امریکی صدر کا دورہ برما
دو سال قبل کسی نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔کہ صدر اوبامہ برما کی جمہوریت پسند لیڈر آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کریں گے۔
باراک اوبامہ امریکا کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے برما کا دورہ کیا ہے۔ فوٹو : اے ایف پی
امریکا کے صدر باراک اوبامہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے صرف12روز بعد ایشیاء پیسفک ممالک کے دورے پر ہیں' دور کے پہلے مرحلہ پر وہ اتوار کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک پہنچ گئے ہیں۔
یہاں انھوں نے تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بھول اور وزیراعظم شینی وترا سے دو طرفہ امور پر بات چیت کی۔ ایشیاء پیسفک ممالک کے اس دورے کی سب سے اہم بات صدر اوبامہ کا برما جانا ہے۔ باراک اوبامہ امریکا کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے برما کا دورہ کیا ہے۔ اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دورہ کتنا اہم ہوگا۔ برما کے بعد وہ کمبوڈیا جائیں گے' امریکی صدر کا تھائی لینڈ' کمبوڈیا اور برما کا دورہ انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔ خصوصاً برما کے دورے کے مستقبل کی اسٹرٹیجک صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کریں گے' صدر اوبامہ نے بینکاک میں ہی برما کے صدر کی تعریف شروع کر دی۔ انھوں نے برما میں سیاسی اصلاحات کے ذریعے جمہوریت کی بحالی پر صدر تھان سین کی تعریف کی اور کہا کہ کسی کو اب یہ شک نہیں ہونا چاہیے کہ عرصہ سے الگ تھلگ رہنے والی ریاست میں تبدیلی آ چکی ہے۔
ڈیڑھ دو سال قبل کسی نے اس کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ صدر اوبامہ برما کی جمہوریت پسند لیڈر آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کریں گے۔ نئی عالمی اسٹرٹیجک صورت حال میں برما امریکا اور یورپ کے لیے بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ برما کی سرحد بھارت' بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے علاوہ عوامی جمہوریہ چین سے بھی ملتی ہے۔ صدر اوبامہ کے دورہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ برما مستقبل میں امریکا اور یورپ کے مزید قریب ہو گا۔ اس صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ چین کے ہمسایہ ممالک کو مغرب کا طرفدار بنایا جائے تاکہ چین کو محصور یا محدود رکھا جائے۔ ایک جانب امریکا افغانستان میں موجود ہے' چین کے صوبے سنکیانک کی سرحد افغانستان سے بھی ملتی ہے۔ بحرالکاہل میں جاپان چین کے سامنے ہے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان بھی امریکی اتحادی ہیں۔ امریکا اب برما کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنا رہا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کو امریکی پالیسی کے رخ کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے تاکہ وطن عزیز مستقبل کی عالمی سیاست میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکے۔
یہاں انھوں نے تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بھول اور وزیراعظم شینی وترا سے دو طرفہ امور پر بات چیت کی۔ ایشیاء پیسفک ممالک کے اس دورے کی سب سے اہم بات صدر اوبامہ کا برما جانا ہے۔ باراک اوبامہ امریکا کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے برما کا دورہ کیا ہے۔ اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دورہ کتنا اہم ہوگا۔ برما کے بعد وہ کمبوڈیا جائیں گے' امریکی صدر کا تھائی لینڈ' کمبوڈیا اور برما کا دورہ انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔ خصوصاً برما کے دورے کے مستقبل کی اسٹرٹیجک صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کریں گے' صدر اوبامہ نے بینکاک میں ہی برما کے صدر کی تعریف شروع کر دی۔ انھوں نے برما میں سیاسی اصلاحات کے ذریعے جمہوریت کی بحالی پر صدر تھان سین کی تعریف کی اور کہا کہ کسی کو اب یہ شک نہیں ہونا چاہیے کہ عرصہ سے الگ تھلگ رہنے والی ریاست میں تبدیلی آ چکی ہے۔
ڈیڑھ دو سال قبل کسی نے اس کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ صدر اوبامہ برما کی جمہوریت پسند لیڈر آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کریں گے۔ نئی عالمی اسٹرٹیجک صورت حال میں برما امریکا اور یورپ کے لیے بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ برما کی سرحد بھارت' بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے علاوہ عوامی جمہوریہ چین سے بھی ملتی ہے۔ صدر اوبامہ کے دورہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ برما مستقبل میں امریکا اور یورپ کے مزید قریب ہو گا۔ اس صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ چین کے ہمسایہ ممالک کو مغرب کا طرفدار بنایا جائے تاکہ چین کو محصور یا محدود رکھا جائے۔ ایک جانب امریکا افغانستان میں موجود ہے' چین کے صوبے سنکیانک کی سرحد افغانستان سے بھی ملتی ہے۔ بحرالکاہل میں جاپان چین کے سامنے ہے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان بھی امریکی اتحادی ہیں۔ امریکا اب برما کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنا رہا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کو امریکی پالیسی کے رخ کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے تاکہ وطن عزیز مستقبل کی عالمی سیاست میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکے۔