چاول قیمتوں کا معاملہ مشتہد میں پاکستانی ایکسپورٹرز گرفتار ایران کو برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ
2 گرفتاریوں کی تصدیق، پاسپورٹ ضبط کرلیے گئے، ایرانی قونصل کو آگاہ، پاکستانی وزارت تجارت سے مددمانگ لی
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا وفد ڈی ایٹ کانفرنس میں ایرانی وفد کے ساتھ معاملہ اٹھائے گا، جاویدغوری، ایران کو پھلوں کی برآمد بھی متاثر ہوسکتی ہے، ذرائع فوٹو : فائل
پاکستانی چاول کے ایکسپورٹرز کو ایران میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، مشہد میں پاکستانی چاول کا اسٹاک ضبط کیے جانے کے بعد پاکستانی ایکسپورٹرز کو گرفتار کرکے ان کے پاسپورٹ ضبط کرلیے گئے ہیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے حکومت سے مدد مانگتے ہوئے معاملہ سفارتی سطح پراٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے، پاکستانی رائس پراسیسنگ کمپنی ایم کے رائس کے ایران میں نمائندے عبدالبہادر کو گرفتار کر کے پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا ہے، پاکستانی سفارتخانے نے فارن آفس کو بذریعہ خط مطلع کرتے ہوئے رہائی کیلیے اقدامات کی سفارش کی ہے۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید غوری نے پاکستانی ایکسپورٹ کمپنی کے 2 نمائندوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان میں ایرانی قونصل سے رابطہ کر کے صورتحال اور پاکستانی ایکسپورٹرز کی تشویش سے آگاہ کیا جاچکا ہے اور پاکستانی وزارت تجارت سے بھی مدد مانگ لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد پاکستانی ایکسپورٹرز کیلیے لینڈڈ کاسٹ سے کم پر فروخت ممکن نہیں تاہم ایرانی حکام پاکستانی ایکسپورٹرز کو سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت پر چاول کی فروخت پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا ایک وفد ڈی ایٹ کانفرنس میں شریک ایرانی وفدسے ملاقات کرکے برادر اسلامی ملکوں کے درمیان تجارت کو درپیش اس مسئلے سے آگاہ کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایکسپورٹرز کی گرفتاری انسداد اسمگلنگ کے نام پر کی گئی ہے جس میں ایرانی حکام نے چاول کا اسٹاک رکھنے والی پاکستانی کمپنی سے چاول کی ملکیت اور کسٹم دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا مشہد میں پاکستانی چاول کے ویئرہائوس کو سیل کرنے اور ایکسپورٹرز کے نمائندوں کو گرفتار کیے جانے کے باوجود سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایران پر اقوام متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کے باعث آفیشل تجارت نہ ہونے کے برابر ہے اور زیادہ تر غیرسرکاری طور پر بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت جاری ہے، ایران میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی گرفتاری کے بعد ایران کو پھل اور اجناس برآمد کرنے والے ایکسپورٹرز میں تشویش پائی جاتی ہے اور چاول کے ساتھ پھلوں کی برآمد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے حکومت سے مدد مانگتے ہوئے معاملہ سفارتی سطح پراٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے، پاکستانی رائس پراسیسنگ کمپنی ایم کے رائس کے ایران میں نمائندے عبدالبہادر کو گرفتار کر کے پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا ہے، پاکستانی سفارتخانے نے فارن آفس کو بذریعہ خط مطلع کرتے ہوئے رہائی کیلیے اقدامات کی سفارش کی ہے۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید غوری نے پاکستانی ایکسپورٹ کمپنی کے 2 نمائندوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان میں ایرانی قونصل سے رابطہ کر کے صورتحال اور پاکستانی ایکسپورٹرز کی تشویش سے آگاہ کیا جاچکا ہے اور پاکستانی وزارت تجارت سے بھی مدد مانگ لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد پاکستانی ایکسپورٹرز کیلیے لینڈڈ کاسٹ سے کم پر فروخت ممکن نہیں تاہم ایرانی حکام پاکستانی ایکسپورٹرز کو سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت پر چاول کی فروخت پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا ایک وفد ڈی ایٹ کانفرنس میں شریک ایرانی وفدسے ملاقات کرکے برادر اسلامی ملکوں کے درمیان تجارت کو درپیش اس مسئلے سے آگاہ کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایکسپورٹرز کی گرفتاری انسداد اسمگلنگ کے نام پر کی گئی ہے جس میں ایرانی حکام نے چاول کا اسٹاک رکھنے والی پاکستانی کمپنی سے چاول کی ملکیت اور کسٹم دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا مشہد میں پاکستانی چاول کے ویئرہائوس کو سیل کرنے اور ایکسپورٹرز کے نمائندوں کو گرفتار کیے جانے کے باوجود سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایران پر اقوام متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کے باعث آفیشل تجارت نہ ہونے کے برابر ہے اور زیادہ تر غیرسرکاری طور پر بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت جاری ہے، ایران میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی گرفتاری کے بعد ایران کو پھل اور اجناس برآمد کرنے والے ایکسپورٹرز میں تشویش پائی جاتی ہے اور چاول کے ساتھ پھلوں کی برآمد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔