توانائی کا بحرانزرعی اور صنعتی عمل انحطاط کا شکار

غلط پالیسیوں کے باعث زرعی اور صنعتی شعبے میں پیشرفت کے بجائے معکوس سمت میں دوڑا چلا جا رہا ہے۔

ہزاروں پیداواری یونٹ بند ہونے سے لاکھوں افراد کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، فوٹو : ایکسپریس

زراعت اور صنعت میں ترقی کا پیمانہ ہی قوموں کی معاشی خوشحالی کا تعین کرتا ہے۔چین اور بھارت اگر آج بڑی معاشی قوت بن رہے ہیں تو اس میں صنعت اور زراعت کے بنیادی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔


پاکستان ایک زرخیز خطہ اور بہترین افرادی قوت رکھنے کے باوجود شومئی قسمت سے غلط حکومتی پالیسیوں کے باعث زرعی اور صنعتی شعبے میں پیشرفت کے بجائے معکوس سمت میں دوڑا چلا جا رہا ہے۔ توانائی کے بحران نے صنعتوں کی رگوں سے خون نچوڑ لیا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس وقت ہزاروں پیداواری یونٹ بند ہونے سے لاکھوں افراد کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔ صنعتی پیداوار کم ہونے اور مارکیٹ میں طلب پوری نہ کر سکنے کے باعث اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مہنگائی کے طوفان نے نچلے اور متوسط طبقے کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ زراعت سے وابستہ ہزاروں پیداواری یونٹ بند ہونے سے مزدور دو وقت کی روٹی کو ترسنے لگے ہیں۔

زرعی ادویات' کھاد بیج اور ٹریکٹر کے پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے سے ان اشیا کا استعمال چھوٹے کسانوں کی قوت خرید سے باہر ہو گیا ہے نتیجتاً فی ایکڑ اوسط پیداوار میں کمی آنے سے زرعی اجناس مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب زرخیز زمینوں پر ایک قبضہ مافیا کالونیاں بنا کر زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ توانائی کے بحران نے صنعتوں کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ ملکی طلب پوری کرنے کے قابل ہی نہیں رہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کی کاریں' پرزہ جات' کپڑا' ادویات' جوتے' کاسمیٹکس' کھاد' خوردنی اشیا کے علاوہ ہزاروں مصنوعات درآمد کرنا پڑ رہی ہیں۔ سرمایہ دار اور تاجر امن و امان کی بگڑتی صورتحال' بڑھتی ہوئی ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں سے عدم تحفظ کا شکار ہو کر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ موجودہ بدلتے ہوئے عالمی حالات نے پاکستان کو ترقی کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ پاکستان ایک جانب افغانستان، وسط ایشیا اور روس تک اپنی مارکیٹ کو وسعت دے سکتا ہے تو دوسری جانب بھارت سے تجارتی روابط بڑھا کر خوشحالی کی جانب قدم بڑھا سکتا ہے۔ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پائے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنائے تو یہاں خوشحالی کا عمل پھر سے شروع ہو سکتا ہے۔
Load Next Story