جنرل راحیل کی چینی قیادت سے ملاقاتیں
پاک چین دوستی بلاشبہ عصر حاضر کی معاشی تاریخ میں ایک نئے سنگ میل کو عبور کرچکی ہے
پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے کامیابیوںکی تو قع رکھتے ہوئے ہر قسم کی سیکیورٹی فراہم کرنے کو تیار ہے۔ فوٹو : آئی ایس پی آر
ISLAMABAD:
چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے ترقی اور خوش حالی کی علامت ہے بلکہ یہ پورے خطے کے لیے موزوں ہے، منصو بے کے لیے پاکستانی حکومت اور فوج کی جانب سے بھرپور حمایت کو سراہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان دونوں اطراف کے عوام کے لیے مواقعے کاایک دوسرے کا ساتھ تبادلہ کرتے ہوئے مشترکہ کاوشوں سے چیلنجز پر قابو پائیں گے۔
یہ بات انھوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو بتائی جو پیر کو دوست ملک چین کے2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے جہاں انھوں نے وزیراعظم لی کی چیانگ اور اپنے ہم منصب جنرل لی ژو چنگ سے ملاقاتیں کیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی ٹویٹ کے مطابق بیجنگ پہنچنے کے بعد اپنے چینی ہم منصب لی ژو چنگ سے ان کے دفترمیںملاقات کے دوران آرمی چیف نے انھیںنیا قائم شدہ آرمی ہیڈکوارٹرز۔2 کی کمان سنبھالنے پرمبارک باد دی جب کہ ملاقات میں عسکری سطح پر تعاون کو مزید بہتر بنانے، تربیتی تبادلوں میں نمایاں اضافے، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کے بارے میں بات چیت ہوئی۔
پاک چین دوستی بلاشبہ عصر حاضر کی معاشی تاریخ میں ایک نئے سنگ میل کو عبور کرچکی ہے، چین نے اپنے عمل اور خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری منسوبہ کی تکمیل میں جس اخلاص ، مالیاتی اشتراک و تعاون اور گوادر پورٹ کی تعمیر میں اپنی وارفتگی اور پاکستان کو درپیش معاشی مسائل کے حل میں مدد ی ہے اس پر ہمارے دشمن انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔
سی پیک منصوبہ پر بھارت کے مذموم عزائم طشت از بام ہوچکے ہیں، وہ امریکا اور دیگر ملکوں کو بھی اپنے دام فریب میں لانے کے نت نئے جتن کررہا ہے، اسے دیوانگی کا دورہ پڑا ہے کہ کسی طرح چاہ ہار بندرگاہ کو گوادر پورٹ کے مقابل لاکھڑا کرے اور اس کے لیے وہ پاک ایران تعلقات کو زہر آلود کرنے کی بھی ہر ممکن ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔
امریکا اگرچہ پاکستان کو باور کراتا رہتا ہے کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی کی کسی تحریک یا شورش کی حمایت نہیں کررہا تاہم قرائن یہ بتاتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں گھناؤنے کھیل سے باز نہیں آئیگا ، چنانچہ اس تناطر میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی گہری دوستی کو سراہتا ہے، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے کامیابیوں کی تو قع رکھتے ہوئے ہر قسم کی سیکیورٹی فراہم کرنے کو تیار ہے۔
چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے ترقی اور خوش حالی کی علامت ہے بلکہ یہ پورے خطے کے لیے موزوں ہے، منصو بے کے لیے پاکستانی حکومت اور فوج کی جانب سے بھرپور حمایت کو سراہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان دونوں اطراف کے عوام کے لیے مواقعے کاایک دوسرے کا ساتھ تبادلہ کرتے ہوئے مشترکہ کاوشوں سے چیلنجز پر قابو پائیں گے۔
یہ بات انھوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو بتائی جو پیر کو دوست ملک چین کے2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے جہاں انھوں نے وزیراعظم لی کی چیانگ اور اپنے ہم منصب جنرل لی ژو چنگ سے ملاقاتیں کیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی ٹویٹ کے مطابق بیجنگ پہنچنے کے بعد اپنے چینی ہم منصب لی ژو چنگ سے ان کے دفترمیںملاقات کے دوران آرمی چیف نے انھیںنیا قائم شدہ آرمی ہیڈکوارٹرز۔2 کی کمان سنبھالنے پرمبارک باد دی جب کہ ملاقات میں عسکری سطح پر تعاون کو مزید بہتر بنانے، تربیتی تبادلوں میں نمایاں اضافے، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کے بارے میں بات چیت ہوئی۔
پاک چین دوستی بلاشبہ عصر حاضر کی معاشی تاریخ میں ایک نئے سنگ میل کو عبور کرچکی ہے، چین نے اپنے عمل اور خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری منسوبہ کی تکمیل میں جس اخلاص ، مالیاتی اشتراک و تعاون اور گوادر پورٹ کی تعمیر میں اپنی وارفتگی اور پاکستان کو درپیش معاشی مسائل کے حل میں مدد ی ہے اس پر ہمارے دشمن انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔
سی پیک منصوبہ پر بھارت کے مذموم عزائم طشت از بام ہوچکے ہیں، وہ امریکا اور دیگر ملکوں کو بھی اپنے دام فریب میں لانے کے نت نئے جتن کررہا ہے، اسے دیوانگی کا دورہ پڑا ہے کہ کسی طرح چاہ ہار بندرگاہ کو گوادر پورٹ کے مقابل لاکھڑا کرے اور اس کے لیے وہ پاک ایران تعلقات کو زہر آلود کرنے کی بھی ہر ممکن ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔
امریکا اگرچہ پاکستان کو باور کراتا رہتا ہے کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی کی کسی تحریک یا شورش کی حمایت نہیں کررہا تاہم قرائن یہ بتاتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں گھناؤنے کھیل سے باز نہیں آئیگا ، چنانچہ اس تناطر میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی گہری دوستی کو سراہتا ہے، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے کامیابیوں کی تو قع رکھتے ہوئے ہر قسم کی سیکیورٹی فراہم کرنے کو تیار ہے۔