اپوزیشن کی اہم جمہوری پیش قدمی
کرپشن سےپاک سیاسی ومعاشی نظام کی نئی بنیادرکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کسی نتیجہ اور مفید انجام تک پہنچے
اپوزیشن ٹی او آرز کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہوئی ہے تاکہ اس مسئلے کا شفاف حل کم سے کم مدت میں نکالا جائے۔ فوٹو: آئی این پی/فائل
اپوزیشن نے سینیٹ و قومی اسمبلی کا بائیکاٹ ختم کرنے اور پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کی تجویز کردہ پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کا اعلان کیا اور گزشتہ روز پانامہ لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں مذاکرات بھی کامیاب ہو گئے۔ متفقہ ٹی او آرز کے لیے بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے 6، 6 ارکان شامل ہوں گے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ اسمبلی کی اجازت کے بعد کمیٹی اپنا کام شروع کر دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجاویز مرتب کرنے کے لیے کمیٹی کو دو ہفتے کا وقت دیا جائے گا جو ٹی او آرز طے کر کے ایوان میں پیش کرے گی۔ یہ علامتیں ہیں کہ ملک جمہوری راہ پر چل پڑا ہے اور جو کشمکش یا کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے وہ جمہوریت کے مزید استحکام کی علامت ہے، سسٹم چلے گا اگر داخلی طور پر اہل اقتدار اور حزب اختلاف احتسابی عمل پر ایک غیر مشروط ناقابل تقسیم ایجنڈا پر متفق ہوجائیں۔ اس لیے موجودہ منظر نامہ ہلچل کے باوجود جمہوری پیش قدمی ہے۔
پانامہ لیکس پر پیدا ہونے والے اعصاب شکن بحران کے تناظر میں وزیراعظم کی تقریر پر غور وخوض کے لیے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کا جو اجلاس ہوا وہ نہ صرف سیاسی بلوغت نظری کا مظہر تھا بلکہ جمہوری عمل اور نظام کی بقا کے لیے افہام وتفہیم سے سیاسی مسئلہ کا حل تلاش کرنے اور کرپشن کے خلاف ایک طے شدہ قانونی پوزیشن اختیار کرنے کی اصولی کوشش ہے جب کہ صحت مند سیاسی اسٹرٹیجی بھی یہی ہونی چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پانامہ لیکس کے مضمرات کو ملکی سلامتی، شفاف حکمرانی اور جمہوری روایات کے استحکام سے مشروط کریں ۔
بعض سیاسی حلقوں اور مبصرین نے اپوزیشن کے پارلیمنٹ کے اجلاس کے بائیکاٹ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منطقی قرار دیا ہے تاہم زمینی حقائق اور پیداشدہ صورتحال میں اپوزیشن کی حکمت عملی مناسب تھی کہ کہیں جارحانہ سیاسی پیش رفت کے تسلسل کے باعث سیاسی درجہ حرارت پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جائے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے صائب فیصلہ کیا اور ان کی باہمی مشاورت اور پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت اس امر کا پیغام تھا کہ پانامہ لیکس پر اس کی حکومت سے اصولی جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے عدالتی کمیشن کے قیام تک لے جانا اس کا اصل مشن ہونا چاہیے۔
پانامہ لیکس کا معاملہ براہ راست ملکی سیاست پر فرد جرم کی صورت نازل ہوا ہے ۔اس نے بدعنوانی ، ملکی دولت کے فرار ، بیرون ملک اثاثوں اور طاقتور افراد اور خاندانوں کے مذموم مالیاتی طریقہ واردات کا پول کھولا ہے، اس لیے احتساب کی لہر نے ملکی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو عوامی امنگوں اور ان کی اس خواہش کی ترجمان اور آئینہ دار ہے کہ کرپشن کا جنازہ اب اس مملکت خداداد سے اٹھ جانا چاہیے، ملک کی بہت بدنامی ہوچکی، کرپشن سے پاک سیاسی و معاشی نظام کی نئی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کسی نتیجہ اور مفید انجام تک پہنچے، سیاست جارحیت برائے جارحیت کا نام نہیں۔کسی کو پانامہ لیکس فال آؤٹ کا مایوس کن منظر نامہ پیش کرنے کی زحمت نہیں کرنی چاہیے، اپوزیشن کا اجلاس ایک صحت مند سیاسی اقدام ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف کے قومی اسمبلی میں پانامہ لیکس پر پالیسی بیان اور اپوزیشن کی آیندہ کی حکمت عملی مرتب کی گئی۔
اگرچہ ایم کیو ایم نے متحدہ اپوزیشن سے علیحدگی اختیار کر لی تاہم اسے بھی اپوزیشن نے اس کا جمہوری حق تسلیم کیا، جمہوریت اختلاف رائے سے ہی عبارت ہے، اسی پس منظر میں اپوزیشن نے وزیراعظم کے لیے 12 صفحات پر مشتمل نیا سوالنامہ تیار کیا ہے جس میں 70 سوالات شامل ہیں، اب وزیراعظم سے 7 کے بجائے 70 سوالات پوچھے جائیں گے۔ خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی ہو، متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم سے 70 سوالات سمیت ان کی تقریر سے اٹھنے والے متعدد سوالات پوچھنے کا عندیہ دیا ۔
اپوزیشن ٹی او آرز کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہوئی ہے تاکہ اس مسئلے کا شفاف حل کم سے کم مدت میں نکالا جائے۔ خورشید شاہ کا استدلال صائب ہے کہ تاخیری حربے سے اپوزیشن، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پوری سنجیدگی دکھائے ۔چنانچہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی ٹیم سے التجا ہے کہ وہ پانامہ لیکس کو سانپ سیڑھی کا کھیل نہ بنائیں،کسی دانا کا قول ہے کہ جمہوری نظام میں اپوزیشن آپکی دوست ہے، وہ آگ بھی بن سکتی ہے جس سے تلوار ڈھالی جاتی ہے، یہ برف بھی ہے جو تپش کو سرد کردیتی ہے، اس لیے اس سے مت بھاگیں ۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ اسمبلی کی اجازت کے بعد کمیٹی اپنا کام شروع کر دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجاویز مرتب کرنے کے لیے کمیٹی کو دو ہفتے کا وقت دیا جائے گا جو ٹی او آرز طے کر کے ایوان میں پیش کرے گی۔ یہ علامتیں ہیں کہ ملک جمہوری راہ پر چل پڑا ہے اور جو کشمکش یا کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے وہ جمہوریت کے مزید استحکام کی علامت ہے، سسٹم چلے گا اگر داخلی طور پر اہل اقتدار اور حزب اختلاف احتسابی عمل پر ایک غیر مشروط ناقابل تقسیم ایجنڈا پر متفق ہوجائیں۔ اس لیے موجودہ منظر نامہ ہلچل کے باوجود جمہوری پیش قدمی ہے۔
پانامہ لیکس پر پیدا ہونے والے اعصاب شکن بحران کے تناظر میں وزیراعظم کی تقریر پر غور وخوض کے لیے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کا جو اجلاس ہوا وہ نہ صرف سیاسی بلوغت نظری کا مظہر تھا بلکہ جمہوری عمل اور نظام کی بقا کے لیے افہام وتفہیم سے سیاسی مسئلہ کا حل تلاش کرنے اور کرپشن کے خلاف ایک طے شدہ قانونی پوزیشن اختیار کرنے کی اصولی کوشش ہے جب کہ صحت مند سیاسی اسٹرٹیجی بھی یہی ہونی چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پانامہ لیکس کے مضمرات کو ملکی سلامتی، شفاف حکمرانی اور جمہوری روایات کے استحکام سے مشروط کریں ۔
بعض سیاسی حلقوں اور مبصرین نے اپوزیشن کے پارلیمنٹ کے اجلاس کے بائیکاٹ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منطقی قرار دیا ہے تاہم زمینی حقائق اور پیداشدہ صورتحال میں اپوزیشن کی حکمت عملی مناسب تھی کہ کہیں جارحانہ سیاسی پیش رفت کے تسلسل کے باعث سیاسی درجہ حرارت پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جائے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے صائب فیصلہ کیا اور ان کی باہمی مشاورت اور پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت اس امر کا پیغام تھا کہ پانامہ لیکس پر اس کی حکومت سے اصولی جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے عدالتی کمیشن کے قیام تک لے جانا اس کا اصل مشن ہونا چاہیے۔
پانامہ لیکس کا معاملہ براہ راست ملکی سیاست پر فرد جرم کی صورت نازل ہوا ہے ۔اس نے بدعنوانی ، ملکی دولت کے فرار ، بیرون ملک اثاثوں اور طاقتور افراد اور خاندانوں کے مذموم مالیاتی طریقہ واردات کا پول کھولا ہے، اس لیے احتساب کی لہر نے ملکی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو عوامی امنگوں اور ان کی اس خواہش کی ترجمان اور آئینہ دار ہے کہ کرپشن کا جنازہ اب اس مملکت خداداد سے اٹھ جانا چاہیے، ملک کی بہت بدنامی ہوچکی، کرپشن سے پاک سیاسی و معاشی نظام کی نئی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کسی نتیجہ اور مفید انجام تک پہنچے، سیاست جارحیت برائے جارحیت کا نام نہیں۔کسی کو پانامہ لیکس فال آؤٹ کا مایوس کن منظر نامہ پیش کرنے کی زحمت نہیں کرنی چاہیے، اپوزیشن کا اجلاس ایک صحت مند سیاسی اقدام ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف کے قومی اسمبلی میں پانامہ لیکس پر پالیسی بیان اور اپوزیشن کی آیندہ کی حکمت عملی مرتب کی گئی۔
اگرچہ ایم کیو ایم نے متحدہ اپوزیشن سے علیحدگی اختیار کر لی تاہم اسے بھی اپوزیشن نے اس کا جمہوری حق تسلیم کیا، جمہوریت اختلاف رائے سے ہی عبارت ہے، اسی پس منظر میں اپوزیشن نے وزیراعظم کے لیے 12 صفحات پر مشتمل نیا سوالنامہ تیار کیا ہے جس میں 70 سوالات شامل ہیں، اب وزیراعظم سے 7 کے بجائے 70 سوالات پوچھے جائیں گے۔ خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی ہو، متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم سے 70 سوالات سمیت ان کی تقریر سے اٹھنے والے متعدد سوالات پوچھنے کا عندیہ دیا ۔
اپوزیشن ٹی او آرز کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہوئی ہے تاکہ اس مسئلے کا شفاف حل کم سے کم مدت میں نکالا جائے۔ خورشید شاہ کا استدلال صائب ہے کہ تاخیری حربے سے اپوزیشن، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پوری سنجیدگی دکھائے ۔چنانچہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی ٹیم سے التجا ہے کہ وہ پانامہ لیکس کو سانپ سیڑھی کا کھیل نہ بنائیں،کسی دانا کا قول ہے کہ جمہوری نظام میں اپوزیشن آپکی دوست ہے، وہ آگ بھی بن سکتی ہے جس سے تلوار ڈھالی جاتی ہے، یہ برف بھی ہے جو تپش کو سرد کردیتی ہے، اس لیے اس سے مت بھاگیں ۔