پاکستانی نوجوانوں میں دماغی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں طبی ماہرین
سرد علاقوں میں رہنے والے ملٹی پل سلیروسز سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، دماغ میں ورم آجاتا ہے، ڈاکٹر واسع
کراچی: ڈاکٹر واسع ، ڈاکٹر نائلہ اور دماغی مرض میں مبتلا مریضہ ایکسپریس فورم میں شریک ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
پاکستان میں دماغی امراض ہولناک صورت اختیارکرتے جا رہے ہیں، ملک کی 10 فیصد آبادی مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہے، 2 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف40 مراکز میں نیورولوجسٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں Mailtipul Sclerosis دماغی امراض تیزی سے جنم لے رہے ہیں، 15 سے 35 سال کے لوگ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین نے ایم ایس ڈیزیز کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم میں کیا، اس مرض کا عالمی دن 25 مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائیگا۔ایکسپریس فورم میں آغاخان یونیورسٹی کے پروفیسر آف نیورولوجسٹ اورڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز کی پروفیسر نائلہ نعیم شہباز نے شرکت کی اور ملٹی پل سلیروسز ڈیزیز کے حوالے سے گفتگو کی۔ ڈاکٹر واسع نے بتایا کہ اس مرض کو دماغ کی بیماری کہاجاتا ہے جس میں دماغ پر ورم آجاتا ہے ، ورم کے نتیجے میں آنکھ کی بینائی ضائع ہوجاتی ہے،ہاتھ ،پاؤں سُن ہوجاتے ہیں، فالج کا اثر بھی ہوتا ہے۔
اس مرض میں متاثرہ افراد توازن برقرار نہیں رکھ سکتے جس کی وجہ سے چلنا پھرنا اور معمولات زندگی شدید متاثر ہو کر رہ جاتی ہے اورمعذوری اس مرض کا انجام بن جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ یہ مرض نوجوانوں میں زیادہ پایاجاتا ہے بالخصوص سرد علاقوں میں رہنے والے اس مرض سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں یہ مرض 20سال مسلسل رپورٹ ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس مرض کی تشخیص نہیںکی جاتی ۔ ہمارے ملک میں اس مرض کے مریضوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے۔ملٹی پل سلیروسز ڈیزیز میں مبتلا مریضوں کا کامیاب علاج موجود ہے بشرطیکہ مریض بروقت مستند نیورولوجسٹ سے رجوع کرے۔پروفیسر نائلہ نعیم نے بتایا کہ مہنگے علاج کی وجہ سے معذوری میں اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت اس بیماری میں مبتلا صرف 10 فیصد مریضوںکو علاج کی سہولتیں میسر ہیں۔ یہ مرض موروثی نہیں کسی بھی وجہ سے یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں 1998 سے نیشنل ہیلتھ سروے نہیں کیا جاسکاجبکہ گزشتہ 18سال سے ملک میں دماغی امراض سمیت مختلف بیماریوں میںکئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیماریوں کے بوجھ میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے بلند فشار خون، ذیابیطیس، فالج، گٹکا، مین پوری سے جنم لینی والی بیماریوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مریضوںکے اہلخانہ معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ایکسپریس فورم میں ملٹی پل سلیروسز کی شکار ایک مریضہ میمونہ نے بھی شرکت کی اور بتایا کہ وہ اچھا خاصا پڑھ رہی تھی کہ اچانک بینائی کمزور ہونا شروع ہوئی اور پھر وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو گئی، میرا تقریباً پانچ چھ سال سے علاج چل رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین نے ایم ایس ڈیزیز کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم میں کیا، اس مرض کا عالمی دن 25 مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائیگا۔ایکسپریس فورم میں آغاخان یونیورسٹی کے پروفیسر آف نیورولوجسٹ اورڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز کی پروفیسر نائلہ نعیم شہباز نے شرکت کی اور ملٹی پل سلیروسز ڈیزیز کے حوالے سے گفتگو کی۔ ڈاکٹر واسع نے بتایا کہ اس مرض کو دماغ کی بیماری کہاجاتا ہے جس میں دماغ پر ورم آجاتا ہے ، ورم کے نتیجے میں آنکھ کی بینائی ضائع ہوجاتی ہے،ہاتھ ،پاؤں سُن ہوجاتے ہیں، فالج کا اثر بھی ہوتا ہے۔
اس مرض میں متاثرہ افراد توازن برقرار نہیں رکھ سکتے جس کی وجہ سے چلنا پھرنا اور معمولات زندگی شدید متاثر ہو کر رہ جاتی ہے اورمعذوری اس مرض کا انجام بن جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ یہ مرض نوجوانوں میں زیادہ پایاجاتا ہے بالخصوص سرد علاقوں میں رہنے والے اس مرض سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں یہ مرض 20سال مسلسل رپورٹ ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس مرض کی تشخیص نہیںکی جاتی ۔ ہمارے ملک میں اس مرض کے مریضوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے۔ملٹی پل سلیروسز ڈیزیز میں مبتلا مریضوں کا کامیاب علاج موجود ہے بشرطیکہ مریض بروقت مستند نیورولوجسٹ سے رجوع کرے۔پروفیسر نائلہ نعیم نے بتایا کہ مہنگے علاج کی وجہ سے معذوری میں اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت اس بیماری میں مبتلا صرف 10 فیصد مریضوںکو علاج کی سہولتیں میسر ہیں۔ یہ مرض موروثی نہیں کسی بھی وجہ سے یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں 1998 سے نیشنل ہیلتھ سروے نہیں کیا جاسکاجبکہ گزشتہ 18سال سے ملک میں دماغی امراض سمیت مختلف بیماریوں میںکئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیماریوں کے بوجھ میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے بلند فشار خون، ذیابیطیس، فالج، گٹکا، مین پوری سے جنم لینی والی بیماریوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مریضوںکے اہلخانہ معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ایکسپریس فورم میں ملٹی پل سلیروسز کی شکار ایک مریضہ میمونہ نے بھی شرکت کی اور بتایا کہ وہ اچھا خاصا پڑھ رہی تھی کہ اچانک بینائی کمزور ہونا شروع ہوئی اور پھر وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو گئی، میرا تقریباً پانچ چھ سال سے علاج چل رہا ہے۔