کرہ ارض پر شدید گرمی کی لہر
پاکستان آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، کئی علاقوں میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
پاکستان آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، کئی علاقوں میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
پاکستان آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، کئی علاقوں میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ محنت کے عالمی ادارے کے قانون کے مطابق پچاس ڈگری سینٹی گریڈ پر باہر کھلے میں کام ممنوع ہے۔ لیکن پاکستان میں اس عالمی قانون کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ یہاں زیادہ تر آجروں کو اس قانون کا شاید علم ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ محنت کش چلچلاتی دھوپ میں بھی کام کر تے نظر آتے ہیں۔
خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال گرم ترین ثابت ہو گا۔ امریکا سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق 1880 کے بعد اتنی شدید گرمی کبھی نہیں پڑی جب کہ امریکا میں اپریل کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین مہینہ تھا۔ شمالی اور جنوبی امریکا اور جنوبی یورپ کے بعض علاقے جب کہ وسطی افریقہ، مشرقی آسٹریلیا کے علاوہ جنوبی الاسکا بھی گرمی کی لہر کی زد میں رہا جو کہ ایک برفانی ریاست ہے۔ دریں اثنا ورلڈ بینک کے ایک خصوصی نشریے میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری گرمی کی اس شدید لہر کے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نشریے کے مطابق شدید گرمی کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آئیں گے، مختلف علاقوں میں خشک سالی پھیلے گی جس کے نتیجے میں دنیا کے 1.3 ارب لوگ متاثر ہوں گے۔
یہ سارے مظاہر در حقیقت گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہیں جس سے گلیشیئر اور آئس برگ پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی جزیروں کے علاوہ بہت سے ممالک کے ساحلی علاقوں کے غرقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس ساری تباہی میں جہاں ترقی یافتہ صنعتی ممالک کی طرف سے زہریلی گیسوں کے ضرورت سے زیادہ اخراج کا دخل ہے وہاں ہمارے جیسے غریب ممالک میں درختوں اور جنگلات کی بے دریغ صفائی بھی گلوبل وارمنگ کی ذمے دار ہے۔
لاہور جو ایک زمانے میں باغوں کا شہر کہلاتا تھا اب سڑکوں کی چوڑائی کے نام پر سیکڑوں سال پرانے درختوں کو بھی بلا دریغ کاٹا جا رہا ہے۔ کراچی کی صورت حال سب کے سامنے ہے' سمندری پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے' ایسی صورت حال میں جہاں کرہ ارض کے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں' وہاں پاکستان کو اپنی حد تک ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لیے جدوجہد تیز کرنی چاہیے۔
خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال گرم ترین ثابت ہو گا۔ امریکا سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق 1880 کے بعد اتنی شدید گرمی کبھی نہیں پڑی جب کہ امریکا میں اپریل کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین مہینہ تھا۔ شمالی اور جنوبی امریکا اور جنوبی یورپ کے بعض علاقے جب کہ وسطی افریقہ، مشرقی آسٹریلیا کے علاوہ جنوبی الاسکا بھی گرمی کی لہر کی زد میں رہا جو کہ ایک برفانی ریاست ہے۔ دریں اثنا ورلڈ بینک کے ایک خصوصی نشریے میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری گرمی کی اس شدید لہر کے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نشریے کے مطابق شدید گرمی کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آئیں گے، مختلف علاقوں میں خشک سالی پھیلے گی جس کے نتیجے میں دنیا کے 1.3 ارب لوگ متاثر ہوں گے۔
یہ سارے مظاہر در حقیقت گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہیں جس سے گلیشیئر اور آئس برگ پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی جزیروں کے علاوہ بہت سے ممالک کے ساحلی علاقوں کے غرقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس ساری تباہی میں جہاں ترقی یافتہ صنعتی ممالک کی طرف سے زہریلی گیسوں کے ضرورت سے زیادہ اخراج کا دخل ہے وہاں ہمارے جیسے غریب ممالک میں درختوں اور جنگلات کی بے دریغ صفائی بھی گلوبل وارمنگ کی ذمے دار ہے۔
لاہور جو ایک زمانے میں باغوں کا شہر کہلاتا تھا اب سڑکوں کی چوڑائی کے نام پر سیکڑوں سال پرانے درختوں کو بھی بلا دریغ کاٹا جا رہا ہے۔ کراچی کی صورت حال سب کے سامنے ہے' سمندری پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے' ایسی صورت حال میں جہاں کرہ ارض کے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں' وہاں پاکستان کو اپنی حد تک ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لیے جدوجہد تیز کرنی چاہیے۔