وزیراعظم کا خطاب اور اپوزیشن کا واک آؤٹ

پانامہ لیکس کے بعد جو سیاسی بحران پیدا ہوا ہے وہ بجائے کسی کروٹ بیٹھنے کے مزید پیچیدہ اور گہرا ہوتا جا رہا ہے

پاکستان کی بقا اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ کرپشن کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پانامہ لیکس کے حوالے سے تقریر کی۔ انھوں نے تقریر میں اپنی اور اپنے خاندان کی صفائی پیش کی اور اسپیکر قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی درخواست کی۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی اتفاق رائے سے جامع ٹرمز آف ریفرنس اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دے تاکہ بدعنوانی کرنے والوں کا محاسبہ کیا جا سکے۔کمیٹی جو تجویز کرے گی تمام تر شواہد کی تفصیل اس کے سامنے ہماری طرف سے رکھ دی جائے گی۔ ادھر وزیراعظم کی تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے تقریر کی اور اس کے بعد متحدہ اپوزیشن وزیراعظم کا خطاب مسترد کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔ یوں صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

پانامہ لیکس کے بعد جو سیاسی بحران پیدا ہوا ہے وہ بجائے کسی کروٹ بیٹھنے کے مزید پیچیدہ اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس مختصر رہا' پہلے خیال یہی تھا کہ وزیراعظم قومی اسمبلی میں جائیں گے اور وہاں ایوان کے سامنے اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیں گے لیکن صورت حال مختلف ہو گئی ' اپوزیشن نے وزیراعظم کا خطاب مسترد کر دیا ہے ' اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہیں دیا ہے۔

اب یہ معاملہ کیا رخ اختیار کرے گا ' اس کے بارے میں وقتی طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن لگتا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پرکوئی متفقہ لائحہ عمل تک نہیں پہنچ سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم نے جس پارلیمانی کمیٹی کی تجویز دی ہے' اپوزیشن اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو پالیسی اختیار کی اور واک آؤٹ کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان جو باتیں کیں ان سے یہی لگتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن الگ الگ راستوں پر چلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔


آنے والے وقت میں اپوزیشن جماعتیں کسی ایک نقطے پر کوئی ڈھیلا ڈھالا اتحاد بھی قائم کر سکتی ہیں' ایسا اتحاد قائم کر کے وہ حکومت کو مجبور کریں گی کہ پانامہ لیکس پر اس کے موقف کو تسلیم کیا جائے' معاملات احتجاجی جلسے جلوسوں تک پہنچ سکتے ہیں ' پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف بھی جلسے کر رہی ہے اور وزیراعظم نواز شریف بھی جلسے کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو بھی جلسے کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال آگے بڑھ کر احتجاج کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جمہوری نظام میں اختلافات کا ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن پانامہ لیکس کے بعد صورت حال نے نیا رخ اختیار کر لیا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ روابط بڑھائے ' اس معاملے میں وزیراعظم نواز شریف کو پیش قدمی کرنی چاہیے۔

انھیں خود اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے ' مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے موجودہ سیاسی بحران کو طے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ پانامہ لیکس کا بحران جتنا طویل ہوتا جائے گا حکومت کے لیے مشکلات بڑھتی چلی جائیں گی' اس معاملے کو جتنا جلد حل کر لیا جائے 'جمہوریت کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ اس میں کوئی رائے نہیں ہے کہ کرپشن کلچر نے وطن عزیز کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے' ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ' اگر کرپشن کلچر کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا تو معیشت کو ٹریک پر لانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ اصولی طور پر تو موجودہ صورت حال میں اعلیٰ سطح پر اخراجات میں کمی کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔

کمیشن اور کک بیکس نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے ' اب تو صورت حال یہ ہے کہ کرپشن کے الزامات سے ہر دامن آلودہ ہو گیا ہے ' یہ کہنا کہ میرے ہاتھ صاف ہیں 'معاملے کا حل نہیں ہوتا ' پارلیمنٹ کو کرپشن کے خاتمے اور پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے مناسب قانون سازی کرنی چاہیے' چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے لکھے گئے حکومتی خط کے جواب میں یہی کہا ہے۔

ارباب اختیار کو ادراک ہونا چاہیے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے بغیر وہ اس بحران سے نہیں نکل سکتی اور اس مقصد کے لیے اسے تحقیقاتی عمل پر اپوزیشن کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا۔ اس معاملے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور وزیراعظم کو خود آگے بڑھ کر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کر کے اس مسئلے پر پیش رفت کرنی چاہیے۔ پاکستان کی بقا اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ کرپشن کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے اور اس کی ابتدا پانامہ لیکس کی تحقیقات سے کر دی جائے۔
Load Next Story