے ملک میں کس طرح چاہے جاتے تھے، اس کا اندازہ انڈین ائیر فورس کے ایک سابق افسر اور آج کے ایک کامیاب ایگزیکٹو انیل سہگل کے اس مضمون سے ہوتا ہے جو ہمارے ادارے کے انگریزی اخبار ''ایکسپریس ٹریبیون'' میں شایع ہوا۔ انیل نے لکھا ہے کہ 1994ء میں میرا تبادلہ ممبئی سے ایک دور دراز علاقے میں کردیا گیا، ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے میں نے یہ تبادلہ رکوانے کی کوشش کی لیکن کسی نے میری ایک نہیں سنی، تب میرے ذہن میں ''کاکا جی'' کا نام آیا جو اس وقت ایک سپر اسٹار کے ساتھ ہی ہمارے پارلیمنٹ کے منتخب ممبر بھی تھے۔

میں نے جب ان سے کہا کہ وہ میری سفارش کر دیں تو وہ ہنسے اور کہنے لگے یہ ائیرفورس والے کسی کی سنتے نہیں ہیں لیکن تم ائیر چیف مارشل کو فون ملائو۔ راجیش کھنہ اور ہندوستانی ائیر چیف مارشل کے درمیان جو گفتگو ہوئی ، وہ کچھ یوںتھی:

کاکا جی: کول صاحب، میں راجیش کھنہ بول رہا ہوں

ائیرچیف مارشل کول : راجیش کھنہ صاحب!؟

کاکا جی: جی کول صاحب، آداب عرض ہے، میں راجیش کھنہ ہی بول رہا ہوں۔


اے سی ایم کول: ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے یاد کیا، ہم توآپ کی اداکاری کے دیوانے ہیں۔

کاکا جی: کول صاحب، بھائی اصل ہیرو تو آپ ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پرستار تو ہم ہیں آپ کے۔

ائیرمارشل: فرمائیں، آپ نے کیسے یاد کیا؟

کاکا جی: سر، ہمیں آپ سے ایک مہربانی چاہیے۔

ائیرمارشل کول: بھائی ہمیں خوش ہوگی اگر آپ کے کسی کام آسکیں، فرمائیے، میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟

کاکا جی: سر، ہمارا ایک چھوٹا بھائی ہے جو بمبئی میں ائیرفورس کی خدمت کررہا ہے۔ آپ نے اس کی تعیناتی بمبئی سے باہر کردی ہے۔ اس سے اسے اور ہم سب کو تکلیف ہوئی ہے۔

اے سی ایم کول: تعیناتی میں تو ہم دخل نہیں دیتے، لیکن آپ سے انکار بھی نہیں کرسکتے...

کاکا جی: سر، ہماری یہ گزارش...

اے سی ایم کول: آپ کی بات سر آنکھوں پر کھنہ صاحب، لیکن ہماری بھی ایک گزارش ہے آپ سے۔

کاکا جی: لالے کی جان... حکم کیجیے۔

اے سی ایم کول: بھائی ہمارے علاوہ بھی ہمارے گھر میں آپ کے بہت چاہنے والے موجود ہیں۔ یہ سب آپ سے ملنا چاہیں گے۔ آپ کو ہمارے گھر چائے پر آنا...

کاکا جی: کول صاحب، چائے کیا چیز ہے، ہم توکھانا کھانے آئیں گے!

اے سی ایم کول: تو یہ وعدہ رہا۔ میں تعیناتی روکنے کے لیے ابھی ہدایات دے دوں گا۔

کاکا جی: سر، آپ نے تو ہمیں خرید لیا ہے، کول صاحب! تُسی چھاگئے ہوکول صاحب!

انیل سہگل نے لکھا ہے کہ اس گفتگو سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ راجیش کھنہ کس طرح بڑے لوگوں کے دلوںکو بھی چھو کر گزرتے تھے۔

''کاکا'' نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ پاکستان میں بھی ان کے ایسے چاہنے والے ہوں گے جو اپنے سفید بالوں کی پروا کیے بغیر آنسو بہائیں گے۔

میں تو ان کے بارے میں یہی کہوں گی کہ دنیا سے جانے کے بعد ''تُسی چھاگئے ہو کھنہ صاحب''۔
Load Next Story