زرعی تجارت پروٹوکول کی روسی شرط ڈرافٹ پر پاکستان معترض
روسی ماہرین نے باغات کاجائزہ لے لیا، مخصوص نجی لیب کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیدیا۔
پروٹوکول کی عدم موجودگی میں پاکستانی کھیپ کی کڑی جانچ ہوگی، روسی حکام فوٹو: رائٹرز/ فائل
روس کے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان سے زرعی مصنوعات پھل سبزیوں اور چاول کی درآمد کیلیے دونوں ملکوں کے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے درمیان مشترکہ پروٹوکول کی شرط عائد کردی ہے جس کیلیے پاکستان میں مخصوص لیبارٹری کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
مذکورہ پروٹوکول کے مسودے پر پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن نے اعتراض کرتے ہوئے اسے متعلقہ وزارتوں کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔ پاکستان کا دورہ کرنے والے روسی قرنطینہ ماہرین کے وفد نے مختلف شہروں میں چاول، آلو، کینو اور آم کے باغات، پراسیسنگ فیکٹریوں اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے تحت قرنطینہ جانچ کے مراحل کا جائزہ لینے کیلیے تفصیلی دورہ کیا، دورے کے اختتام پر روسی ماہرین نے پاکستان کے زرعی شعبے کی سپلائی چین، فارم، فیکٹریوں اور ویئر ہائوسز میں بیماریوں کی روک تھام کیلیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم روس کو پاکستان سے پھل سبزیوں چاول کی برآمدات جاری رکھنے کیلیے دونوں ملکوں کے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے درمیان مشترکہ پروٹوکول کی شرط عائد کردی۔
وفاقی وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ پروٹوکول کے مسودے پر پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران کی جانب سے اعتراض کے بعد پروٹوکول کا مسودہ حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوسکا اور اس مسودے پر 10 دن میں غور کرکے متعلقہ وزارتوں سے منظوری کی صورت میں ہی معاہدے کی شکل دی جاسکے گی، روسی ماہرین کی جانب سے اس پروٹوکول کے مسودے کو معاہدے کی شکل دینے کیلیے بھرپور دبائو ڈالا جارہا ہے تاہم وزارت تجارت اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے روسی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی یکطرفہ شرائط منظور کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس پروٹوکول پر ہارٹیکلچر انڈسٹری کی جانب سے بھی اعتراض کیے جارہے ہیں جس کے بعد پروٹوکول کا کینو کے سیزن سے قبل طے ہونا مشکل ہوگیا ہے۔
وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ روسی حکام پاکستان میں نجی لیبارٹری کے سرٹیفکیٹ کو لازمی قراردینے کا مطالبہ کررہے ہیں، یہ لیبارٹری پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ میں رجسٹر نہیں ہے تاہم روسی حکام کا اصرار ہے کہ مذکورہ لیبارٹری پاکستان میں زرعی مصنوعات کی جانچ کیلیے جدید ترین سہولتوں کی حامل ہے اور ایک ہی ٹیسٹ کے ذریعے 24 سے زائد قسم کے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں بالخصوص اس لیبارٹری کے پاس مالیکیولر ٹیسٹ کی سہولتیں موجود ہیں، روسی حکام نے پاکستان کی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی لیبارٹری PCSIR کی سہولتوں کو بھی ناکافی قرار دے دیا ہے۔
یہ لیبارٹری لاہور میں ہے جبکہ پھل اور سبزیوں کی زیادہ تر ایکسپورٹ کراچی سے کی جاتی ہے جبکہ مذکورہ لیبارٹری کی مناپلی اور کراچی سے سیمپل لاہور بھیج کر تصدیق کرانے کا عمل وقت طلب اور برآمدی لاگت بڑھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہاہے۔ ذرائع نے بتایا کہ روس میں اس سال بھی سخت ترین سردی کا امکان ہے جس سے روس میں آلو کی طلب کئی گنا بڑھ جائے گی جسے پاکستان سے پورا کیا جا سکتا ہے تاہم روسی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پروٹوکول کی شرط کے باعث آلو کے ایکسپورٹرز خدشات کا شکار ہیں۔
ادھر روسی حکام نے واضح کیا ہے کہ پروٹوکول کی عدم موجودگی میں پاکستان سے روس برآمد کی جانے والی تمام کنسائمنٹس کو کڑی قرنطینہ جانچ سے گزرنا ہوگا اور کسی بھی قسم کی بیماری پائے جانے کی صورت میں کنسائنمنٹ ضبط اور برآمدات پر پابندی کا سامناہوگا۔ روسی حکام نے جون 2012 کے دوران بھی پاکستانی آلو کی کنسائمنٹ ضبط کرلی تھیں جن میں ارتھ وارم پائے جانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔
مذکورہ پروٹوکول کے مسودے پر پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن نے اعتراض کرتے ہوئے اسے متعلقہ وزارتوں کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔ پاکستان کا دورہ کرنے والے روسی قرنطینہ ماہرین کے وفد نے مختلف شہروں میں چاول، آلو، کینو اور آم کے باغات، پراسیسنگ فیکٹریوں اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے تحت قرنطینہ جانچ کے مراحل کا جائزہ لینے کیلیے تفصیلی دورہ کیا، دورے کے اختتام پر روسی ماہرین نے پاکستان کے زرعی شعبے کی سپلائی چین، فارم، فیکٹریوں اور ویئر ہائوسز میں بیماریوں کی روک تھام کیلیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم روس کو پاکستان سے پھل سبزیوں چاول کی برآمدات جاری رکھنے کیلیے دونوں ملکوں کے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے درمیان مشترکہ پروٹوکول کی شرط عائد کردی۔
وفاقی وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ پروٹوکول کے مسودے پر پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران کی جانب سے اعتراض کے بعد پروٹوکول کا مسودہ حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوسکا اور اس مسودے پر 10 دن میں غور کرکے متعلقہ وزارتوں سے منظوری کی صورت میں ہی معاہدے کی شکل دی جاسکے گی، روسی ماہرین کی جانب سے اس پروٹوکول کے مسودے کو معاہدے کی شکل دینے کیلیے بھرپور دبائو ڈالا جارہا ہے تاہم وزارت تجارت اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے روسی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی یکطرفہ شرائط منظور کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس پروٹوکول پر ہارٹیکلچر انڈسٹری کی جانب سے بھی اعتراض کیے جارہے ہیں جس کے بعد پروٹوکول کا کینو کے سیزن سے قبل طے ہونا مشکل ہوگیا ہے۔
وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ روسی حکام پاکستان میں نجی لیبارٹری کے سرٹیفکیٹ کو لازمی قراردینے کا مطالبہ کررہے ہیں، یہ لیبارٹری پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ میں رجسٹر نہیں ہے تاہم روسی حکام کا اصرار ہے کہ مذکورہ لیبارٹری پاکستان میں زرعی مصنوعات کی جانچ کیلیے جدید ترین سہولتوں کی حامل ہے اور ایک ہی ٹیسٹ کے ذریعے 24 سے زائد قسم کے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں بالخصوص اس لیبارٹری کے پاس مالیکیولر ٹیسٹ کی سہولتیں موجود ہیں، روسی حکام نے پاکستان کی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی لیبارٹری PCSIR کی سہولتوں کو بھی ناکافی قرار دے دیا ہے۔
یہ لیبارٹری لاہور میں ہے جبکہ پھل اور سبزیوں کی زیادہ تر ایکسپورٹ کراچی سے کی جاتی ہے جبکہ مذکورہ لیبارٹری کی مناپلی اور کراچی سے سیمپل لاہور بھیج کر تصدیق کرانے کا عمل وقت طلب اور برآمدی لاگت بڑھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہاہے۔ ذرائع نے بتایا کہ روس میں اس سال بھی سخت ترین سردی کا امکان ہے جس سے روس میں آلو کی طلب کئی گنا بڑھ جائے گی جسے پاکستان سے پورا کیا جا سکتا ہے تاہم روسی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پروٹوکول کی شرط کے باعث آلو کے ایکسپورٹرز خدشات کا شکار ہیں۔
ادھر روسی حکام نے واضح کیا ہے کہ پروٹوکول کی عدم موجودگی میں پاکستان سے روس برآمد کی جانے والی تمام کنسائمنٹس کو کڑی قرنطینہ جانچ سے گزرنا ہوگا اور کسی بھی قسم کی بیماری پائے جانے کی صورت میں کنسائنمنٹ ضبط اور برآمدات پر پابندی کا سامناہوگا۔ روسی حکام نے جون 2012 کے دوران بھی پاکستانی آلو کی کنسائمنٹ ضبط کرلی تھیں جن میں ارتھ وارم پائے جانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔