واٹر بورڈ بغیر ٹینڈرنگ کے سرکاری ہائیڈرنٹس چلائے جانے کا انکشاف
2010میں طے شدہ پالیسی کے تحت شہر میں 15ہائیڈرنٹس ایک سال کیلیے قائم کیے گئے تھے، تاحال دوبارہ ٹینڈر نہیں ہوئے.
اگر شفافیت کے تحت ٹینڈرنگ کرائی جائے تو واٹربورڈ کوماہانہ کروڑوں روپے کی آمدنی ہوسکتی ہے،ذرائع فوٹو فائل
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ سیپرا قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر ٹینڈرنگ کے سرکاری ہائیڈرنٹس چلارہا ہے اگر اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے تو اہم انکشافات ہوسکتے ہیں۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایک طرف تو شہر میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی ہائیڈرنٹس کام کررہے ہیں جو کہ واٹربورڈ کا پانی کھلے عام چوری کرکے شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ اپنی آنکھیں بند رکھ کر سارا ملبہ پولیس پر گرادیتی ہے اور اپنے آپ کو بری الذمہ کرلیتی ہے، افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ واٹربورڈ کے باضابطہ حکم نامے سے چلنے والے ہائیڈرنٹس بھی غیرقانونی ہیں جو کہ ادارے کی طرف سے قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیے گئے ہیں، ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ جون 2010واٹربورڈ کی طرف سے جاری کردہ اشتہار میں کراچی میں 22 مقامات پر ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر طلب کیے گئے تاہم عدالت کے حکم امتناعی کے باعث چھ ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر منسوخ کردیے گئے۔
16 میں سے پندرہ ہائیڈرنٹس پر ٹھیکیداروں نے بولیاں لگائیں، ایک پر کسی نے حصہ نہیں لیا، اس طرح شہر میں پندرہ مقامات پر ٹینڈرنگ کے ذریعے سرکاری ہائیڈرنٹس قائم کردیے گئے، طے شدہ پالیسی کے تحت یہ پندرہ ہائیڈرنٹس ایک سال کے لیے قائم کیے گئے تھے جن کی دوبارہ تجدید نہیں ہوسکتی تھی اور قانون کے تحت دوبارہ کھولنے کی صورت میں ٹینڈر کرانا لازمی تھا تاہم ڈھائی سال ہوجانے کے باوجود ان ہائیڈڑنٹس کے دوبارہ ٹینڈر نہیں ہوئے یہ تمام ہائیڈرنٹس قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کام کررہے ہیں، 14 مارچ 2012کو ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فریدنے پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ ان ہائیڈرنٹس کے دوبارہ ٹینڈر کرائے جائیں گے مگر 8 ماہ گزر جانے کے باوجود ٹینڈرنگ نہیں کرائی جارہی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو ان ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر نہیں کرائے گئے جبکہ دوسری طرف تین ہائیڈڑنٹس چکرا ون ، چکرا ٹو اور صفورا گوٹھ ایک نوٹیفکیشن سے الاٹ کردیے گئے جبکہ صفورا گوٹھ پر جب ایک ہائیڈرنٹس کھولا جارہا تھا تو ایم ڈی نے اعلیٰ پولیس حکام سے کہا تھا کہ یہ تجاوزات قائم ہورہی ہیں ان کو ختم کیا جائے مگر بعد میں یہاں ہائیڈرنٹ قائم کرنے کا حیرت انگیز حکمنامہ جاری کردیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شفافیت کے تحت ٹینڈرنگ کرائی جائے تو واٹربورڈ کو ماہانہ کروڑوں روپے کی آمدنی ہوسکتی ہے مگر کرپٹ افسران اپنی جیبیں بھرنے کیلیے کسی طور پر ٹینڈر کرانے کو تیار ہی نہیں۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایک طرف تو شہر میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی ہائیڈرنٹس کام کررہے ہیں جو کہ واٹربورڈ کا پانی کھلے عام چوری کرکے شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ اپنی آنکھیں بند رکھ کر سارا ملبہ پولیس پر گرادیتی ہے اور اپنے آپ کو بری الذمہ کرلیتی ہے، افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ واٹربورڈ کے باضابطہ حکم نامے سے چلنے والے ہائیڈرنٹس بھی غیرقانونی ہیں جو کہ ادارے کی طرف سے قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیے گئے ہیں، ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ جون 2010واٹربورڈ کی طرف سے جاری کردہ اشتہار میں کراچی میں 22 مقامات پر ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر طلب کیے گئے تاہم عدالت کے حکم امتناعی کے باعث چھ ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر منسوخ کردیے گئے۔
16 میں سے پندرہ ہائیڈرنٹس پر ٹھیکیداروں نے بولیاں لگائیں، ایک پر کسی نے حصہ نہیں لیا، اس طرح شہر میں پندرہ مقامات پر ٹینڈرنگ کے ذریعے سرکاری ہائیڈرنٹس قائم کردیے گئے، طے شدہ پالیسی کے تحت یہ پندرہ ہائیڈرنٹس ایک سال کے لیے قائم کیے گئے تھے جن کی دوبارہ تجدید نہیں ہوسکتی تھی اور قانون کے تحت دوبارہ کھولنے کی صورت میں ٹینڈر کرانا لازمی تھا تاہم ڈھائی سال ہوجانے کے باوجود ان ہائیڈڑنٹس کے دوبارہ ٹینڈر نہیں ہوئے یہ تمام ہائیڈرنٹس قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کام کررہے ہیں، 14 مارچ 2012کو ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فریدنے پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ ان ہائیڈرنٹس کے دوبارہ ٹینڈر کرائے جائیں گے مگر 8 ماہ گزر جانے کے باوجود ٹینڈرنگ نہیں کرائی جارہی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو ان ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر نہیں کرائے گئے جبکہ دوسری طرف تین ہائیڈڑنٹس چکرا ون ، چکرا ٹو اور صفورا گوٹھ ایک نوٹیفکیشن سے الاٹ کردیے گئے جبکہ صفورا گوٹھ پر جب ایک ہائیڈرنٹس کھولا جارہا تھا تو ایم ڈی نے اعلیٰ پولیس حکام سے کہا تھا کہ یہ تجاوزات قائم ہورہی ہیں ان کو ختم کیا جائے مگر بعد میں یہاں ہائیڈرنٹ قائم کرنے کا حیرت انگیز حکمنامہ جاری کردیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شفافیت کے تحت ٹینڈرنگ کرائی جائے تو واٹربورڈ کو ماہانہ کروڑوں روپے کی آمدنی ہوسکتی ہے مگر کرپٹ افسران اپنی جیبیں بھرنے کیلیے کسی طور پر ٹینڈر کرانے کو تیار ہی نہیں۔