دہشت گردی جارحانہ اقدامات کی ضرورت
ملک میں دہشتگردوں کی طرف سے جارحانہ جبکہ قانون نافذکرنے والے اداروں کی طرف سے مدافعانہ جوابی کارروائی کا تاثر ملتا ہے۔
صدر زرداری نے کراچی دھماکے کی وزیراعلیٰ سندھ سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ فوٹو : پی پی آئی
کراچی کے علاقے گلشن اقبال ابو الحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن کی امام بارگاہ کے قریب موٹر سائیکل میں نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے 2 افراد جاں بحق جب کہ رینجرز کے2اہلکاروں ، ماں بیٹی اور کم عمر بہن بھائی سمیت 18 زخمی ہو گئے جن میں سے4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔
صد ر آصف علی زرداری نے امام بارگاہ کے قریب بم دھماکے کی وزیر اعلیٰ سندھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے، صدر نے وزیر اعلیٰ کو حکم دیا ہے کہ کراچی میں دشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن کو مزید سخت اور بلا امتیاز تیزکیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صدر کے حکم کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت آپریشن کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہے ۔منی پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ واردات کا ایک نیا اور تشویش ناک پہلو جس پر سیکیورٹی امور کی نگرانی کرنے والے حکام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ جس دن خودکش حملہ یا بم دھماکے کی واردات کی پلاننگ ہوتی ہے اس روز 2 کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ یا قتل وغارت کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ عموماً رک جاتا ہے ، مقصد یہی ہوتا ہوگا کہ مین خبر کے طور پر میڈیا میں صرف یہی سانحہ غالب رہے۔
چنانچہ کائونٹر ٹیررازم کی ساری کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو منی پاکستان سمیت پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں دہشت گردوں کی طرف سے جارحانہ جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے نسبتاً مدافعانہ جوابی کارروائی کا تاثر ملتا ہے ،وجہ یہ ہے کہ مقابلہ میں کبھی بھی دہشتگردوں کے دھڑ یا ان کی خون میں لت پت نعشوں کا منظر نظر نہیں آتا۔یا جتنے ٹارگٹ کلرز جیل ، لاک اپ یا ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں ، انھیں کب عبرتناک سزا پاتے لوگ دیکھیں گے ،کچھ پتا نہیں۔اس لیے کہ آج تک منی پاکستان کے مقتل میں سے گرفتار100-50انسانوں کے ٹارگٹ کلرز کو بھی کسی نے سزا پاتے نہیں دیکھا ۔ظاہر سی بات ہے کہ اس سے دہشت زدہ عوام کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ،عدالتیں کمزورچالان و استغاثہ کی نشاندہی کرتی ہیں ۔
اس لیے جمہوری نظام کو لاحق خطرات سے حکمرانوں کو خود بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ کراچی میں دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے متبادل آپشنز کا جو دبائویا شور اٹھ رہا ہے وہ حکومت کو خبردار کرنے کے لیے کافی ہے، یوںبھی ممکنہ نگراں سیٹ اپ کے قیام ، تاجر برادری اور بعض سیاسی جماعتوں کے مطالبہ پر کراچی میں گورنر راج یا فوجی آپریشن کے نا خوشگوار یا اطمینان بخش نتائج سے صورتحال کسی اور سمت بھی جا سکتی ہے۔ وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے امام بارگاہ کے باہردھماکا ملک دشمن عناصر کی کارروائی ہے۔
تاہم وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ ملک دشمن عناصر کون ہیں ، شہر کی کن کمیں گاہوں میںچھپے ہوئے ہیں، وہ واردات کرتے ہوئے وقوعہ پر پکڑے یا مارے کیوں نہیں جاتے ؟ہمیشہ بیگناہ شہری کیوں مرتے ہیں۔اسٹیک ہولڈرزبے بس کیوں ہیں، جب کہ محرم الحرام میں شہر کی سیکیورٹی کے حوالے سے عوام کو یقین دلایا گیا تھا کہ امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے حوالہ سے خصوصی سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا جب کہ عباس ٹائون کا سانحہ مصروف شاہراہ پر ہوا اور شہر کے تمام حساس علاقوں میں فوج،پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار اور فورسز کی اضافی نفری بھی متعین کی گئی تھی تو کیا وجہ ہے کہ دہشت گرد بظاہر اتنی بڑی نفری اور موثرسیکیورٹی کے انتظامات کے باوجود واردات کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل اور غیر قانونی سمیں خطرناک ہتھیار بن چکے ہیں جب کہ اصل مسئلہ دہشت گردوں کا قانون نافذ کرنے والوں کی گرفت سے دور ہونے کا معمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس بات پر مجبور کرنا ہی مسئلہ کا واحد حل ہے کہ موٹرسائیکل چلانے اور موبائل فون کی سروس یا سمیں بند رکھنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یوں تو شہر میں کئی دیگر وسائل و ذرایع بھی پابندی کی زد میں آسکتے ہیں کیونکہ دہشت گرد صرف ان دو وسیلوں کے محتاج نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا حکمراں دہشت گردی کے ملک گیر نیٹ ورک اور منی پاکستان کی خصوصی حساس نوعیت اور اس سے پید اہونے والے اقتصادی، سیاسی،سماجی اور دیگر انسانی مسائل کی ہولناکی کو پیش نظر رکھیں ۔ادھر وفاقی وزیر مذہبی امور خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں ایسا سخت اور بلاتفریق آپریشن ہونا چاہیے جو صدیوں یاد رہے، لیکن آپریشن سے قبل پی پی پی، متحدہ،اے این پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ شکایت کی نوبت نہ آئے کہ ہمارے لوگ یا کارکن مارے جارہے ہیں۔سندھ کے وزیر قانون محمد ایاز سومرو نے کہا ہے کہ سندھ میں قیام امن اولین ترجیح ہے،اس سلسلے میںسخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی جی سندھ فیاض لغاری کا اصرار ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا،دھماکا سیکیورٹی اداروں کی ناکامی نہیں یہ سڑک پر ہوا ۔ایڈیشنل آئی جی پولیس سندھ نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کو یوم عاشور تک موٹرسائیکل پر پابندی کی سفارش کی ہے، مشیر داخلہ سندھ شرف الدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کا پتہ چل گیا ہے۔ موٹر سائیکل النور ٹائون کے رہائشی کی ہے جب کہ مالک کا کہنا ہے کہ میری موٹر سائیکل تو گھر پر کھڑی ہے۔ایک عجیب سی صورتحال بنی ہوئی ہے جس میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ آیندہ الیکشن میں کامیابی کا سفر دیگر اقدامات کے علاوہ منی پاکستان اور ملکی صورتحال میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم سے مشروط ہے۔ امن کسی اور فورس یا سیٹ اپ نے قائم کیا تو کریڈٹ بھی اسی کے نام جائے گا۔ اس لیے موجودہ صورتحال دہشت گردوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی ہے۔
صد ر آصف علی زرداری نے امام بارگاہ کے قریب بم دھماکے کی وزیر اعلیٰ سندھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے، صدر نے وزیر اعلیٰ کو حکم دیا ہے کہ کراچی میں دشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن کو مزید سخت اور بلا امتیاز تیزکیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صدر کے حکم کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت آپریشن کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہے ۔منی پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ واردات کا ایک نیا اور تشویش ناک پہلو جس پر سیکیورٹی امور کی نگرانی کرنے والے حکام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ جس دن خودکش حملہ یا بم دھماکے کی واردات کی پلاننگ ہوتی ہے اس روز 2 کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ یا قتل وغارت کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ عموماً رک جاتا ہے ، مقصد یہی ہوتا ہوگا کہ مین خبر کے طور پر میڈیا میں صرف یہی سانحہ غالب رہے۔
چنانچہ کائونٹر ٹیررازم کی ساری کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو منی پاکستان سمیت پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں دہشت گردوں کی طرف سے جارحانہ جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے نسبتاً مدافعانہ جوابی کارروائی کا تاثر ملتا ہے ،وجہ یہ ہے کہ مقابلہ میں کبھی بھی دہشتگردوں کے دھڑ یا ان کی خون میں لت پت نعشوں کا منظر نظر نہیں آتا۔یا جتنے ٹارگٹ کلرز جیل ، لاک اپ یا ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں ، انھیں کب عبرتناک سزا پاتے لوگ دیکھیں گے ،کچھ پتا نہیں۔اس لیے کہ آج تک منی پاکستان کے مقتل میں سے گرفتار100-50انسانوں کے ٹارگٹ کلرز کو بھی کسی نے سزا پاتے نہیں دیکھا ۔ظاہر سی بات ہے کہ اس سے دہشت زدہ عوام کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ،عدالتیں کمزورچالان و استغاثہ کی نشاندہی کرتی ہیں ۔
اس لیے جمہوری نظام کو لاحق خطرات سے حکمرانوں کو خود بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ کراچی میں دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے متبادل آپشنز کا جو دبائویا شور اٹھ رہا ہے وہ حکومت کو خبردار کرنے کے لیے کافی ہے، یوںبھی ممکنہ نگراں سیٹ اپ کے قیام ، تاجر برادری اور بعض سیاسی جماعتوں کے مطالبہ پر کراچی میں گورنر راج یا فوجی آپریشن کے نا خوشگوار یا اطمینان بخش نتائج سے صورتحال کسی اور سمت بھی جا سکتی ہے۔ وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے امام بارگاہ کے باہردھماکا ملک دشمن عناصر کی کارروائی ہے۔
تاہم وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ ملک دشمن عناصر کون ہیں ، شہر کی کن کمیں گاہوں میںچھپے ہوئے ہیں، وہ واردات کرتے ہوئے وقوعہ پر پکڑے یا مارے کیوں نہیں جاتے ؟ہمیشہ بیگناہ شہری کیوں مرتے ہیں۔اسٹیک ہولڈرزبے بس کیوں ہیں، جب کہ محرم الحرام میں شہر کی سیکیورٹی کے حوالے سے عوام کو یقین دلایا گیا تھا کہ امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے حوالہ سے خصوصی سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا جب کہ عباس ٹائون کا سانحہ مصروف شاہراہ پر ہوا اور شہر کے تمام حساس علاقوں میں فوج،پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار اور فورسز کی اضافی نفری بھی متعین کی گئی تھی تو کیا وجہ ہے کہ دہشت گرد بظاہر اتنی بڑی نفری اور موثرسیکیورٹی کے انتظامات کے باوجود واردات کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل اور غیر قانونی سمیں خطرناک ہتھیار بن چکے ہیں جب کہ اصل مسئلہ دہشت گردوں کا قانون نافذ کرنے والوں کی گرفت سے دور ہونے کا معمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس بات پر مجبور کرنا ہی مسئلہ کا واحد حل ہے کہ موٹرسائیکل چلانے اور موبائل فون کی سروس یا سمیں بند رکھنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یوں تو شہر میں کئی دیگر وسائل و ذرایع بھی پابندی کی زد میں آسکتے ہیں کیونکہ دہشت گرد صرف ان دو وسیلوں کے محتاج نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا حکمراں دہشت گردی کے ملک گیر نیٹ ورک اور منی پاکستان کی خصوصی حساس نوعیت اور اس سے پید اہونے والے اقتصادی، سیاسی،سماجی اور دیگر انسانی مسائل کی ہولناکی کو پیش نظر رکھیں ۔ادھر وفاقی وزیر مذہبی امور خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں ایسا سخت اور بلاتفریق آپریشن ہونا چاہیے جو صدیوں یاد رہے، لیکن آپریشن سے قبل پی پی پی، متحدہ،اے این پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ شکایت کی نوبت نہ آئے کہ ہمارے لوگ یا کارکن مارے جارہے ہیں۔سندھ کے وزیر قانون محمد ایاز سومرو نے کہا ہے کہ سندھ میں قیام امن اولین ترجیح ہے،اس سلسلے میںسخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی جی سندھ فیاض لغاری کا اصرار ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا،دھماکا سیکیورٹی اداروں کی ناکامی نہیں یہ سڑک پر ہوا ۔ایڈیشنل آئی جی پولیس سندھ نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کو یوم عاشور تک موٹرسائیکل پر پابندی کی سفارش کی ہے، مشیر داخلہ سندھ شرف الدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کا پتہ چل گیا ہے۔ موٹر سائیکل النور ٹائون کے رہائشی کی ہے جب کہ مالک کا کہنا ہے کہ میری موٹر سائیکل تو گھر پر کھڑی ہے۔ایک عجیب سی صورتحال بنی ہوئی ہے جس میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ آیندہ الیکشن میں کامیابی کا سفر دیگر اقدامات کے علاوہ منی پاکستان اور ملکی صورتحال میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم سے مشروط ہے۔ امن کسی اور فورس یا سیٹ اپ نے قائم کیا تو کریڈٹ بھی اسی کے نام جائے گا۔ اس لیے موجودہ صورتحال دہشت گردوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی ہے۔