تموچن سے سبق سیکھیں
تو پھر یہ کون لوگ ہیں جنھوں نے نائیجریا میں ’’مغربی تعلیم حرام‘‘ کا نعرہ لگایا ہے
zahedahina@gmail.com
لاہور:
آج ہم میں سے کون ہے جس نے بوکو حرام کا نام نہیں سنا یا پڑھا۔ پہلی مرتبہ جب اس انتہاپسند اور متشدد تنظیم کا نام نظر سے گزرا تو ذہن الجھ گیا۔ ان دنوں لفظ 'حرام' اس فراٹے سے استعمال ہوتا ہے کہ یہی خیال آیا کہ کوئی نئی چیز 'حرام' کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کا مطلب ہے 'مغربی تعلیم حرام ہے'۔ چلیے صاحب چھٹی ہوئی۔ ہمارے سرسید مرحوم نے زندگی بھر کی جمع پونجی اور چندے کی خطیر رقم مغربی تعلیم کی ترویج میں خرچ کر دی اور ہندو مسلمان کو نئی دنیا سے نہ صرف روشناس کرایا بلکہ مغربی تعلیم کی طرف مائل کر کے اسے دنیا میں زندگی کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ 1947ء کے فوراً بعد پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے والے وہی لوگ تھے جنھوں نے سرسید کی ترغیب پر جدید تعلیم حاصل کی تھی اور دنیا میں زندہ رہنے کا سلیقہ سیکھا اور سکھایا تھا۔
تو پھر یہ کون لوگ ہیں جنھوں نے نائیجریا میں ''مغربی تعلیم حرام'' کا نعرہ لگایا ہے اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس تنظیم کا گڑھ شمال مشرقی نائیجریا میں ہے لیکن چاڈ، نائیجر اور شمالی کیمرون میں بھی اپنا اثرو رسوخ رکھتی ہے۔ یہ 2002ء میں قائم ہوئی اور اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو قتل کر چکی ہے اور 23 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار مال مویشی چھوڑ کر جان بچانے کے لیے دربدر ہیں۔ ان کی شہرت اس وقت بلندی پر پہنچی جب انھوں نے قصبہ چی بوک کے ایک اسکول سے 276 طالبات کو اغوا کر لیا اور انھیں ساتھ لے گئے۔ ان لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھا گیا۔ ان میں سے کچھ فرار ہوئیں اور انھوں نے اغوا ہونے والیوں کی حالتِ زار بیان کی تو دنیا کو ان کے بارے میں تفصیلات معلوم ہوئیں۔
اب سے پہلے ہم نے سری لنکا، افغانستان اور کئی دوسرے ملکوں سے آنے والی یہ خبریں پڑھی تھیں کہ شورش میں مبتلا یہ جنگجو، چھوٹے لڑکوں کو جنگ زدہ علاقوں میں آگے رکھتے ہیں تا کہ بارودی سرنگوں سے بھرے ہوئے کھیت، باغات یا سڑک سے گزریں تو سرنگ انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے اور آگے چلنے والے لڑکے بارودی سرنگوں کا نوالہ بن جائیں۔ یہ لڑکے آس پاس کے دیہاتوں سے اغوا کر کے لائے جاتے تھے۔ ان سے کھانا پکانے، برتن اور کپڑے دھونے کی مشقت کے علاوہ ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا تھا۔ بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر اڑ جانے کا مرحلہ تو بعد میں آتا تھا۔
پھر ہم نے یہ المناک مناظر بھی دیکھے کہ نوجوان لڑکے سینے سے بم باندھ کر مصروف بازاروں، درگاہوں، اسکولوں اور مسجدوں میں چھوڑ دیے گئے جہاں انھوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور سیکڑوں بے گناہ لقمہ اجل ہو گئے۔ کچھ مہینوں پہلے ہمارے لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ایسا ہی ایک سانحہ ہوا جس کے بارے میں کئی مفروضے بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک مفروضہ یہ ہے کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ کفر کی اسلام پر یلغار ہے اور تم اپنی جان راہِ حق میں دے کر اس یلغار کو روک سکتے ہو، اس راستے پر چل کر تم شہید ہو گے اور تاابد جنت تمہارا مسکن ہو گی۔
تازہ اطلاع اب یہ آئی ہے کہ بوکو حرام کے جتھے اغوا کر کے غلام بنا لی جانے والی عورتوں کو خودکش بمبار کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔ بوکو حرام کے مظالم سے بچ نکلنے والی عورتوں کے بارے میں ایک رفیوجی کیمپ سے جو تفصیلات سامنے آئیں، وہ وحشت ناک تھیں۔ اس سے پہلے بھی مشعل اوباما، ہلیری کلنٹن کے علاوہ مغرب و مشرق کے اہم رہنما نہ صرف بوکو حرام کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے بلکہ یہ نعرہ بھی لگا تھا کہ ہم اپنی لڑکیوں کو واپس لائیں گے۔ یہ بات بار بار دہرائی گئی اور اس انتہا پسند گروہ کو کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔
ادھر بوکو حرام نے اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیتیں دیں اور انھیں خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان لڑکیوں کے پیٹ یا پیٹھ پر بم باندھ کر انھیں گنجان آباد علاقوں، پرہجوم بازاروں اور اسکولوں کے احاطوں میں دھکیل دیا گیا، پھر انھیں ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ یوں جسمانی اذیتیں سہنے والی وہ بے گناہ لڑکیاں خود بھی چیتھڑے بن گئیں اور درجنوں لوگوں کو ساتھ لے گئیں۔
2 برس پہلے ایک اسکول سے لگ بھگ ڈھائی سو لڑکیوں کے اغوا نے ساری دنیا کو دہشت زدہ کر دیا تھا اور نائیجریا کے اعلیٰ حکام اور فوج کو ہر قسم کا طنز و طعنہ سننا پڑا تھا۔ شاید یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہمت چھوڑ کر بیٹھ جانے والی نائیجریا کی فوج کمربستہ ہوئی اور اس نے عزم و ہمت سے بوکو حرام کے ساتھ ایک خونیں لڑائی لڑی۔ انھیں قتل کیا پھر جنگلوں میں چھپنے پر مجبور کیا۔ اسی کشمکش کے دوران بہت سی لڑکیاں آزاد ہو گئیں اور انھوں نے پناہ گزین لوگوں کے ان کیمپوں کا رخ کیا جو حکومت اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی طرف سے قائم کیے گئے ہیں۔
یہ کیمپ ہر طرح کے مصیبت زدہ لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ انھیں غذائی اجناس، دوائیں اور کپڑے فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ مشکل بھی ہے کہ ہر نئے آنے والے کو اور بطور خاص لڑکیوں اور عورتوں کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بوکو حرام کے لوگوں نے ان خواتین پناہ گزینوں کے بھیس میں کہیں خودکش بمبار نہ بھیجے ہوں جو موقع ملتے ہی خود کو اڑا لیں اور اپنے ساتھ کیمپ میں پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے پناہ گزینوں کے سامان اور لباس کی سختی سے تلاشی لی جاتی ہے۔
ادھر گرتی پڑتی ان کیمپوں تک پہنچ جانے والی لڑکیوں پر ایک نئی آفت ہے۔ ان میں سے درجنوں ایسی ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے نتیجے میں اپنے مجرموں کے بچوں کی مائیں بن گئی ہیں۔ ان کی مامتا نے انھیں مجبور کیا کہ وہ جب بوکو حرام کی قید سے فرار ہوں تو اپنے نوزائیدہ یا سال چھ مہینے کے بچوں کو ساتھ لے کر بھاگیں۔ وہ جب پناہ گزیں کیمپ پہنچتی ہیں تو ان چھوٹے بچوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ کیمپ کے 'بڑے' خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان، ان بچوں کے بارے میں تفتیش کرتے ہیں تو لڑکیاں جھوٹ بولتی ہیں کہ بچے کا باپ بوکو حرام کے حملے میں مارا گیا، میں بیوہ ہوں اور اب اس بچے کی پرورش میری ذمے داری ہے۔
ان سے سختی سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے، مذہبی معاملات کی نگہ داری کرنے والوں کو اگر شک بھی ہو جائے کہ بچہ یا بچی، بوکو حرام کا ہے تو ان کے خیال میں 'ولدالزنا' کو قتل کر دینا چاہیے اور اس کی ماں بھی سنگ ساری کی مستحق ہے۔ یہ لڑکیاں دو برس کی عذاب ناک زندگی گزار کر اس خیال میں تھیں کہ وہ جب اپنوں میں پہنچیں گی تو ان کی مصیبت کے دن ختم ہو جائیں گے لیکن اب وہ ایک نئے عذاب میں گرفتار ہو چکی ہیں۔
نائیجریا سے عورتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں جنھیں پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان بے بس اور مجبور لڑکیوں کے لیے آسمان سے کوئی مدد نہیں آتی۔ ایسے میں مجھے منگول تاریخ کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب چنگیز خان، خان اعظم نہیں بنا تھا اور تموچن کہلاتا تھا۔ وہ اپنے لوگوں کی خوراک کا انتظام کرنے کے لیے جانوروں کے شکار کی مہم پر گیا ہوا تھا کہ اس کے دشمن قبیلے کو خبر ہوئی کہ تموچن کا قبیلہ غیر محفوظ ہے۔ وہ اس کے خیمے اور خاندان پر ٹوٹ پڑے۔ حفاظت پر مامور مرد مارے گئے اور حملہ کرنے والے تموچن کی بیوی بورتائی کو اغوا کر کے لے گئے۔
تموچن اپنی شکاری مہم سے لوٹ رہا تھا کہ اسے بورتائی کے اغوا کی خبر ملی۔ وہ راستے سے ہی پلٹا اور اپنے دشمنوں پر جا پڑا۔ دست بہ دست لڑائی میں اس نے بقول کسے کشتوں کے پشتے لگا دیے اور بورتائی کو اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بٹھا کر واپس لے آیا۔ چند مہینوں بعد بورتائی نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ تموچن نے اس بیٹے کی پیدائش پر شاندار جشن منایا تو اس کے ایک ساتھی نے یاد دلایا کہ یہ اس کے دشمن کا بیٹا ہے۔ تموچن نے اسے جھڑک دیا اور کہا کہ ہم جب دشمنوں سے اپنی عورتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تو پھر ہمیں ان سے کچھ پوچھنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ نائیجریا میں نوزائیدہ بچوں کو قتل اور اغوا ہو جانے والی لڑکیوں کو سنگسار کرنے کی بات کرنیوالے لوگ کاش تموچن کے اس جملے سے سبق سیکھتے جو ستارہ پرست تھا۔
آخر میں اپنی ایک غلطی پر نہایت معذرت کہ میں نے گزشتہ کالم میں اکبر کے باپ کا نام ہمایوں کے بجائے شاہ جہاں لکھا۔
آج ہم میں سے کون ہے جس نے بوکو حرام کا نام نہیں سنا یا پڑھا۔ پہلی مرتبہ جب اس انتہاپسند اور متشدد تنظیم کا نام نظر سے گزرا تو ذہن الجھ گیا۔ ان دنوں لفظ 'حرام' اس فراٹے سے استعمال ہوتا ہے کہ یہی خیال آیا کہ کوئی نئی چیز 'حرام' کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کا مطلب ہے 'مغربی تعلیم حرام ہے'۔ چلیے صاحب چھٹی ہوئی۔ ہمارے سرسید مرحوم نے زندگی بھر کی جمع پونجی اور چندے کی خطیر رقم مغربی تعلیم کی ترویج میں خرچ کر دی اور ہندو مسلمان کو نئی دنیا سے نہ صرف روشناس کرایا بلکہ مغربی تعلیم کی طرف مائل کر کے اسے دنیا میں زندگی کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ 1947ء کے فوراً بعد پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے والے وہی لوگ تھے جنھوں نے سرسید کی ترغیب پر جدید تعلیم حاصل کی تھی اور دنیا میں زندہ رہنے کا سلیقہ سیکھا اور سکھایا تھا۔
تو پھر یہ کون لوگ ہیں جنھوں نے نائیجریا میں ''مغربی تعلیم حرام'' کا نعرہ لگایا ہے اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس تنظیم کا گڑھ شمال مشرقی نائیجریا میں ہے لیکن چاڈ، نائیجر اور شمالی کیمرون میں بھی اپنا اثرو رسوخ رکھتی ہے۔ یہ 2002ء میں قائم ہوئی اور اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو قتل کر چکی ہے اور 23 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار مال مویشی چھوڑ کر جان بچانے کے لیے دربدر ہیں۔ ان کی شہرت اس وقت بلندی پر پہنچی جب انھوں نے قصبہ چی بوک کے ایک اسکول سے 276 طالبات کو اغوا کر لیا اور انھیں ساتھ لے گئے۔ ان لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھا گیا۔ ان میں سے کچھ فرار ہوئیں اور انھوں نے اغوا ہونے والیوں کی حالتِ زار بیان کی تو دنیا کو ان کے بارے میں تفصیلات معلوم ہوئیں۔
اب سے پہلے ہم نے سری لنکا، افغانستان اور کئی دوسرے ملکوں سے آنے والی یہ خبریں پڑھی تھیں کہ شورش میں مبتلا یہ جنگجو، چھوٹے لڑکوں کو جنگ زدہ علاقوں میں آگے رکھتے ہیں تا کہ بارودی سرنگوں سے بھرے ہوئے کھیت، باغات یا سڑک سے گزریں تو سرنگ انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے اور آگے چلنے والے لڑکے بارودی سرنگوں کا نوالہ بن جائیں۔ یہ لڑکے آس پاس کے دیہاتوں سے اغوا کر کے لائے جاتے تھے۔ ان سے کھانا پکانے، برتن اور کپڑے دھونے کی مشقت کے علاوہ ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا تھا۔ بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر اڑ جانے کا مرحلہ تو بعد میں آتا تھا۔
پھر ہم نے یہ المناک مناظر بھی دیکھے کہ نوجوان لڑکے سینے سے بم باندھ کر مصروف بازاروں، درگاہوں، اسکولوں اور مسجدوں میں چھوڑ دیے گئے جہاں انھوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور سیکڑوں بے گناہ لقمہ اجل ہو گئے۔ کچھ مہینوں پہلے ہمارے لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ایسا ہی ایک سانحہ ہوا جس کے بارے میں کئی مفروضے بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک مفروضہ یہ ہے کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ کفر کی اسلام پر یلغار ہے اور تم اپنی جان راہِ حق میں دے کر اس یلغار کو روک سکتے ہو، اس راستے پر چل کر تم شہید ہو گے اور تاابد جنت تمہارا مسکن ہو گی۔
تازہ اطلاع اب یہ آئی ہے کہ بوکو حرام کے جتھے اغوا کر کے غلام بنا لی جانے والی عورتوں کو خودکش بمبار کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔ بوکو حرام کے مظالم سے بچ نکلنے والی عورتوں کے بارے میں ایک رفیوجی کیمپ سے جو تفصیلات سامنے آئیں، وہ وحشت ناک تھیں۔ اس سے پہلے بھی مشعل اوباما، ہلیری کلنٹن کے علاوہ مغرب و مشرق کے اہم رہنما نہ صرف بوکو حرام کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے بلکہ یہ نعرہ بھی لگا تھا کہ ہم اپنی لڑکیوں کو واپس لائیں گے۔ یہ بات بار بار دہرائی گئی اور اس انتہا پسند گروہ کو کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔
ادھر بوکو حرام نے اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیتیں دیں اور انھیں خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان لڑکیوں کے پیٹ یا پیٹھ پر بم باندھ کر انھیں گنجان آباد علاقوں، پرہجوم بازاروں اور اسکولوں کے احاطوں میں دھکیل دیا گیا، پھر انھیں ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ یوں جسمانی اذیتیں سہنے والی وہ بے گناہ لڑکیاں خود بھی چیتھڑے بن گئیں اور درجنوں لوگوں کو ساتھ لے گئیں۔
2 برس پہلے ایک اسکول سے لگ بھگ ڈھائی سو لڑکیوں کے اغوا نے ساری دنیا کو دہشت زدہ کر دیا تھا اور نائیجریا کے اعلیٰ حکام اور فوج کو ہر قسم کا طنز و طعنہ سننا پڑا تھا۔ شاید یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہمت چھوڑ کر بیٹھ جانے والی نائیجریا کی فوج کمربستہ ہوئی اور اس نے عزم و ہمت سے بوکو حرام کے ساتھ ایک خونیں لڑائی لڑی۔ انھیں قتل کیا پھر جنگلوں میں چھپنے پر مجبور کیا۔ اسی کشمکش کے دوران بہت سی لڑکیاں آزاد ہو گئیں اور انھوں نے پناہ گزین لوگوں کے ان کیمپوں کا رخ کیا جو حکومت اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی طرف سے قائم کیے گئے ہیں۔
یہ کیمپ ہر طرح کے مصیبت زدہ لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ انھیں غذائی اجناس، دوائیں اور کپڑے فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ مشکل بھی ہے کہ ہر نئے آنے والے کو اور بطور خاص لڑکیوں اور عورتوں کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بوکو حرام کے لوگوں نے ان خواتین پناہ گزینوں کے بھیس میں کہیں خودکش بمبار نہ بھیجے ہوں جو موقع ملتے ہی خود کو اڑا لیں اور اپنے ساتھ کیمپ میں پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے پناہ گزینوں کے سامان اور لباس کی سختی سے تلاشی لی جاتی ہے۔
ادھر گرتی پڑتی ان کیمپوں تک پہنچ جانے والی لڑکیوں پر ایک نئی آفت ہے۔ ان میں سے درجنوں ایسی ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے نتیجے میں اپنے مجرموں کے بچوں کی مائیں بن گئی ہیں۔ ان کی مامتا نے انھیں مجبور کیا کہ وہ جب بوکو حرام کی قید سے فرار ہوں تو اپنے نوزائیدہ یا سال چھ مہینے کے بچوں کو ساتھ لے کر بھاگیں۔ وہ جب پناہ گزیں کیمپ پہنچتی ہیں تو ان چھوٹے بچوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ کیمپ کے 'بڑے' خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان، ان بچوں کے بارے میں تفتیش کرتے ہیں تو لڑکیاں جھوٹ بولتی ہیں کہ بچے کا باپ بوکو حرام کے حملے میں مارا گیا، میں بیوہ ہوں اور اب اس بچے کی پرورش میری ذمے داری ہے۔
ان سے سختی سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے، مذہبی معاملات کی نگہ داری کرنے والوں کو اگر شک بھی ہو جائے کہ بچہ یا بچی، بوکو حرام کا ہے تو ان کے خیال میں 'ولدالزنا' کو قتل کر دینا چاہیے اور اس کی ماں بھی سنگ ساری کی مستحق ہے۔ یہ لڑکیاں دو برس کی عذاب ناک زندگی گزار کر اس خیال میں تھیں کہ وہ جب اپنوں میں پہنچیں گی تو ان کی مصیبت کے دن ختم ہو جائیں گے لیکن اب وہ ایک نئے عذاب میں گرفتار ہو چکی ہیں۔
نائیجریا سے عورتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں جنھیں پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان بے بس اور مجبور لڑکیوں کے لیے آسمان سے کوئی مدد نہیں آتی۔ ایسے میں مجھے منگول تاریخ کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب چنگیز خان، خان اعظم نہیں بنا تھا اور تموچن کہلاتا تھا۔ وہ اپنے لوگوں کی خوراک کا انتظام کرنے کے لیے جانوروں کے شکار کی مہم پر گیا ہوا تھا کہ اس کے دشمن قبیلے کو خبر ہوئی کہ تموچن کا قبیلہ غیر محفوظ ہے۔ وہ اس کے خیمے اور خاندان پر ٹوٹ پڑے۔ حفاظت پر مامور مرد مارے گئے اور حملہ کرنے والے تموچن کی بیوی بورتائی کو اغوا کر کے لے گئے۔
تموچن اپنی شکاری مہم سے لوٹ رہا تھا کہ اسے بورتائی کے اغوا کی خبر ملی۔ وہ راستے سے ہی پلٹا اور اپنے دشمنوں پر جا پڑا۔ دست بہ دست لڑائی میں اس نے بقول کسے کشتوں کے پشتے لگا دیے اور بورتائی کو اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بٹھا کر واپس لے آیا۔ چند مہینوں بعد بورتائی نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ تموچن نے اس بیٹے کی پیدائش پر شاندار جشن منایا تو اس کے ایک ساتھی نے یاد دلایا کہ یہ اس کے دشمن کا بیٹا ہے۔ تموچن نے اسے جھڑک دیا اور کہا کہ ہم جب دشمنوں سے اپنی عورتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تو پھر ہمیں ان سے کچھ پوچھنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ نائیجریا میں نوزائیدہ بچوں کو قتل اور اغوا ہو جانے والی لڑکیوں کو سنگسار کرنے کی بات کرنیوالے لوگ کاش تموچن کے اس جملے سے سبق سیکھتے جو ستارہ پرست تھا۔
آخر میں اپنی ایک غلطی پر نہایت معذرت کہ میں نے گزشتہ کالم میں اکبر کے باپ کا نام ہمایوں کے بجائے شاہ جہاں لکھا۔