سندھ میئر ڈپٹی میئر کے انتخابی شیڈول کا اعلان
الیکشن کمیشن نے سندھ بلدیاتی انتخابات میں مئیر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔
الیکشن کمیشن نے سندھ بلدیاتی انتخابات میں مئیر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔ فوٹو؛ فائل
الیکشن کمیشن نے سندھ بلدیاتی انتخابات میں مئیر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا جس کے تحت پولنگ8جون کو ہو گی۔ پیر کو جاری شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی23اور 24 مئی کو جمع کروائے جا سکیں گے، کاغذات کی جانچ پڑتال25 اور26 مئی کو ہو گی، امیدوار ریٹرننگ افسر کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں28مئی کو دائر کر سکیں گے، اپیلوں پر فیصلے 30 مئی کو ہوں گے، امیدواروں کی حتمی فہرست اور انتخابی نشانات یکم جون کو جاری کیے جائیں گے۔
توقع یہی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار انتخابی شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی یا توسیع ممکن نہیں ہو گی، الیکشن کمیشن کے اعلامیہ میں متعلقہ کونسلوں، کمیٹیوں اور کارپوریشنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کی تیاری کریں۔ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور متعلقہ حکام الیکشن کمیشن کے اعلان اور شیڈول پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائیں، انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
شفاف پولنگ بلدیاتی الیکشن کی اولین جمہوری ضرورت ہے، فرانس کے عظیم دانشور تاکویل کا کہنا ہے کہ مقامی خود اختیاری حکومت جمہوریت کی کلید ہے جب کہ کراچی بلدیاتی الیکشن سے محرومی کی بڑی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ شہر کے مسائل بے پناہ ہیں، ایک طرف کراچی کی تاجر برادری بلدیاتی ایمرجنسی کی ضرورت پر زور دے رہی ہے، دوسری جانب ملک کے اس اقتصادی شہ رگ کو امن، ترقی، استحکام اور بھائی چارے کے علاوہ وسیع تر سیاسی رواداری اور اسپورٹس مین شپ کی ضرورت ہے۔
اس عمل میں سندھ حکومت، پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اس امر کو ارباب اختیار مثالی بنائیں کہ کوئی سرکاری اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے۔
کسی ترقیاتی منصوبہ کی تشہیر یا ریاستی وسائل کے استعمال کا کوئی امکان نہ رہے جب کہ افسران کے تبادلے اور تعیناتی کے اقدامات سے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر انتخابی نتائج کے حتمی اعلان تک گریز کیا جائے۔ شہر قائد میں میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات غیر معمولی اور انتہائی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں ہونگے، ایک اعصاب شکن مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے مگر سب کچھ شہر قائد کے مفاد سے منسلک ہونا چاہیے۔ ہوشمندی کا تقاضہ ہے کہ سندھ حکومت انتخابی عمل کی شفافیت کو ہر قیمت پر یقینی بنائے۔
توقع یہی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار انتخابی شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی یا توسیع ممکن نہیں ہو گی، الیکشن کمیشن کے اعلامیہ میں متعلقہ کونسلوں، کمیٹیوں اور کارپوریشنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کی تیاری کریں۔ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور متعلقہ حکام الیکشن کمیشن کے اعلان اور شیڈول پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائیں، انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
شفاف پولنگ بلدیاتی الیکشن کی اولین جمہوری ضرورت ہے، فرانس کے عظیم دانشور تاکویل کا کہنا ہے کہ مقامی خود اختیاری حکومت جمہوریت کی کلید ہے جب کہ کراچی بلدیاتی الیکشن سے محرومی کی بڑی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ شہر کے مسائل بے پناہ ہیں، ایک طرف کراچی کی تاجر برادری بلدیاتی ایمرجنسی کی ضرورت پر زور دے رہی ہے، دوسری جانب ملک کے اس اقتصادی شہ رگ کو امن، ترقی، استحکام اور بھائی چارے کے علاوہ وسیع تر سیاسی رواداری اور اسپورٹس مین شپ کی ضرورت ہے۔
اس عمل میں سندھ حکومت، پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اس امر کو ارباب اختیار مثالی بنائیں کہ کوئی سرکاری اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے۔
کسی ترقیاتی منصوبہ کی تشہیر یا ریاستی وسائل کے استعمال کا کوئی امکان نہ رہے جب کہ افسران کے تبادلے اور تعیناتی کے اقدامات سے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر انتخابی نتائج کے حتمی اعلان تک گریز کیا جائے۔ شہر قائد میں میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات غیر معمولی اور انتہائی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں ہونگے، ایک اعصاب شکن مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے مگر سب کچھ شہر قائد کے مفاد سے منسلک ہونا چاہیے۔ ہوشمندی کا تقاضہ ہے کہ سندھ حکومت انتخابی عمل کی شفافیت کو ہر قیمت پر یقینی بنائے۔