کم تعلیم یافتہ ہونے کی بات پلیئرز کو بورڈ چیف کا بیان کھٹکنے لگا

ماضی میں پاکستان کو عالمی فتوحات دلانے والے سب گریجویٹ نہیں تھے، کرکٹرز کا شکوہ

ماضی میں پاکستان کو عالمی فتوحات دلانے والے سب گریجویٹ نہیں تھے، کرکٹرز کا شکوہ۔ فوٹو: فائل

MANSEHRA:
کم تعلیم یافتہ کرکٹرز کو چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا بیان کھٹکنے لگا، ایک پلیئر کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان کو عالمی فتوحات دلانے والی ٹیموں کے تمام کھلاڑی گریجویٹ نہیں تھے، بورڈ کے سربراہ کو عوام میں اس طرٖح کی گفتگو نہیں کرنا چاہیے۔


تفصیلات کے مطابق جمعرات کو کوئٹہ میں بات کرتے ہوئے شہریارخان نے ایک بار پھر اپنا بیان دہرایا تھا کہ اس وقت ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کے علاوہ قومی ٹیم میں کوئی گریجویٹ کھلاڑی نہیں، پاکستان کرکٹ کی تباہی میں کھلاڑیوں کا غیر تعلیم یافتہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے، انڈر 19ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی ٹیم کا صرف ایک پلیئر انگریزی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا، انھوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم پر توجہ دینے کا مشورہ بھی دیا تھا،چیئرمین پی سی بی کے اس بیان کا سوشل میڈیا، ملکی وغیرملکی میڈیا اور بھارت میں بڑا چرچا رہا، قومی کرکٹرز کو ان کی باتیں کھٹکنے لگی ہیں۔

ایک کرکٹر کا کہنا ہے کہ کیا ماضی میں ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 ٹائٹلز اور سیریز جیت کر نئی تاریخ رقم کرنے والی ٹیموں میں شامل تمام کرکٹرز گریجویٹس تھے؟ انھوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کم پڑھے لکھے ہیں ان کی وجہ سے کرکٹ تباہ ہو رہی ہے، بیشتر کرکٹرز کا خیال ہے کہ شہریار خان کو عوام میں کھلاڑیوں کی تعلیم کے حوالے سے گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔یاد رہے کہ چیئرمین پی سی بی اس سے قبل بھی متعدد بار یہ کہتے رہے ہیں کہ کرکٹرز کے کم تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ڈسپلن اور دیگر مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں کرکٹ کے فروغ پر توجہ دینے سے پڑھے لکھے کھلاڑی سامنے آئیں گے۔
Load Next Story