فیڈریشن حکمت عملی میں تجارتی اداروں سے مشاورت کرے
بھارتی مارکیٹس کے متعلق سروے اور تحقیقی رپورٹس تیار کی جائیں، پاکستانی ہائی کمشنر
بھارتی مارکیٹس کے متعلق سروے اور تحقیقی رپورٹس تیار کی جائیں، پاکستانی ہائی کمشنر فوٹو : فائل
بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنرسلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاکستانی کاروباری برادری کا نمائندہ ایف پی سی سی آئی پاک بھارت تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی حکمت عملی میں پاکستانی بزنس انسٹیٹیوٹس کو بھی آن بورڈ لے تاکہ پاکستانی معیشت کی ترقی کی بنیادیں مضبوط ہوسکیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں فیڈریشن کے صدر فضل قادرشیرانی کی قیادت میں تجارتی وفد سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ بھارتی چیمبرز آف کامرس اور دیگر تجارتی ادارے پاکستان میں تجارت وسرمایہ کاری کے رحجانات پر گہری تحقیق کررہے ہیں، پاکستانی تجارتی چیمبرز اور دیگر تنظیمیں دوطرفہ تجارت کے فوائد کو یقینی بنانے کیلیے بھارتی قوانین اور شعبہ جاتی بنیادوں پر مارکیٹ رحجان کے حوالے سے باقاعدہ سروے اور تحقیقی رپورٹس مرتب کریں تاکہ انہیں اس بات سے آگہی ہوسکے کہ باہمی تجارت میں فی الوقت کہاں رکاوٹ ہے اور مستقبل میں کونسی رکاوٹیں پیدا ہونے کے امکانات ہیں، ایف پی سی سی آئی اگر بھارت میں پاکستانی مصنوعات کے تعارف کیلیے سنگل کنٹری نمائش لگانے کی خواہشمند ہے تو پاکستانی ہائی کمیشن بھرپور تعاون کی پیشکش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں طویل دورانیے کے بعد نرمی آئی ہے جس کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب تجارت اور اقتصادی میدان میں تعاون کیلیے جوش و جذبہ ہے، پاکستانی حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کو نرم کرنے پر کام کررہی ہے لیکن اس میدان کے اصل کھلاڑی پاکستان کے بزنس ہاؤسز ہیں جنہیں اس میدان سے استفادہ کرنا ہوگا، پاکستانی تاجروں کو نمائشوں میں شمولیت اور اسپاٹ سیل کے ظاہری فائدے کے بجائے مربوط سپلائی چین پر کام کرنا ہوگا تاکہ طویل مدتی تجارتی تعلقات استوار ہوسکیں جس سے قومی فائدہ بھی ممکن ہو۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی مارکیٹ کا اپنا مخصوص رجحان ہے اور یہاں کے قوانین بھی انتہائی سخت ہیں لیکن بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کے خواہشمند پاکستانی تاجروں کو ان قوانین سے مکمل طور پر آگہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر جیسے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تجارتی توازن بھارت کے حق میں ہے جسے متوازن کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کیلیے تاجربرادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن بھی اس سلسلے میں ہرسطح پر معاونت کیلیے تیار ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں فیڈریشن کے صدر فضل قادرشیرانی کی قیادت میں تجارتی وفد سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ بھارتی چیمبرز آف کامرس اور دیگر تجارتی ادارے پاکستان میں تجارت وسرمایہ کاری کے رحجانات پر گہری تحقیق کررہے ہیں، پاکستانی تجارتی چیمبرز اور دیگر تنظیمیں دوطرفہ تجارت کے فوائد کو یقینی بنانے کیلیے بھارتی قوانین اور شعبہ جاتی بنیادوں پر مارکیٹ رحجان کے حوالے سے باقاعدہ سروے اور تحقیقی رپورٹس مرتب کریں تاکہ انہیں اس بات سے آگہی ہوسکے کہ باہمی تجارت میں فی الوقت کہاں رکاوٹ ہے اور مستقبل میں کونسی رکاوٹیں پیدا ہونے کے امکانات ہیں، ایف پی سی سی آئی اگر بھارت میں پاکستانی مصنوعات کے تعارف کیلیے سنگل کنٹری نمائش لگانے کی خواہشمند ہے تو پاکستانی ہائی کمیشن بھرپور تعاون کی پیشکش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں طویل دورانیے کے بعد نرمی آئی ہے جس کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب تجارت اور اقتصادی میدان میں تعاون کیلیے جوش و جذبہ ہے، پاکستانی حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کو نرم کرنے پر کام کررہی ہے لیکن اس میدان کے اصل کھلاڑی پاکستان کے بزنس ہاؤسز ہیں جنہیں اس میدان سے استفادہ کرنا ہوگا، پاکستانی تاجروں کو نمائشوں میں شمولیت اور اسپاٹ سیل کے ظاہری فائدے کے بجائے مربوط سپلائی چین پر کام کرنا ہوگا تاکہ طویل مدتی تجارتی تعلقات استوار ہوسکیں جس سے قومی فائدہ بھی ممکن ہو۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی مارکیٹ کا اپنا مخصوص رجحان ہے اور یہاں کے قوانین بھی انتہائی سخت ہیں لیکن بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کے خواہشمند پاکستانی تاجروں کو ان قوانین سے مکمل طور پر آگہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر جیسے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تجارتی توازن بھارت کے حق میں ہے جسے متوازن کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کیلیے تاجربرادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن بھی اس سلسلے میں ہرسطح پر معاونت کیلیے تیار ہے۔