اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

عوام کےمنتخب نمایندوں نے کبھی اس سوال کی طرف توجہ نہیں دی کہ جمہوری ثمرات سے محروم عوام کس سے اپنی ریلیف کی فریاد کریں

کنوینرکمیٹی شگفتہ جمانی نے اپیل کی کہ ہماری تنخواہیں بلوچستان کے ممبران صوبائی کے برابرکی جائیں۔ فوٹو : فائل

لاہور:
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قواعد و ضوابط کی ذیلی کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر اپنی تنخواہیں وفاقی سیکریٹری یا رکن بلوچستان اسمبلی کے برابر کرنے ، حلقہ اورآفس الاؤنس دینے، علاج کی سہولت نجی اسپتال میں بھی دینے، ٹریول الاؤنس ڈبل کرنیکی سفارش کردی، اجلاس شگفتہ جمانی کی زیر صدارت ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پوری ملکی پارلیمانی سیاست میں پانامہ لیکس نے ہلچل مچا دی ہے اور حکمرانوں سے لے کر دیگر منتخب اراکین سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ارب پتی افراد کی کرپشن ، آف شور کمپنیوں ، فلیٹوں اور محلات کے قصے ہیں۔

عام آدمی یہ سن کر حیران ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں کو ووٹ دے کر وہ پارلیمنٹ اس امید پر بھیجتے ہیں کہ وہ ان کی فلاح و بہبود پر قانون سازی کریں گے مگر انھیں تو اپنی تنخواہ مراعات ، پنشن، ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی پڑی ہوئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ 70 ہزار ہے جب کہ وفاقی سیکریٹریز 4 لاکھ کے قریب تنخواہ لیتے ہیں، سیکریٹریز، میجرجنرل اورلیفٹیننٹ جنرل کی تنخواہیں پارلیمنٹیرینز سے کہیں زیادہ ہیں، سب سے زیادہ تنقید پارلیمنٹیرینز پر اور سب سے کم تنخواہ بھی انھی کی ہیں، کنوینرکمیٹی شگفتہ جمانی نے اپیل کی کہ ہماری تنخواہیں بلوچستان کے ممبران صوبائی کے برابرکی جائیں۔


سالانہ ایئرٹکٹ بیس کے بجائے تیس کیے جائیں، اگر پارلیمنٹیرینز دو یا زیادہ مرتبہ منتخب ہوئے ہوں تو پھر مزید بیس فیصد اضافے کے ساتھ پانچ سال تک پینشن ملنی چاہیے۔ تاہم وقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمایندوں نے کبھی اس سوال کی طرف توجہ نہیں دی کہ جمہوری ثمرات سے محروم عوام کس سے اپنی ریلیف کی فریاد کریں، وہ تو سستا علاج، تعلیم و صحت ، ٹرانسپورٹ ، روزگار اور رہائش کی عوامی سہولت چاہتے ہیں، وہ 7 کروڑ ہم وطن جو خط افلاس سے نیچے درد انگیز زندگی گزارتے ہیں ان کے لیے بھی کچھ مطالبات اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کر لیتے۔ بلاشبہ پارلیمنٹیرینز کو ان کے استحقاق کے مطابق مراعات ضرور ملنی چاہئیں مگر اس شرط پر کہ عوام ان سے یہ گلہ نہ کریں کہ۔۔۔

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز ِ چمن کچھ تو ادھر بھی
Load Next Story