وزارت خزانہ کی ایف سی کو4ارب روپے دینے سے معذرت
ایف سی کے پاس اسلحہ نہ ہونے کے برابر ہے، معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میںلانے کا فیصلہ
ایف سی کے پاس اسلحہ نہ ہونے کے برابر ہے، معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ فوٹو: فائل
لاہور:
وزارت خزانہ نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میںفوج کا قبائلی علاقوں میں بھرپورساتھ دینے والی فرنٹیئرکانسٹیبلری(ایف سی)کواسلحہ اورجدیدآلات کی خریداری کیلیے4ارب روپے دینے سے معذرت کرلی ہے جبکہ وزارت داخلہ نے معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کافیصلہ کیاہے۔
وزارت داخلہ کے ذمے دارذرائع کے مطابق کمانڈنٹ فرنٹیئرکانسٹیبلری نے وزارت داخلہ کو بھجوائی جانیوالی رپورٹ میں دہشت گردوں سے نبردآزماہونے کیلیے اسلحہ اورجدید آلات کی خریداری کیلیے فنڈزکی فوری فراہمی کامطالبہ کیاتھااور وزارت کواگاہ کیاتھاکہ ایف سی کے پاس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلیے اسلحہ نہ ہونے کے برابرہے اور25پلاٹونزکے پاس اسلحہ اورایمونیشن تک نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 26 ہزار 172 اہلکاروں پر مشتمل ایف سی فورس کے پاس صرف536بلٹ پروف جیکٹس ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈکاوجودہی نہیں ہے۔
وزارت خزانہ نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میںفوج کا قبائلی علاقوں میں بھرپورساتھ دینے والی فرنٹیئرکانسٹیبلری(ایف سی)کواسلحہ اورجدیدآلات کی خریداری کیلیے4ارب روپے دینے سے معذرت کرلی ہے جبکہ وزارت داخلہ نے معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کافیصلہ کیاہے۔
وزارت داخلہ کے ذمے دارذرائع کے مطابق کمانڈنٹ فرنٹیئرکانسٹیبلری نے وزارت داخلہ کو بھجوائی جانیوالی رپورٹ میں دہشت گردوں سے نبردآزماہونے کیلیے اسلحہ اورجدید آلات کی خریداری کیلیے فنڈزکی فوری فراہمی کامطالبہ کیاتھااور وزارت کواگاہ کیاتھاکہ ایف سی کے پاس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلیے اسلحہ نہ ہونے کے برابرہے اور25پلاٹونزکے پاس اسلحہ اورایمونیشن تک نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 26 ہزار 172 اہلکاروں پر مشتمل ایف سی فورس کے پاس صرف536بلٹ پروف جیکٹس ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈکاوجودہی نہیں ہے۔