ایمبولینس اور پشاور کی ٹریفک
یعنی تمہاری یاری نے مٹھاس تو نہیں دی البتہ کڑواہٹ اتنی دی ہے کہ شاید قیامت تک میرا حلق کڑوا ہی رہے گا
barq@email.com
پشاور میں تو ویسے تو انتظامیہ کی ''خوش انتظامی''، ٹریفک پولیس کی ''فرض شناسی'' اور عوام کا سرکاری قوانین سے ''محبت'' کے حوالے سے ٹریفک کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ٹریفک بجائے خود ایک مسئلہ ہے اور ایک ماہر ٹریفک نے کہا ہے اگر شہر سے ٹریفک پولیس اور دوسرے متعلقہ اداروں کو اٹھا کر اور اس کے ساتھ ایک ٹن وزنی پتھر باندھ کر دریا برد کیا جائے تو ٹریفک کا کوئی بھی مسئلہ باقی نہ رہے، مطلب یہ کہ اگر ''بانس'' کو بیخ و بن سے اکھاڑا جائے تو نہ بانسری رہے گی اور نہ ہی کوئی ہارن بجے گا۔
لیکن ان دنوں ٹریفک میں ایک جدید عنصر نے اس خوش انتظامی اور جذبہ خدمت بھی اگر ساتھ کر دیجیے تو ایک بڑی خوب صورت سی صورتحال پیدا کی ہوئی ہے، یہ نیا عنصر ان ایمبولینسوں اور ان کے بھونپوؤں کی دم قدم سے پیدا ہوا ہے جو نہ جانے اچانک کہاں سے اس شہر پر حملہ آور ہو گئی ہیں۔ یہ ہم سرکاری ایمبولینس گاڑیوں کی بات نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ان کو تو آج تک نہ کبھی ہم نے دیکھا ہے اور نہ دیکھنے کی ہوس ہے بلکہ صحیح معنوں میں ایک مرتبہ دیکھا ہے اور دوسری مرتبہ خدا کبھی نہ دکھائے کیوں کہ اس پر ہماری جیب کا جو کباڑ ہوا تھا وہ تو پھر بھی قابل مرمت یا قابل رفو ہو گیا لیکن جیب کے ذرا نیچے دل پر جو گزری تھی وہ آج تک ہرا ہی ہرا ہے، ایک پشتوٹپہ کے مطابق
ستا یارانے خواگہ رانہ کرل
حلق بہ مے تریخ تر زنکدنہ پورے وینہ
یعنی تمہاری یاری نے مٹھاس تو نہیں دی البتہ کڑواہٹ اتنی دی ہے کہ شاید قیامت تک میرا حلق کڑوا ہی رہے گا، مسئلہ صرف ان ایمبولینسوں کی سڑکوں پر موجودگی اور مٹر گشت بلکہ ہارن گشت کا نہیں ہے بلکہ یہ کہ بے پناہ ایمبولینس گاڑیاں جو تعداد میں اتنی زیادہ ہیں جتنے اردو لغت میں الفاظ ہو سکتے ہیں، خدمت، انسانیت، عبادت، عیادت، مدد، ہمدردی، بیدردی نہ جانے کون کون سے بھاری بھرکم الفاظ کہاں سے اتنی بڑی تعداد میں لدئے جاتے ہیں اور جو انگریزی الفاظ سے مزین ہیں وہ ایمبولینس گاڑیاں تو گویاں سڑکوں سے چپک کر رہ گئی ہیں، تو ان سب کے بارے میں ہمارا جو مخمصہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ گاڑیاں کہاں سے آتی ہیں اور کہاں جاتی ہیں صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ گاڑی آتی ہے گاڑی جاتی ہے کہاں کیوں کس لیے۔ اس کا جواب ہمیں تو آج تک نہیں ملا آپ کو مل جائے تو ہمیں بھی بتا دیجیے کوئی ہماری مانے تو ہم ان پر ایک ہی جملہ لکھوا دیں
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
ایمبولینس ہے کہ جام ہوتی ہے
سب سے بڑی رکاوٹ اس معمے کو سمجھنے میں یہ ہے کہ ان گاڑیوں پر نہ صرف ایمبولینس الٹا لکھا ہوتا ہے بلکہ ان کا سب کچھ الٹا ہوتا ہے حتیٰ کہ ہارن بھی صرف وہیں بجاتے ہیں جہاں بجانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، وہ ایک فلم میں گووندا کو ایک بدمعاش نے بہت مارا شکستہ حالت میں فرش پر رینگ رینگ کر وہ بولتا بھی جاتا ہے کہ کیسے لوگ ہیں کہ جہاں مارنا چاہیے وہاں تو ٹھیک ہے مارو، لیکن جہاں نہیں مارنا چاہیے تم وہاں بھی مارتے ہو، کیسے لوگ ہیں پتہ نہیں حکومت کہاں سوئی پڑی ہے۔
اس کے لیے کوئی قانون ہونا چاہیے کہ جہاں مارنا نہیں چاہیے وہاں نہ مارا جائے کتنا مارا جائے اور کیسا مارا جائے، ہمارا بھی یہی کہنا ہے کہ آخر اس کے لیے کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ہے کہ ہارن اور بھونپو کہاں مارنا چاہیے اور کہاں نہیں، لفظ ایمبولینس کے الٹا لکھنے سے ان کا اور بھی بہت کچھ الٹا ہو گیا ہے جہاں کھڑا ہونا چاہیے وہاں تیزی سے گزر جاتے ہیں اور جہاں تیزی سے گزرنا چاہیے وہاں کھڑی ہو کر آپس میں ''بزبان ہارن'' تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
جہاں ہارن کو بھونپو کے ساتھ دھینگا مشتی کرنا چاہیے وہاں دونوں ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے وزیر لوگ کسی کی موت پر ''خوشی'' کا اظہار کرنے کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں ویسے اس منظر کو دنیا کا سب سے پہلا اور آخری عجونہ کہنا چاہیے کسی لیڈر کا یوں جلسہ عام میں دو منٹ کی خاموشی اور کسی عورت کی زبان موت سے پہلے رکنا، چونکہ دوسرا والا عجوبہ یعنی موت سے پہلے عورت کی دو سیکنڈ خاموشی آج تک دیکھی نہیں گئی ہے اس لیے یہ لیڈروں کی خاموشی وہ بھی بقید حیات اور لاتعداد کانوں کے دستیاب ہونے پر ہی پہلا اور آخری عجوبہ تصور کیا جائے گا۔
ان ایمبولینس گاڑیوں کے ساتھ اور بھی کچھ عجوبہ عجائب چیزیں وابستہ ہیں مثلاً جہاں ان کو ہونا چاہیے دھماکے، حادثے یا ایکسیڈنٹ یا کسی دوسری آفت سماوی یا ارضی کے موقع پر ان کو دیکھنا ایسے ہے جیسے اماؤس کی رات کو چاند کو دیکھنا، کسی افسر کا دفتری اوقات میں دفتر میں پایا جانا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کسی لیڈر کے سینے میں دل کا ملنا یا کسی مسلمان کا دو نمازیوں کے درمیان بدستور مسلمان رہنا، لیکن کسی بھی شادی برات یا تقریب میں اتنے ایمبولینس ہوتے ہیں کہ دوسری گاڑیوں کے لیے جگہ نہیں ملتی، ایک دانائے راز ڈرائیور جو پہلے کسی ادارے کے ایمبولینس پر ڈرائیور تھا ایک مرتبہ چند روز کے لیے ہمارا ڈرائیور بن گیا ۔
اس کی بھی مجبوری تھی کہ ایمبولینس رکھنے والے سارے ادارے اسے پہچان گئے تھے اور ہماری بھی مجبوری تھی کہ پشاور کی سڑکوں پر عام ڈرائیور چلتا ہی نہیں، ایک دن پیچھے سے کسی ایمبولینس کا بھونپو بجا تو جگہ ہوتے ہوئے بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوا ہم نے اسے بتایا کہ پیچھے ایمبولینس ہے ہٹ کر راستہ دو، ہو سکتا ہے کہ کسی مریض کی حالت نازک ہو، ہنس کر بولا میں نے شیشے میں دیکھ لیا ہے یہ فلاں ہے اس وقت اپنے گھر سبزی پہنچاتا ہے۔ حیرت سے پوچھا گویا ایمبولینس میں ذاتی کام کرتا ہے؟ بولا۔ تو ذاتی کام ہی تو ایمبولینس میں کیے جاتے ہیں بلکہ یہ تو اکثر کرائے پر بھی چلاتا ہے لیکن میرے جتنا نہیں کماتا ہے، کیوں ہے یہ ظالم ہے اور میں ایماندار آدمی ہوں بطور ٹیکسی چلانے کے ٹیکسی کا آدھا کرایہ لیتا ہوں۔
اسے انکشافات کے موڈ میں دیکھ کر مزید کریدا کہ ایسا خوش نصیب مریض تو کم از کم اس نے نہیں دیکھا ہے جسے کسی ایمبولینس نے نازک وقت میں اسپتال پہنچایا ہو۔ البتہ جب ایمبولینس کی انٹری کے ساتھ ہی اس کی جان بھی نکل جاتی ہے تو پھر تو اسے اتارنا نہیں چاہیے آخر مسلمانی بھی کوئی چیز ہے اور ویسے بھی کم از کم مردے کو گھر پہنچانا تو کار ثواب ہے۔
جہاں تک ہمارا اندازہ ہے اس وقت پشاور شہر اور گرد و نواح میں کچھ کم ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ایک اسپتال کلینک اور خدمت خلق کے شفا خانے تو ہوں گے ہی سب کے پاس اس سے چوگنے ایمبولینس ہوں گے اور یہ سب کے سب دن بھر دوڑتے بھاگتے ہارن بجاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن کوئی ایک بھی ایسا چشم دید یا گواہ نہیں ملے گا جس نے ان ایمبولینسوں کے ذریعے کسی مریض کا بھلا ہوتے ہوئے دیکھا ہو۔
وجہ ان کی بے پناہ مصروفیت ہے لیکن اس مصروفیت کے بارے میں بھی کوئی نہیں جانتا کہ کیا مصروفیت ہے کیونکہ ٹیلی فون آپریٹروں اور ایمبولینسوں کی مصروفیت کا سراغ آج تک کسی کو نہیں ملا ہے، ویسے اکثر شادی بیاہ مہندی برات اور تیجے چوتھے پر ان کی مصروفیت کا ہلکا سا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اکثر ہٹی کٹی اور بنی ٹھنی خواتین کو ان میں چڑھتے اترتے دیکھا گیا ہے، اس ڈرائیور سے ہم نے پوچھا کہ متعلقہ ادارے کے افسران ڈرائیوروں کا نوٹس نہیں لیتے۔ بولا نوٹس لے تو لیں گے لیکن پھر ان کا جو اپنا سختی سے نوٹس لیا جائے گا اس کا کیا بنے گا۔
لیکن ان دنوں ٹریفک میں ایک جدید عنصر نے اس خوش انتظامی اور جذبہ خدمت بھی اگر ساتھ کر دیجیے تو ایک بڑی خوب صورت سی صورتحال پیدا کی ہوئی ہے، یہ نیا عنصر ان ایمبولینسوں اور ان کے بھونپوؤں کی دم قدم سے پیدا ہوا ہے جو نہ جانے اچانک کہاں سے اس شہر پر حملہ آور ہو گئی ہیں۔ یہ ہم سرکاری ایمبولینس گاڑیوں کی بات نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ان کو تو آج تک نہ کبھی ہم نے دیکھا ہے اور نہ دیکھنے کی ہوس ہے بلکہ صحیح معنوں میں ایک مرتبہ دیکھا ہے اور دوسری مرتبہ خدا کبھی نہ دکھائے کیوں کہ اس پر ہماری جیب کا جو کباڑ ہوا تھا وہ تو پھر بھی قابل مرمت یا قابل رفو ہو گیا لیکن جیب کے ذرا نیچے دل پر جو گزری تھی وہ آج تک ہرا ہی ہرا ہے، ایک پشتوٹپہ کے مطابق
ستا یارانے خواگہ رانہ کرل
حلق بہ مے تریخ تر زنکدنہ پورے وینہ
یعنی تمہاری یاری نے مٹھاس تو نہیں دی البتہ کڑواہٹ اتنی دی ہے کہ شاید قیامت تک میرا حلق کڑوا ہی رہے گا، مسئلہ صرف ان ایمبولینسوں کی سڑکوں پر موجودگی اور مٹر گشت بلکہ ہارن گشت کا نہیں ہے بلکہ یہ کہ بے پناہ ایمبولینس گاڑیاں جو تعداد میں اتنی زیادہ ہیں جتنے اردو لغت میں الفاظ ہو سکتے ہیں، خدمت، انسانیت، عبادت، عیادت، مدد، ہمدردی، بیدردی نہ جانے کون کون سے بھاری بھرکم الفاظ کہاں سے اتنی بڑی تعداد میں لدئے جاتے ہیں اور جو انگریزی الفاظ سے مزین ہیں وہ ایمبولینس گاڑیاں تو گویاں سڑکوں سے چپک کر رہ گئی ہیں، تو ان سب کے بارے میں ہمارا جو مخمصہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ گاڑیاں کہاں سے آتی ہیں اور کہاں جاتی ہیں صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ گاڑی آتی ہے گاڑی جاتی ہے کہاں کیوں کس لیے۔ اس کا جواب ہمیں تو آج تک نہیں ملا آپ کو مل جائے تو ہمیں بھی بتا دیجیے کوئی ہماری مانے تو ہم ان پر ایک ہی جملہ لکھوا دیں
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
ایمبولینس ہے کہ جام ہوتی ہے
سب سے بڑی رکاوٹ اس معمے کو سمجھنے میں یہ ہے کہ ان گاڑیوں پر نہ صرف ایمبولینس الٹا لکھا ہوتا ہے بلکہ ان کا سب کچھ الٹا ہوتا ہے حتیٰ کہ ہارن بھی صرف وہیں بجاتے ہیں جہاں بجانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، وہ ایک فلم میں گووندا کو ایک بدمعاش نے بہت مارا شکستہ حالت میں فرش پر رینگ رینگ کر وہ بولتا بھی جاتا ہے کہ کیسے لوگ ہیں کہ جہاں مارنا چاہیے وہاں تو ٹھیک ہے مارو، لیکن جہاں نہیں مارنا چاہیے تم وہاں بھی مارتے ہو، کیسے لوگ ہیں پتہ نہیں حکومت کہاں سوئی پڑی ہے۔
اس کے لیے کوئی قانون ہونا چاہیے کہ جہاں مارنا نہیں چاہیے وہاں نہ مارا جائے کتنا مارا جائے اور کیسا مارا جائے، ہمارا بھی یہی کہنا ہے کہ آخر اس کے لیے کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ہے کہ ہارن اور بھونپو کہاں مارنا چاہیے اور کہاں نہیں، لفظ ایمبولینس کے الٹا لکھنے سے ان کا اور بھی بہت کچھ الٹا ہو گیا ہے جہاں کھڑا ہونا چاہیے وہاں تیزی سے گزر جاتے ہیں اور جہاں تیزی سے گزرنا چاہیے وہاں کھڑی ہو کر آپس میں ''بزبان ہارن'' تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
جہاں ہارن کو بھونپو کے ساتھ دھینگا مشتی کرنا چاہیے وہاں دونوں ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے وزیر لوگ کسی کی موت پر ''خوشی'' کا اظہار کرنے کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں ویسے اس منظر کو دنیا کا سب سے پہلا اور آخری عجونہ کہنا چاہیے کسی لیڈر کا یوں جلسہ عام میں دو منٹ کی خاموشی اور کسی عورت کی زبان موت سے پہلے رکنا، چونکہ دوسرا والا عجوبہ یعنی موت سے پہلے عورت کی دو سیکنڈ خاموشی آج تک دیکھی نہیں گئی ہے اس لیے یہ لیڈروں کی خاموشی وہ بھی بقید حیات اور لاتعداد کانوں کے دستیاب ہونے پر ہی پہلا اور آخری عجوبہ تصور کیا جائے گا۔
ان ایمبولینس گاڑیوں کے ساتھ اور بھی کچھ عجوبہ عجائب چیزیں وابستہ ہیں مثلاً جہاں ان کو ہونا چاہیے دھماکے، حادثے یا ایکسیڈنٹ یا کسی دوسری آفت سماوی یا ارضی کے موقع پر ان کو دیکھنا ایسے ہے جیسے اماؤس کی رات کو چاند کو دیکھنا، کسی افسر کا دفتری اوقات میں دفتر میں پایا جانا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کسی لیڈر کے سینے میں دل کا ملنا یا کسی مسلمان کا دو نمازیوں کے درمیان بدستور مسلمان رہنا، لیکن کسی بھی شادی برات یا تقریب میں اتنے ایمبولینس ہوتے ہیں کہ دوسری گاڑیوں کے لیے جگہ نہیں ملتی، ایک دانائے راز ڈرائیور جو پہلے کسی ادارے کے ایمبولینس پر ڈرائیور تھا ایک مرتبہ چند روز کے لیے ہمارا ڈرائیور بن گیا ۔
اس کی بھی مجبوری تھی کہ ایمبولینس رکھنے والے سارے ادارے اسے پہچان گئے تھے اور ہماری بھی مجبوری تھی کہ پشاور کی سڑکوں پر عام ڈرائیور چلتا ہی نہیں، ایک دن پیچھے سے کسی ایمبولینس کا بھونپو بجا تو جگہ ہوتے ہوئے بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوا ہم نے اسے بتایا کہ پیچھے ایمبولینس ہے ہٹ کر راستہ دو، ہو سکتا ہے کہ کسی مریض کی حالت نازک ہو، ہنس کر بولا میں نے شیشے میں دیکھ لیا ہے یہ فلاں ہے اس وقت اپنے گھر سبزی پہنچاتا ہے۔ حیرت سے پوچھا گویا ایمبولینس میں ذاتی کام کرتا ہے؟ بولا۔ تو ذاتی کام ہی تو ایمبولینس میں کیے جاتے ہیں بلکہ یہ تو اکثر کرائے پر بھی چلاتا ہے لیکن میرے جتنا نہیں کماتا ہے، کیوں ہے یہ ظالم ہے اور میں ایماندار آدمی ہوں بطور ٹیکسی چلانے کے ٹیکسی کا آدھا کرایہ لیتا ہوں۔
اسے انکشافات کے موڈ میں دیکھ کر مزید کریدا کہ ایسا خوش نصیب مریض تو کم از کم اس نے نہیں دیکھا ہے جسے کسی ایمبولینس نے نازک وقت میں اسپتال پہنچایا ہو۔ البتہ جب ایمبولینس کی انٹری کے ساتھ ہی اس کی جان بھی نکل جاتی ہے تو پھر تو اسے اتارنا نہیں چاہیے آخر مسلمانی بھی کوئی چیز ہے اور ویسے بھی کم از کم مردے کو گھر پہنچانا تو کار ثواب ہے۔
جہاں تک ہمارا اندازہ ہے اس وقت پشاور شہر اور گرد و نواح میں کچھ کم ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ایک اسپتال کلینک اور خدمت خلق کے شفا خانے تو ہوں گے ہی سب کے پاس اس سے چوگنے ایمبولینس ہوں گے اور یہ سب کے سب دن بھر دوڑتے بھاگتے ہارن بجاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن کوئی ایک بھی ایسا چشم دید یا گواہ نہیں ملے گا جس نے ان ایمبولینسوں کے ذریعے کسی مریض کا بھلا ہوتے ہوئے دیکھا ہو۔
وجہ ان کی بے پناہ مصروفیت ہے لیکن اس مصروفیت کے بارے میں بھی کوئی نہیں جانتا کہ کیا مصروفیت ہے کیونکہ ٹیلی فون آپریٹروں اور ایمبولینسوں کی مصروفیت کا سراغ آج تک کسی کو نہیں ملا ہے، ویسے اکثر شادی بیاہ مہندی برات اور تیجے چوتھے پر ان کی مصروفیت کا ہلکا سا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اکثر ہٹی کٹی اور بنی ٹھنی خواتین کو ان میں چڑھتے اترتے دیکھا گیا ہے، اس ڈرائیور سے ہم نے پوچھا کہ متعلقہ ادارے کے افسران ڈرائیوروں کا نوٹس نہیں لیتے۔ بولا نوٹس لے تو لیں گے لیکن پھر ان کا جو اپنا سختی سے نوٹس لیا جائے گا اس کا کیا بنے گا۔